بدھ, جون 17, 2026
ہومUncategorizedسروس لانگ مارچ ٹائر آئندہ مالی سال کے دوران ایک ارب ڈالر...

سروس لانگ مارچ ٹائر آئندہ مالی سال کے دوران ایک ارب ڈالر کی برآمدات کرے گی۔ عمر سعید

سروس لانگ مارچ کا نیا پلانٹ آئندہ سال دسمبر تک مکمل ہوجائے گا۔ دی نیوز آئیز سے خصوصی بات چیت

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں لسٹنگ کرانے والی کمپنی سروس لانگ مارچ ٹائرز کے چیف ایگزیکٹو عمر سعید نے دی نیوز آئیز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تیار ہونے والے ٹرک ٹائرز کی طلب پریمیم مارکیٹس میں ہے۔ رواں مالی سال 70 کروڑ ڈالر مالیت کے ٹائر برآمد کیئے ہیں۔ اور امید ہے کہ آئندہ مالی سال سروس لانگ مارچ ایک ارب سے زائد برآمدات کرنے والی کمپنی بن جائے گی۔

پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں سروس لانگ مارچ ٹائرز کے حصص کی ٹریڈنگ کے آٓغاز کی تقریب میں دی نیوز آئیز سے بات چیت کرتے ہوئے عمر سعید نے کہا کہ سروس لانگ مارچ نے اب تک 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اور مذید 12 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جارہی ہے۔ جس کے لئے سرمایہ حصص کی اولین عوامی فروخت سے حاصل کیا ہے۔ اس طرح مجموعی سرمایہ کار 42 کروڑ ڈالر ہوجائے گی۔

 دنیا میں ٹائر بنانے کی جو بھی جدید ترین ٹیکنالوجی ہے وہ پاکستان میں سروس لانگ مارچ کے پاس ہے۔ اور اسی لئے یہ ٹائر امریکا اور برازیل جیسی پریمیم مارکیٹس میں فروخت ہورہے ہیں۔ اور انہیں افریقا جیسی سستی اور کم مارجن والی مارکیٹس میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں کہا کہ وہ اپنی مجموعی پیداوار کا 40 فیصد برآمد کررہے ہیں اور 60 فیصد پاکستانی میں فروخت کرتے ہیں۔ مگر ان کے ٹائرز کی طلب انتی ہے کہ تمام کے تمام کو برآمد کیا جاسکے۔ اگر پاکستان میں دن میں 10 ٹائر فروخت ہوتے ہیں تو اس میں سے ہر چھٹا ٹائر سروس کا ہے۔ سروس لانگ مارچ سالانہ دو ملین ٹائر بنائے گی۔

مستقبل کے منصوبوں اور خصوصا حصص کی اولین عوامی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے استعمال پر بات کرتے ہوئے عمر سعید نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے اس وقت صرف ٹرک کے ٹائر بنانے کا پلانٹ لگایا ہے۔ اور اس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اب کاروں اور ایس یو ویز کے ٹائر بنانے کا کارخانہ لگانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اور حصص کی اولین عوامی فروخت سے حاصل ہونے والے فنڈز کے زریعے یہ کارخانہ لگایا جائے گا۔

عمر سعید نے بتایا کہ کاروں اور ایس یو وی کے ٹائر بنانے کا کارخانہ بھی موجودہ کارخانے سے متصل نوریا آباد کے مقام پر لگایا جائے گا۔ اس کارخانے کے مکمل ہونے میں ڈیڑھ سال کا عرصہ کار ہوگا اور امید ہے کہ دسمبر 2027 تک یہ مکمل جائے گا۔ اور اس کارخانے کی پیداوار شروع کرنے کے ایک سال بعد ٹائرز کی مکمل رینج تیار ہوگی۔ اور سروس لانگ مارچ کے پاس چھوٹی سے چھوٹی کاڑی سےلے کر ایس یو وی گاڑی تک کے ٹائرز دسیتاب ہونگے۔

عمر سعید کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹائربنانے کے لئے بہت ساز گار ماحول ہے۔ سب سے بڑی وجہ سستی افرادی قوت اور توانائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین میں افرادی قوت مہنگی ہورہی ہے۔ مگر پاکستان میں ابھی یہ بہت سستی ہے۔ مگر اس لیبر کے سستا ہونے کے باوجود اس کی کارکردگی عالمی معیار کے مطابق رکھنے کے لئے انہیں چینی ماہرین سے تربیت کرائی گئی ہے۔

سستی بجلی کے بارے میں عمر سعید نے بتایا کہ نوریا آباد کے قریب ہوا سے بجلی بنانے کا کوریڈور موجود ہے۔ اس لئے کمپنی نے اپنی ونڈ ملز لگائی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ دن کے وقت بجلی کے لئے شمسی توانائی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ جس سے بجلی کی لاگت بہت کم ہوگئی ہے۔ اور گرڈ سے بہت کم بجلی حاصل کررہے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں بجلی کی وہی لاگت پڑ رہی ہے جو کہ چین میں ہے۔ ٹائر ٹیکنالوجی پر بات کرتے ہوئے عمرسعید کا کہنا تھا کہ اس وقت زیادہ تر بغیر ٹیوب والے ریڈیئل ٹائر ہی استعمال ہورہے ہیں۔ کیونکہ ان کی لائف ٹیوب والے ٹائر سے زیادہ ہوتی ہے اور یہ ٹائر ایندھن کی بچت بھی کرتے ہیں۔ اس لئے اب ریڈیئل ٹائر ہی زیادہ استعمال ہورہے ہیں۔ ٹیوب والے ٹائرز کی مارکیٹ محض 10 فیصد یا اس سے بھی کم رہی گئی ہے۔  

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین