کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2026 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق، ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ ملک کے بیرونی شعبے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط سہارا فراہم کر رہا ہے، جو مجموعی معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
مالی سال 26 کے پہلے سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران ترسیلاتِ زر کا مجموعی حجم 23.2 ارب ڈالر رہا، جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں موصول ہونے والے 20.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہے۔
ایس بی پی کے مطابق، جنوری میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے موصول ہوئیں جو 739.6 ملین ڈالر رہیں، اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 694.2 ملین ڈالر، برطانیہ سے 572.1 ملین ڈالر، اور امریکا سے 294.7 ملین ڈالر آئے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ بینکاری نظام کے رسمی ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال، شرحِ مبادلہ میں نسبتی استحکام، اور بیرونِ ملک پاکستانی افرادی قوت کے لیے روزگار کے مواقع برقرار رہنے کا نتیجہ ہے۔
ترسیلاتِ زر پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے سب سے بڑے ذرائع میں شامل ہیں اور تجارتی خسارے کی مالی معاونت اور مجموعی معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

