کراچی، 20 اکتوبر 2026: آکسفورڈ اے کیو اے اور کراچی گرامر اسکول کے زیراہتمام ”کے جی ایس ویلنیس کنیکٹ 2026“ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجتماع تھا، جس کراچی کے 28 اسکولوں سے 57 سے زائد کاؤنسلرز شریک ہوئے۔ اس اجتماع کا مقصد طلبہ کی فلاح و بہبود اور اسکولوں میں کاؤنسلنگ کے حوالے سے تجربات اور خیالات کا تبادلہ کرنا تھا۔ اس پروگرام میں شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور اسکولوں میں طلبہ کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کے لیے موثر اور قابلِ عمل طریقوں پر تبادلہ خیال کا موقع ملا۔
تعلیم کے شعبے میں طلبہ کی فلاح و بہبود کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر اس تقریب میں اسکولوں کو درپیش چیلنجز اور مواقعوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین کی زیرنگرانی مباحثوں، ورکشاپس اور باہمی مشاورت کی نشستوں میں شرکاء نے غور کیا کہ کاؤنسلنگ، ذہنی صحت سے متعلق معاونت اور طلبہ کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے والے اقدامات کے ذریعے کس طرح ایسا مثبت تعلیمی ماحول کیسے تشکیل دیا جا سکتا ہے، جہاں طلبہ نہ صرف تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں بلکہ اپنی ذاتی صلاحیتوں کو بھی بھرپور انداز میں پروان چڑھاسکیں۔
تقریب کے دوران آکسفورڈ اے کیو اے نے امتحانات کے دباؤ سے نمٹنے کے موضوع پر ایک خصوصی نشست بھی منعقد کی، جس میں امتحانات کے سبب پیدا ہونے والے دباؤ سے نمٹنے میں طلبہ کی مدد کرنے اور ان کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ نشست میں اس بات پر زور دیا گیا کہ طلبہ کی معاونت صرف ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کی مجموعی فلاح و بہبود کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ آکسفورڈ اے کیو اے کا ماننا ہے کہ طلبہ اسی وقت بہتر تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں جب انہیں مناسب رہنمائی اور معاونت حاصل ہو، ان میں خود اعتمادی ہو اور وہ اپنے تعلیمی سفر میں پیش آنے والے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آکسفورڈ اے کیو اے پاکستان کی ڈائریکٹر سلمیٰ عادل نے کہا، ”طلبہ کی فلاح و بہبود معیاری اور بامقصد تعلیم کا لازمی حصہ ہے۔ تعلیمی کامیابی یقیناً اہم ہے، لیکن طلبہ اس وقت بہتر کارکردگی دکھاسکتے ہیں جب انہیں مناسب معاونت میسر ہو، ان کے احساسات اور مسائل کو سمجھا جائے اور وہ کلاس روم کے اندر اور باہر پیش آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہوں۔ کے جی ایس ویلنیس کنیکٹ جیسے اقدامات ماہرین تعلیم اور طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے افراد کو اپنے خیالات اور تجربات کے تبادلے، ایک دوسرے سے سیکھنے اور طلبہ کی بہتر معاونت کے لیے عملی طریقے تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ آکسفورڈ اے کیو اے کو ان اہم موضوعات پر مکالمے میں حصہ لینے اور ایسی کوششوں کی حمایت کرنے پر خوشی ہے جو طلبہ کی فلاح و بہبود کو تعلیمی عمل کا لازمی حصہ سمجھتی ہیں۔“
کے جی ایس ویلنیس کنیکٹ میں آکسفورڈ اے کیو اے کی شرکت اس کے اس عزم کی عکاس ہے کہ وہ بامقصد مکالمے، ایک دوسرے سے سیکھنے اور ایسے اقدامات کے ذریعے تعلیمی برادری کی معاونت جاری رکھے گا جو طلبہ کی فلاح و بہبود، ان کی انفرادی نشوونما اور تعلیمی کامیابی کے باہمی تعلق کو اہمیت دیتے ہیں۔ آکسفورڈ اے کیو اے ایسے مکالموں کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے جو اسکولوں کو طلبہ کی بدلتی ہوئی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھیں اور ایسا سازگار ماحول فراہم کرنے میں مدد دیں جہاں نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تعلیمی اور ذاتی زندگی میں کامیابی حاصل کر سکیں۔

