کراچی: پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جاری کردہ ستمبر 2026 کی برآمدی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی تا ستمبر برآمدات میں 11.13 فیصد اضافہ اور ان کا حجم 8.445 ارب ڈالر تک پہنچنا خوش آئند ہے، تاہم یہ اضافہ چند شعبوں تک محدود ہے جبکہ متعدد اہم شعبوں کی برآمدات میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برآمدات میں بحالی کے ثمرات تمام شعبوں تک یکساں طور پر نہیں پہنچ رہے اس لیے ضروری ہے کہ حکومت ہر شعبے کے مسائل کے مطابق اقدامات کرے تاکہ مجموعی بہتری کو مختلف سیکٹرز کی پائیدار برآمدی ترقی میں تبدیل کیا جاسکے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ ستمبر2026 میں برآمدات 2.961 ارب ڈالر رہیں، جو ستمبر 2025 کے مقابلے میں 18.48 فیصد اور اگست 2026 کے مقابلے میں 16.92 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار بہتر ہوتی ہوئی کارکردگی کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ایک ماہ کی تیز بہتری کو مستقل بحالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فارماسیوٹیکل کی برآمدات اس کی واضح مثال ہیں، جن کی برآمدات ستمبر میں اگست کے مقابلے میں 35.69 فیصد بڑھی، لیکن گزشتہ سال 2025 کے ستمبر سے اب بھی 22.46 فیصد کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جولائی تا ستمبر 2026 میں ٹیکسٹائل برآمدات 5.26 فیصد بڑھ کر 5.026 ارب ڈالر ہوگئیں۔ ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات میں 15.69 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سوتی کپڑے کی برآمدات 5.34 فیصد کم ہوگئیں۔ غذائی برآمدات میں 25.31 فیصد اضافہ ہوا، تاہم اس سیکٹر کی اضافی برآمدی آمدن کا تقریباً 83 فیصد چاول سے حاصل ہوا۔ دوسری جانب پھلوں کی برآمدات 30.62 فیصد اور سبزیوں کی برآمدات 20.48 فیصد کم ہوئیں۔ ان مختلف رجحانات سے واضح ہے کہ مجموعی برآمدی آمدن میں اضافہ بعض سیکٹرز کی کمزوری کو چھپا رہا ہے، اس لیے تمام سیکٹرز کے لیے یکساں حکمت عملی کے بجائے ان کی ضروریات کے مطابق ٹارگیٹڈ اقدامات کیے جائیں۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ ستمبر 2026 میں پاکستان کی افغانستان کو برآمدات میں کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ افغانستان کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات، افغانستان کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں سرحدی جھڑپیں اور پاکستان کی جانب سے اہم تجارتی گزرگاہوں کی بندش ہے۔ مالی سال 25-2024 میں پاکستان نے افغانستان کو 783.95 ملین ڈالر کی برامدات کیں جو مالی سال 26-2025 میں 68.91 فیصد کمی سے 243.69 ملین ڈالر رہ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق فارماسیوٹیکل کی برآمدات مالی سال 25-2024 کے 457.46 ملین ڈالر سے 30.26 فیصد کم ہوکر مالی سال 26-2025 میں 319.01 ملین ڈالر رہ گئیں۔ یہ صورتحال جولائی تا ستمبر 2026 میں بھی برقرار رہی، جب برآمدی آمدن 25.53 فیصد کم ہوکر 73.30 ملین ڈالر ہوگئی، جبکہ اکتوبر کی سرحدی بندش سے پہلے جولائی تا ستمبر 2025 میں یہ آمدن 98.43 ملین ڈالر تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کی ’’مانیٹری پالیسی رپورٹ، فروری 2026‘‘ میں بھی مغربی سرحد کی طویل بندش کو افغانستان اور وسط ایشیائی منڈیوں کے لیے ادویات کی برآمدات میں رکاوٹ قرار دیا گیا تھا۔
میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا ک کولڈ اسٹوریج، تیز کلیئرنس اور نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے پاکستان میں ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن کی سہولتیں مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ ملک میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ لیبارٹریز پہلے سے موجود ہیں، تاہم ان کی صلاحیت اور ایکریڈیٹیشن میں متعلقہ منڈیوں کے مطلوبہ مخصوص ٹیسٹ بھی شامل ہونے چاہییں۔ حکومت زرعی ادویات کی باقیات، آلودہ اجزا اور غذائی تحفظ کی جانچ کو ترجیح دے اور یورپین یونین، خلیجی ممالک اور چین کے متعلقہ اداروں اور خریداروں سے ان ٹیسٹ رپورٹس کی قبولیت یقینی بنانے کے لیے کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں مقامی صلاحیت ناکافی ہو، وہاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ٹیسٹنگ اداروں کو پاکستان میں منظور شدہ لیبارٹریاں یا مشترکہ منصوبے قائم کرنے کی ترغیب دی جائے، جن کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی عملے کی ٹریننگ بھی شامل ہو۔ اس سے خصوصاً چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے بیرون ملک ٹیسٹنگ کے اخراجات، بار بار جانچ اور شپمنٹس میں تاخیر کم ہوسکتی ہے۔ فارماسوٹیکل کمپنیز کو بھی تسلیم شدہ معیار کی جانچ، بیرون ملک مصنوعات کی رجسٹریشن اور متعلقہ ضابطوں کی تکمیل میں معاونت فراہم کی جائے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز فوری جاری کیے جائیں اور برآمد کنندگان کو بجلی اور گیس کے مسابقتی نرخ فراہم کیے جائیں۔ حکومتی معاونت کو ویلیو ایڈیشن، پیداواری صلاحیت میں بہتری اور نئی منڈیوں تک رسائی سے منسلک کیا جائے۔ برآمدی منڈیوں، مقدار اور ایکسپورٹس کی آمدن کی نگرانی کے لیے ڈیش بورڈ قائم کیا جائے تاکہ عارضی اضافے اور حقیقی مسابقتی بہتری میں فرق واضح ہوسکے۔ ستمبر 2026 کے اعداد و شمار محتاط امید کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، تاہم پائیدار بحالی کے لیے زیادہ مصنوعات، کاروباروں اور منڈیوں تک رسائی میں بہتری ضروری ہے

