کراچی: پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی ستمبر 2026 کی ’’منتھلی ریویو آن پرائس انڈیسز‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق سالانہ مہنگائی کی شرح ستمبر 2025 کے مقابلے میں 10.3 فیصد رہنا عوام اور ملکی معیشت کے پیداواری شعبوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2026 کی 11.1 فیصد شرح کے مقابلے میں یہ کمی خوش آئند ہے، ستمبر 2026 میں ماہانہ بنیاد پر قیمتوں میں مزید 1.3 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ عام آدمی اور بزنس کمیونٹی پر مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔ میاں زاہد حسین نے مہنگائی کی شرح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کی بنیادی وجہ امریکہ-ایران جنگ ہے جس کی وجہ سے دنیا میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں شدید اتارچڑھاؤ ہو رہا ہے اور اس کے اثرات دنیا بھر میں اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورت میں نظر آرہے ہیں تاہم پاکستان میں ناکام سرکاری اداروں اور بجلی و گیس کے محکموں کے نقصانات کی وجہ سے مہنگائی کے اثرات زیادہ ہیں۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ منتھلی ریویوآن پرائس انڈیسز کے مطابق ستمبر 2026 میں سالانہ بنیاد پر بجلی کے بنیادی چارجز میں 32.46 فیصد، موٹر فیول میں 37.73 فیصد، گندم میں 40.96 فیصد اور آٹے میں 31.71 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ وہ بنیادی اخراجات ہیں جن سے عام آدمی ہی نہیں بلکہ خوشحال طبقے کے لیے بھی بچنا ممکن نہیں ہے۔ بجلی اور ایندھن مہنگا ہونے سے صنعتی پیداواری اخراجات کے ساتھ خام مال کی ترسیل، تیار مصنوعات کی سپلائی چین اور زرعی اجناس کو منڈیوں تک پہنچانے کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے محدود آمدنی والے گھرانے اپنی دیگر جائز ضروریات پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ ہول سیل پرائس انڈیکس کے مطابق سالانہ مہنگائی 13.3 فیصد تک پہنچنا صنعتی شعبے کے لیے ایک اور خطرے کی گھنٹی ہے۔ تھوک سطح پر مختلف اشیاء کی بڑھتی قیمتیں کاروبار جاری رکھنے کے لیے زیادہ ورکنگ کیپیٹل کی ضرورت پیدا کرتی ہیں، جبکہ صارفین کی کمزور پرچیزنگ پاور کے باعث صنعت کار اپنی پوری اضافی لاگت ریٹیل قیمت میں منتقل نہیں کرسکتے۔ اس صورتحال سے بالخصوص چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے منافع اور کاروباری تسلسل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اگر مہنگائی کا تسلسل اسی طرح برقرار رہا تو نئی مشینری میں سرمایہ کاری، پیداواری توسیع اور روزگار کی فراہمی بھی متاثر ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ریلیف دینے کے لیے وزیراعظم کی کی جانب سے پیٹرول میں سبسڈی فراہم کرنا انتہائی خوش آئیند ہے اسی طرح دیگر ضروری اشیا کی کم قیمت پر دستیابی پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں کو خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے حکومت توانائی کے شعبے کی اصلاحات کو تیز کرے اور بجلی چوری، لائن لاسز، ناقص وصولیوں، کپیسٹی چارجز اور انتظامی نااہلی کا بوجھ باقاعدہ بل ادا کرنے والی صنعتوں اور صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے ان مسائل کا فوری اور مستقل حل تلاش کرے۔ برآمدی صنعتوں کو مسابقتی نرخوں پر قابل اعتماد بجلی اور گیس کی فراہمی ضروری ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں اپنا حصہ برقرار رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں اور اضافی چارجز میں روز مرہ اضافہ کاروباری منصوبہ بندی کے لیےغیر یقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے اس لیے صنعتوں کو ایسا واضح ٹیرف نظام دیا جائے جس کی بنیاد پر وہ پیداواری لاگت، برآمدی آرڈرز اور سرمایہ کاری کے فیصلے طویل المدت بنیادوں پر کرسکیں۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ خوراک کی مہنگائی محدود کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ گندم، آٹے اور دیگر ضروری اجناس کے ذخائر، منڈیوں میں آمد و رفت اور طلب کے اعداد وشمار کی بنیاد پر درست فیصلے کیے جائیں جس کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ قائم کیا جائے تاکہ مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور غیر معمولی منافع خوری کے رجحانات ختم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اجناس کے بہتر اسٹوریج، خراب ہونے والی اشیاء کے لیے کولڈ اسٹوریج، ٹرانسپورٹ اور منڈیوں کے مؤثر نظام سے اجناس کے ضائع ہونے کےنقصانات اور آڑھتیوں کے ہوش ربا اخراجات کم کیے جاسکتے ہیں، جس کا فائدہ کسان اور صارف دونوں کو پہنچے گا۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنےکے بعد اب مائیکرو استحکام کے حصول کے لیے حکومتی کوششیں اسی وقت پائیدار نتائج دیں گی جب صنعتی پہیہ تیز ہوگا، برآمدات بڑھیں گی اور عوام کی حقیقی آمدنی بہتر ہوگی۔ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ٹارگٹڈ ریلیف کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ کپیسٹی چارجز، لائن لاسز، اور ناکام سرکاری اداروں پر غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کرکے وسائل کا رخ پیداواری شعبوں کی طرف موڑا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ مہنگائی پر قابو پانے کی حکمت عملی میں مالی نظم کے ساتھ توانائی اصلاحات، مضبوط سپلائی چین اور کاروبار کی لاگت میں کمی کو بنیادی ترجیح دی جائے تاکہ معاشی استحکام کے فوائد عام آدمی اور بزنس کمیونٹی تک پہنچ سکیں۔

