جمعہ, اکتوبر 23, 2026
ہومبزنسمؤثر نگرانی اور شفاف قیمتوں کے ذریعے موسم سرما میں گیس بحران...

مؤثر نگرانی اور شفاف قیمتوں کے ذریعے موسم سرما میں گیس بحران کو روکا جائے: میاں زاہد حسین

کراچی: پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک کے مختلف بازاروں میں ایل پی جی کی قیمت 500 سے 600 روپے فی کلو تک پہنچنا عوام اور کاروباری طبقے کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے، جبکہ اوگرا نے اکتوبر کے لیے قیمت 279.34 روپے فی کلو مقرر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی درآمدی ایل این جی کی فراہمی میں تعطل اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کررہا ہے۔ اکتوبر میں ایل این جی کی ایک کھیپ کی آمد سے کچھ ریلیف ملا ہے، تاہم موسم سرما کے لیے مسلسل فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ پائپ لائن گیس کی بندش سے گھریلو اور تجارتی صارفین ایل پی جی کی طرف رجوع کرتے ہیں، اس لیے اس متبادل ایندھن کی مہنگائی اور قلت توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کے سرکاری اور بازاری نرخوں میں اتنا بڑا فرق رسد، تقسیم اور نگرانی کے نظام کی فوری اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ ستمبر میں ایل پی جی کی سرکاری قیمت 258.65 روپے فی کلو تھی، جو اکتوبر میں تقریباً 8 فیصد اضافے سے 279.34 روپے ہوئی۔ اس کے مقابلے میں 500 روپے کا بازاری نرخ اکتوبر کی نوٹیفائیڈ قیمت سے تقریباً 79 فیصد اور 600 روپے کا نرخ 114.8 فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ موجودہ مہنگائی کو صرف سرکاری قیمت کے ماہانہ اضافے سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ سپلائی چین رکاوٹوں، درآمدی و ترسیلی اخراجات اور تقسیم کے مختلف مراحل پر وصول کیے جانے والے منافع کا الگ الگ جائزہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت ستمبر کے 3,052.09 روپے سے صرف 244.14 روپے بڑھ کر اکتوبر میں 3,296.23 روپے ہوئی ہے۔ تاہم 500 سے 600 روپے فی کلو کے نرخ پر اتنی ہی مقدار کی قیمت 5,900 سے 7,080 روپے بنتی ہے۔ یوں صارفین کو ایک سلنڈر پر سرکاری قیمت کے مقابلے میں تقریباً 2,600 سے 3,800 روپے اضافی ادا کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم آمدنی والے خاندان کے لیے یہ رقم خوراک، بچوں کی تعلیم یا علاج کے بجٹ سے نکلتی ہے، جبکہ سردیوں میں زیادہ استعمال سے بوجھ مزید بڑھتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کے سالانہ منصوبہ 26–2025 کے مطابق مالی سال 25–2024 میں ملکی ایل پی جی سپلائی 7 لاکھ 30 ہزار ٹن، یعنی اوسطاً 2 ہزار ٹن یومیہ تھی، جبکہ درآمدات 15 لاکھ ٹن رہیں۔ ان دونوں اعداد کے مجموعے میں درآمدات کا حصہ تقریباً 67 فیصد بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تناسب درآمدی گیس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے، کسی اہم تجارتی راستے میں رکاوٹ، عالمی قیمتوں میں اضافہ یا نقل و حمل کی تاخیر ملکی سپلائی چین مکینزم کو تیزی سے متاثر کرسکتی ہے۔ اوگرا کی 24–2023 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی یومیہ ایل پی جی کی فروخت پانچ ہزار ٹن تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کی 19 ستمبر کی بندش سے ایل پی جی کی دستیابی متاثر ہوئی ہے، جبکہ خطے کی جنگ اور بحری نقل و حمل کے خطرات متبادل درآمدات بھی مہنگی کرسکتے ہیں، متعلقہ ادارے سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق قانونی سامان کی محفوظ کلیئرنس اور متبادل سپلائی کا انتظام کریں۔ پیٹرولیم ڈویژن، وزارت تجارت، اوگرا اور کسٹمز کے درمیان مؤثر رابطہ غیر ضروری تاخیر اور اضافی اخراجات کم کرسکتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ ایل این جی کی محدود دستیابی سے صنعتی پیداوار اور بجلی کی فراہمی پر دباؤ پڑے گا، جبکہ پائپ لائن کے ذریعےگیس کی بندش کی وجہ سے گھریلو اور تجارتی صارفین ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ مگر ایل پی جی بھی مہنگی اور نایاب ہو رہی ہے۔ ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے ہوٹلوں، تندوروں، بیکریوں اور دیگر چھوٹے کاروباروں کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا جو مزید اضافے کے ساتھ خوراک اور خدمات کی قیمتوں پر منتقل ہو جائے گا، گھریلو صارفین کا گیس پر اضافی خرچ دوسری ضروری اشیا کی خریداری کی گنجائش کم کردیگا۔ اس طرح توانائی کا جاری بحران مہنگائی اور کاروباری سست روی، دونوں کا سبب بن سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اوگرا مارکیٹنگ کمپنیوں کی روزانہ اسٹاک رپورٹنگ پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائے اور بندرگاہوں، اسٹوریج و فلنگ پلانٹس اور دوران ترسیل موجود ذخائر کی نگرانی مضبوط کرے۔ جہاں مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کے شواہد ملیں، وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ مقامی پیداوار کی تقسیم بھی شفاف اور مسابقتی ہونی چاہیے تاکہ درآمدی مشکلات کی آڑ میں مقامی ایل پی جی پر غیر ضروری منافع وصول نہ کیا جاسکے۔

میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا کہ قیمتوں کے طریقہ کار میں حقیقی درآمدی، انشورنس اور ترسیلی اخراجات کی شفاف جانچ کے ساتھ صارفین کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موسم سرما کے لیے ایل این جی، مقامی گیس اور ایل پی جی کی طلب، دستیاب ذخائر اور مطلوبہ درآمدات کا مشترکہ منصوبہ جاری کیا جائے، دور دراز علاقوں میں بروقت سپلائی پہنچائی جائے اور مستحق گھرانوں کو ہدفی ریلیف دیا جائے۔ توانائی کی مناسب قیمت پر قابل اعتماد دستیابی عوام کی قوت خرید، چھوٹے کاروباروں کے تسلسل اور صنعتی پہیے کو رواں رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین