کراچی،15جون، 2026: نٹ شیل گروپ نے ایم اینڈ پی گروپ کے ساتھ نئی اسٹریٹجک شراکت داری کرلی ہے، جس کا مقصد اپنی عالمی فکری قیادت اور اقتصادی تعاون کے پلیٹ فارم ”دی گلوبل کنیکٹ“ کو مستحکم بنانا ہے۔ اس شراکت داری کا اعلان قاہرہ میں منعقدہ MOSAIC FORUM کے موقع پر کیا گیا، جہاں عالمی اور علاقائی رہنما سرمایہ کاری، پالیسی سازی، عوامی امور اور علاقائی تعاون سے متعلق اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کے لیے جمع ہوئے تھے۔
فروری 2026 میں نٹ شیل گروپ کے تحت شروع کیے گئے THE GLOBAL CONNECT کا مقصد ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں کے فیصلہ سازوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں بامقصد مکالمے کو طویل المدتی حکمت عملیوں، مضبوط شراکت داریوں اور عالمی سطح پر موثر تعاون میں تبدیل کیا جاسکے۔ یہ پلیٹ فارم پالیسی سازوں، عالمی کاروباری اداروں کے سربراہان، ریگولیٹری حکام، سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے کے رہنماؤں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے، تاکہ قابل عمل تجاویز اور مشترکہ حل کے ذریعے پائیدار ترقی اور دیرپا مثبت اثرات کو فروغ دیا جاسکے۔
ایم اینڈ پی گروپ کی شمولیت کے بعد ”دی گلوبل کنیکٹ“ کے بین الاقوامی نیٹ ورک کو مزید وسعت ملے گی، جبکہ سرحد پار تعاون کو فروغ دینے اور مشرقِ وسطیٰ، افریقہ سمیت دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ روابط کو مزید مستحکم بنایا جاسکے گا۔
نٹ شیل گروپ کے بانی و چیئرمین محمد اظفر احسن نے کہا، ”دی گلوبل کنیکٹ“ کا مقصد بامعنی مکالمے کو عملی اقدامات میں ڈھالنا ہے۔ ایم اینڈ پی گروپ کی شمولیت سے یہ پلیٹ فارم مزید مستحکم ہوگیا ہے، جس کے ذریعے سرمایہ کاری، کاروباری اشتراک اور پالیسی سطح پر تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ بالخصوص ان خطوں میں جو عالمی معیشت کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔“
یہ شراکت داری ویون (VEON) کے ”Invest in Pakistan” اقدام کو بھی مستحکم بناتی ہے، جس کا مقصد پاکستان کو ڈیجیٹل سرمایہ کاری اور طویل المدتی ترقی کے لیے ایک پرکشش اور مسابقتی ملک کے طور پر پیش کرنا ہے۔
اس اشترک کے ذریعے زیادہ مواقع کی حامل منڈیوں کے درمیان سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ڈیجیٹل، توانائی، ٹیکنالوجی اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحد پار پالیسی مکالمے کو پائیدار بنا کر اقتصادی سفارت کاری (economic diplomacy) میں معاونت کی جائے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ و دیگر خطوں میں قیادت کے تبادلے اور وفود کے دوروں میں بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔
ایم اینڈ پی گروپ کے چیئرمین مصطفی محرم نے کہا، ”ہم اس اقدام کا حصہ بن کر ”دی گلوبل کنیکٹ“ کو مزید مستحکم بنانے پر خوش ہیں۔ ہمارا مشترکہ مقصد مختلف خطوں میں سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور پالیسی سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا اور باہمی ترقی کے امکانات کو فروغ دینا ہے۔“
”دی گلوبل کنیکٹ“ کا پہلا ایڈیشن رواں سال اسلام آباد میں ہوگا، جس میں 30 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے رہنما شریک ہوں گے۔ اس موقع پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کو مستحکم بنانے، سرحد پار تعاون کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے بعد عالمی سطح پر یہ ایونٹ ریاض، ابوظہبی، نیویارک، لندن، ہانگ کانگ، استنبول اور قاہرہ میں ہوگا۔

