اسلام آباد، 17 اکتوبر 2026: کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے سرکاری خریداری میں بولیوں کی ملی بھگت کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی بڈ رگنگ ڈیٹیکشن سسٹم (بی آر ڈی ایس) تیار کرلیا ہے۔
یہ نظام پروکیورمنٹ ڈیٹا کی جانچ کرکے مشتبہ بولیوں اور ممکنہ گٹھ جوڑ کو تحقیقات کے لیے نشان دہی کرے گا۔ پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار کا اندازاً 15 سے 20 فیصد، یعنی تقریباً 60 ارب ڈالر سالانہ، اشیا، تعمیراتی کاموں اور خدمات کی سرکاری خریداری پر خرچ ہوتا ہے۔
چیئرمین سی سی پی فرید احمد تارڑ نے کہا کہ کھربوں روپے کی سرکاری خریداری کی نگرانی صرف شکایات اور انفرادی ٹینڈرز کی دستی جانچ سے ممکن نہیں۔ بی آر ڈی ایس بڑے ڈیٹا سیٹس میں چھپے پیچیدہ رجحانات کی نشاندہی کرکے تحقیقاتی وسائل کو زیادہ خطرے والے معاملات پر مرکوز کرنے میں مدد دے گا۔
اس اقدام کو عالمی پذیرائی ملی ہے۔ بی آر ڈی ایس کو اسٹینفورڈ کمپیوٹیشنل اینٹی ٹرسٹ کی ’’کمپیوٹیشنل اینٹی ٹرسٹ ورلڈ وائیڈ: ففتھ کراس ایجنسی رپورٹ‘‘ میں شامل کیا گیا ہے، جس میں 30 اداروں کے تجربات پیش کیے گئے ہیں۔
نظام تیاری اور قبل از نفاذ انتظامات کے پیش رفتہ مرحلے میں ہے۔ اس کے نفاذ اور ڈیٹا انضمام کے لیے وفاقی و صوبائی پروکیورمنٹ اتھارٹیز اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ ادارہ جاتی مفاہمت طے پا چکی ہے۔
اس نظام کے الرٹس کسی خلاف ورزی یا کارٹل کا حتمی تعین نہیں ہوں گے بلکہ تحقیقاتی سراغ سمجھے جائیں گے۔ ہر الرٹ کی آزادانہ تصدیق، شواہد جمع کرنے اور کمپٹیشن ایکٹ 2010ء کے تحت قانونی جانچ ضروری ہوگی۔
رپورٹ سوشل سائنس ریسرچ نیٹ ورک پر دستیاب ہے۔ فعال ہونے کے بعد بی آر ڈی ایس منصفانہ مسابقت، کارٹلائزیشن کے خلاف کارروائی اور عوامی وسائل کے بہتر استعمال میں مدد دے گا۔

