کراچی: پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم و آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین (ستارہ امتیاز) نے کہا ہے کہ 24 ستمبر 2026ء کو روانڈا کے دارالحکومت کیگالی میں منعقدہ ’روانڈا پاکستان انویسٹمنٹ فورم‘ کے دوران طے پانے والا باہمی تجارتی و معاشی تعاون کا معاہدہ پاکستان کی معیشت کے لیے خوش آئند اور تاریخ ساز پیش رفت ہے۔ اس معاہدے پر روانڈا کے وزیر برائے تجارت و صنعت انٹون کاجنگوے اور روانڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر نعیم خان نے دستخط کیے، جس سے دونوں برادر ممالک کے مابین تجارتی رکاوٹیں دور کرنے، براہِ راست بزنس ٹو بزنس روابط کو فروغ دینے اور مشترکہ منصوبوں کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان اور افریقی ممالک کے مابین معاشی تعاون بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے اور روانڈا جیسے متحرک اور مستحکم معیشت کے حامل ملک سے شراکت داری پاکستان کی لک افریقہ پالیسی کو عملی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ میاں زاہد حسین نے اعداد و شمار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مالی سال 25-2024 میں پاکستان نے روانڈا سے تقریباً 33.94 ملین ڈالر کی اشیاء درآمد کیں، جبکہ روانڈا کو پاکستانی برآمدات صرف تقریباً 0.58 ملین ڈالر رہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کو تقریباً 33.36 ملین ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا رہا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کی چائے کی درآمدات کا ایک بڑا حصہ اب تک کینیا اور تیسرے فریق کے ذریعے پاکستان پہنچتا رہا ہے، جس کی وجہ سے لاگت میں اضافہ ہوتا تھا۔ اب نئے تجارتی فریم ورک کے تحت کینیا کے بجائے کیگالی سے کراچی براہِ راست چائے اور کافی کی تجارت ممکن ہوسکے گی جس سے نہ صرف تاجروں کے کروڑوں روپے بچیں گے بلکہ صارفین کو بھی مناسب قیمت پر اشیاء دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ روانڈا میں پاکستانی مصنوعات بالخصوص فارماسیوٹیکلز، ٹیکسٹائل و ملبوسات، باسمتی چاول، سرجیکل و میڈیکل آلات، کھیلوں کے سامان اور زرعی مشینری کی زبردست طلب موجود ہے، جسے پورا کر کے پاکستان اپنی برآمدات میں قلیل مدت میں 100 ملین ڈالر سے زائد کا فوری اضافہ کر سکتا ہے۔
میاں زاہد حسین نے خطے کے دیگر ممالک کا تقابل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالمی طاقتیں اور علاقائی حریف تیزی سے افریقی مارکیٹ پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں؛ بھارت کی افریقہ کے ساتھ سالانہ دوطرفہ تجارت 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، چین کا افریقی براعظم کے ساتھ تجارتی حجم 280 ارب ڈالر سے زائد ہے، جبکہ ترکیہ نے بھی افریقہ کے ساتھ اپنی تجارت 40 ارب ڈالر تک پہنچا دی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی پورے براعظم افریقہ کے ساتھ تجارت کا مجموعی حجم اب بھی صرف 4 سے 5 ارب ڈالر کے درمیان منجمد ہے، جو کہ افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ روانڈا اگرچہ 14 ملین آبادی کا حامل ملک ہے، مگر یہ ایسٹ افریکن کمیونٹی (EAC) کی 300 ملین اور افریقن کانٹینینٹل فری ٹریڈ ایریا (AfCFTA) کی 1.4 ارب آبادی اور 3.4 ٹریلین ڈالر معیشت کا سب سے اہم تجارتی گیٹ وے اور تقسیم کاری کا مرکز ہے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ ایگریمنٹ کے مطابق پاکستانی صنعت کار روانڈا میں سنگل پرائیویٹ یا جوائنٹ وینچرز کے تحت ویلیو ایڈیشن یونٹس اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک قائم کر سکتے ہیں، چونکہ روانڈا کو لیسٹ ڈیولپڈ کنٹری (LDC) کا درجہ حاصل ہے، جس کی وجہ سے وہاں تیار ہونے والی مصنوعات کو دنیا کی کئی بڑی منڈیوں میں ڈیوٹی فری رسائی اور کسٹم ٹیرف میں خصوصی رعایت حاصل ہوتی ہے اس طرح پاکستانی صنعت کار رعایتی کسٹم ٹیرف کے ساتھ پورے مشرقی افریقہ، وسطی افریقہ، یورپ اور دیگر ممالک تک اپنی مصنوعات باآسانی پہنچا سکیں گے اور اس اہم سہولت سے فائدہ اٹھا کر پاکستانی سرمایہ کار اپنی برآمدات کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔
میاں زاہد حسین نے حکومت اور اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ افریقی ممالک کے ساتھ تجارتی حجم بڑھانے کے لیے بینکنگ چینلز، کارگو و لاجسٹکس کے مسائل اور ادائیگیوں کے ترسیلی نظام کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، کیونکہ روانڈا کے لینڈ لاکڈ ہونے کے باعث درآمدات و برآمدات کے لیے موثر پورٹ روابط کا قیام ضروری ہے۔ میاں زاہد حسین نے راولپنڈی، لاہور اور کراچی کے چیمبرز اور برآمدی تنظیموں کو مشورہ دیا کہ وہ اکتوبر 2026ء میں پاکستان کا دورہ کرنے والے روانڈا کے تجارتی وفد کے ساتھ ٹھوس معاہدے کریں اور دونوں ممالک کے سرمایہ کاری بورڈ کی مشترکہ سہولت کاری سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تا که قومی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

