منگل, اکتوبر 20, 2026
ہومبزنسقطر سے ایل این جی کی فراہمی میں تعطل سے صنعتی پہیہ...

قطر سے ایل این جی کی فراہمی میں تعطل سے صنعتی پہیہ رکنے کا خطرہ ہے۔میاں زاہد حسین

کراچی: پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے قطر کی جانب سے ‘فورس میجر’ (Force Majeure) کے تحت پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی میں 5 نومبر تک تعطل پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ فورس میجر کے تحت کسی قدرتی آفت، حادثے یا ناگزیر ہنگامی حالات کی صورت میں فریقین اپنے معاہدے کی شرائط  پر عمل درامد کرنے کے پابند نہیں رہتے۔ میاں زاہد حسین  نے کہا کہ قطر دنیا کا 20 فیصد ایل این جی سپلائی کرتا ہے اور خبردار کیا ہے کہ گیس کی سپلائی میں مذکورہ تعطل سے صنعتوں کی سپلائی بھی متاثر ہوگی جس سے صنعتی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہونے کا امکان ہے اور یہ بحران ایک ایسے وقت میں سر اٹھا رہا ہے جب سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں گیس کی طلب عروج پر پہنچ جاتی ہے۔

میاں زاہد حسین نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ملک میں قدرتی گیس اور درآمدی ایل این جی کی مجموعی سالانہ طلب 1.27 سے 1.46 ٹریلین کیوبک فٹ رہی ہے۔ تاہم، گیس کی راشننگ اور پائپ لائنوں کی خامیوں کے باعث اصل سالانہ کھپت بمشکل 1.1 سے 1.2 ٹریلین کیوبک فٹ تک ہی محدود رہی ہے۔ عام حالات میں پاکستان سالانہ تقریباً 0.22 ٹریلین کیوبک فٹ ایل این جی قطر، نائجیریا، اٹلی، انڈونیشیا، عمان اور امریکہ  سے درآمد کرتا ہے، جس کے تحت ہر سال 110 سے 120 ایل این جی کارگو یا ماہانہ 10 جہاز پاکستان پہنچتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ رواں سال مارچ سے ستمبر 2026 کے درمیانی عرصے میں ایران-امریکہ جنگ کے باعث صورتحال اس قدر سنگین رہی کہ پاکستان مجموعی طور پر محض 17 ایل این جی کارگوز ہی حاصل کر سکا ہے، جبکہ آخری شپمنٹ 22 ستمبر 2026 کو قطر سے موصول ہوئی تھی۔ گیس کی اس شدید قلت نے پاکستان کو یومیہ 400 ملین کیوبک فٹ (MMcf/d) ایل این جی کی قلت سے دوچار کر دیا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ سردیوں میں بجلی کی پیداوار اور صنعتوں کے لیے گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمیں معمول کے مقابلے میں ماہانہ کم از کم 4 ایل این جی کارگوز کے شارٹ فال کا سامنا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ ملکی بجلی کی پیداوار، مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ برآمدی صنعتیں، اپنے پلانٹس چلانے کے لیے گیس کی بلا تعطل فراہمی پر انحصار کرتی ہیں۔ ہماری صنعتیں پہلے ہی کاروبار کی بلند لاگت کی وجہ سے عالمی منڈی میں بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ایل این جی کی فراہمی میں متوقع کٹوتی کے نتیجے میں پاکستانی فیکٹریاں اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہو جائیں گی، جس سے نہ صرف پیداواری عمل میں کمی بلکہ برآمدی شپمنٹس میں بھی تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستانی ایکسپورٹرز اپنے بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے اور آرڈرز منسوخ ہوئے، تو اس سے پاکستان کی ایکسپورٹ پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ وزارتِ توانائی اور پیٹرولیم ڈویژن پہلے بھی اوپن مارکیٹ سے اسپاٹ کارگوز خریدتی رہی ہے اور موجودہ صورتحال کے پیش نظرملکی گیس کی طلب و رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ سے ایل این جی کے اسپاٹ کارگوز خریدنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قلیل مدتی بنیادوں پر اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی گیس کی خریداری کے باعث کاروباری لاگت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم صنعتی سرگرمیوں میں ممکنہ تعطل، پیداواری صلاحیت کے محدود ہونے اور برآمدات پر پڑنے والے اثرات کا ازالہ اس عارضی لاگت کے مقابلے میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے حکومت کو گیس کی فراہمی کے ترجیحی طریقہ کار پر عمل درآمد جاری رکھنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب ملکی ذخائر اور درآمد شدہ ایل این جی کو صنعتی عمل اور برآمدی شعبے کی ترجیحی ضروریات کے مطابق بروئے کار لانا چاہیے تاکہ قومی معیشت کی رفتار برقرار رہے اور وسائل کے استعمال میں معاشی ترجیحات کو مؤثر بنایا جا سکے۔ 

میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت کی جانب سے میکرو اکنامک استحکام کے لیے کی جانے والی کوششیں خوش آئند ہیں، جن کے نتیجے میں پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر بہتر ہو رہے ہیں اور خطے میں حالیہ جنگ کے باوجود پاکستان کی معاشی اور سفارتی کارکردگی دنیا بھر میں تسلیم کی گئی ہے۔ موجودہ صورتحال میں صنعتی پہیہ بھرپور طریقے سے چلانا ہی اصل کامیابی ہے بزنس کمیونٹی کو یقین ہے کہ حکومت فوری طور پر متبادل ایل این جی سپلائی کو یقینی بنائے گی اور توانائی کے اس بحران میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کی قربانی نہیں دی جائے گی۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین