جمعرات, اکتوبر 22, 2026
ہومٹیک اینڈ ٹیلی کامگوگل کے زیرِ اہتمام پاکستان کی ایپس اور گیمنگ انڈسٹری کو عالمی...

گوگل کے زیرِ اہتمام پاکستان کی ایپس اور گیمنگ انڈسٹری کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے تھنک ایپس 2026 کا انعقاد

گوگل کا تھنک ایپس 2026 پاکستان کی ایپ اور گیمنگ کمیونٹی کو یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل شاہی قلعہ لاہور میں یکجا کرتا ہے، جہاں صدیوں پر محیط ورثہ ایک ایسے ڈیجیٹل مستقبل کی تعمیر کا پس منظر بنتا ہے جو وقت کی کسوٹی پر پورا اترے۔

لاہور، 22 اکتوبر 2026:   لاہور میں گوگل کے زیر اہتمام تھنک ایپس 2026 (Think Apps 2026) کا انعقاد ہوا ، جس میں پاکستان کے نمایاں ایپ ڈویلپرز سمیت عالمی اور علاقائی انڈسٹری کے رہنماؤں اور ماہرین نے شرکت کی۔ایپس اور گیمنگ کی انڈسٹری کے اس سال کے سب سے بڑے ایونٹ میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ مصنوعی ذہانت (AI) پاکستانی اسٹوڈیوز کو عالمی مارکیٹ میں پائیدار ترقی حاصل کرنے میں کس طرح مدد دے سکتی ہے۔

پاکستانی ایپ اور گیمنگ اسٹوڈیوز عالمی سطح پر اپنی پہچان تیزی سے مستحکم کر رہے ہیں اور ملک سے باہر بھی لاکھوں صارفین تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ صرف گزشتہ 12 ماہ کے دوران مقامی ڈویلپرز کی تیار کردہ مصنوعات کو دنیا بھر میں 4.6 ارب مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔¹ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی یہ رسائی پاکستان کی ڈیجیٹل برآمدات میں اضافے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ خصوصاً مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار پیش رفت مقامی ڈویلپرز کے لیے اپنے کاروبار کو وسعت دینے، جدت لانے اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے نئے اور غیر معمولی مواقع پیدا کر رہی ہے۔

تقریب کے دوران ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے ایسے قابلِ عمل ٹولز، ترقی کی حکمتِ عملیوں اور آمدنی کے مؤثر ماڈلز پر روشنی ڈالی جو اسٹوڈیوز کو اپنے پروڈکشن کے عمل کو مؤثر بنانے، صارفین کی دلچسپی اور شمولیت بڑھانے اور زیادہ تجارتی مواقع کی حامل عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

پاکستان کی ڈیجیٹل برآمدات کا نیا دور

ابتدائی طور پر 30 سے بھی کم افراد پر مشتمل اس صنعت کا دائرہ اب وسیع ہو چکا ہے اور یہ 30 ہزار سے زائد پیشہ ور افراد کی معاونت کر رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار مقامی صلاحیتوں کے اس وسیع ذخیرے کی عکاسی کرتے ہیں، جس کی مدد سے عالمی صارفین کے لیے ڈیجیٹل مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔ گیم ڈسٹرکٹ (Game District) اور فن سول (Funsol) جیسے سرکردہ اسٹوڈیوز ایک پُرعزم ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی مثال ہیں، جس کی رسائی اور ترقی کا وژن پاکستان کی مقامی مارکیٹ  سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔

پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور فرنٹیئر مارکیٹس کے لیے گوگل کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی لاہور میں تھنک ایپس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈال رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کس طرح پاکستانی ڈویلپرز کو عالمی سطح پر مسابقتی کاروبار قائم کرنے اور ایک پائیدار ڈیجیٹل ورثہ تشکیل دینے میں مدد دے سکتی ہے۔

گوگل کے پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور فرنٹیئر مارکیٹس کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا، ’’پاکستانی ڈویلپرز کی عالمی سطح پر کامیابیاں ان کی اعلیٰ صلاحیتوں اور بلند عزائم کی عکاسی کرتی ہیں، جو ملک کے مقامی ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ڈویلپرز کو مصنوعی ذہانت کی جدید ترین صلاحیتوں سے لیس کرکے ہمارا مقصد اس پیش رفت کو مزید تیز کرنا ہے، تاکہ مقامی اسٹوڈیوز ایسی مصنوعات تیار کر سکیں جو عالمی سطح پر اپنی جگہ بنائیں، کاروبار کو پائیدار ترقی دیں اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں پاکستان کی حیثیت کو مزید مستحکم کریں۔‘‘

مصنوعی ذہانت سے ترقی کے نئے مواقع

یہ مواقع ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب بڑھتا ہوا مسابقتی دباؤ اور نئے صارفین کے حصول پر آنے والی لاگت ڈویلپرز کے لیے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کوڈنگ کے عمل کو تیز کرنے، تخلیقی  کنٹنٹ کی  تیاری بہتر بنانے اور صارفین کی بدلتی ضروریات کے مطابق ایپلی کیشنز تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، کامیابی کے لیے ان صلاحیتوں کو مصنوعات کے اعلیٰ معیار اور ایسے بہتر صارف تجربات کے ساتھ یکجا کرنا ضروری ہے جو لوگوں کی دلچسپی برقرار رکھیں۔

گوگل نے ’Build, Yield and Scale‘ روڈ میپ کے ذریعے ترقی کے اس پورے سفر میں ڈویلپرز کی معاونت کے مختلف طریقوں کو اجاگر کیا۔ گوگل کلاؤڈ AI (Google Cloud AI) اسٹوڈیوز کو اپنی مصنوعات تیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ گوگل ایڈز (Google Ads) اور ایڈ موب (AdMob) نئے صارفین تک پہنچنے اور ایپس کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے میں معاون ہیں۔ نئی کیٹیگریز میں توسیع صارفین تک رسائی بھی عالمی سطح پر کاروبار بڑھانے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ گوگل پلے (Google Play) کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد تین ارب سے تجاوز کرچکی ہے، جو ڈویلپرز کے لیے ممکنہ عالمی صارفین کی وسیع مارکیٹ کی نشاندہی کرتی ہے۔

پاکستان کی آئندہ نسل میں سرمایہ کاری

پاکستانی ڈویلپرز کی نئی نسل کو عالمی سطح پر مقابلے کے لیے تیار کرنا بھی گوگل کے عزم کا اہم حصہ ہے۔ کمپنی نے 2028 تک ایک لاکھ ڈویلپرز کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاکہ وہ جدید ایپس اور گیمز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔ اسی طرح، مقامی سطح پر پانچ لاکھ کروم بکس (Chromebooks) کی تیاری ممکن بنانے سے ڈیجیٹل تعلیم کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی وسیع کرنے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ، گوگل کے ڈیجیٹل پاسبان (Digital Pasban) پروگرام کے ذریعے دو لاکھ خاندانوں کو آن لائن تحفظ سے متعلق تربیت فراہم کی گئی ہے۔ یہ اقدامات نوجوان پاکستانیوں کو وہ مہارتیں، ٹیکنالوجی تک رسائی اور اعتماد فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں جن کی انہیں پاکستان اور بیرونِ ملک ڈیجیٹل معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین