جمعہ, مئی 15, 2026
ہومصحتپولیو مہم..ایک متاثرہ پرعزم ہیلتھ ورکر

پولیو مہم..ایک متاثرہ پرعزم ہیلتھ ورکر

پولیو وائرس سے  معذور ہو گئی تھی میرے والدین کی لاپرواہی کی سزا مجھے ملی اور جب میں بڑی ہوئی تو مجھے پتہ چلا کہ پولیو کتنا خطرناک ہے اس کے بعد میں نے محکمہ صحت میں پولیو ورکر کی نوکری کر لی تاکہ والدین کو اپنی مثال دے کر پولیو کے قطرے پلانے پر مجبور کر سکوں۔ یہ کہانی ہے  پولیو سے متاثرہ پولیو ورکر عائشہ جو کہ عزیز بھٹی ٹاؤن میں گھر گھر جا کر والدین کو اپنے بچوں کو پولیو کے دو قطرے پلانے کے لئے مجبور کرتی ہے ، پولیو ورکر عائشہ نے کہا کہ  مجھے فیلڈ میں کافی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے مگر ان مشکلات سے بڑھ کر میرا عزم ہے جو کہ میں لے کر چلی ہوں اکثر والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلانے کے لئے غلط بیانی کرتے ہیں کہ ہمارے تو بچے ہی نہیں جن کو قطرے پلائیں اس پر بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچے گھر کے اندر موجود ہیں ان کو بار بار سمجھاتے ہیں کہ پولیو کتنا خطرناک ناک ہے جو کہ آپ کے بچوں کو معزور کر دے گا اکثر والدین مان جاتے ہیں مگر اکثر والدین نہیں بھی مانتے ، لوگوں میں پہلے کی نسبت اب کچھ شعور بھی آ گیا ہے کہ پولیو کے قطرے پلانے سے ہمارے بچوں کا ہی فایدہ ہے اس لئے بہت سے والدین ہمیں خود ہی آ کر بتاتے ہیں کہ ہمارے بچوں نے پولیو کے قطرے پینے ہیں عائشہ کا کہنا تھا جو غلطی میرے والدین نے کر دی ہے وہ میں دوسرے والدین کو کرنے سے روکنے لئے ہر انسداد پولیو مہم میں جا کر بتاتی ہوں اور ان کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لئے اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتی ہوں عائشہ کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی معزوری کو کمزوری نہیں بننے دیا خود پر عزم رہی اور والدین کو بھی کہا کہ اپنے بچوں کو معزور مت بنائے بلکہ ان کو صحت مند زندگی فراہم کرنے کے لیے دو قطرے پولیو کے ضرور پلائیں ۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین