ٹیلی نار کے انضمام سے کمپنی کے منافع میں دوگنے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ایتصلات کمپنی سے اخراج کررہا ہے۔ یہ بات پی ٹی سی ایل کی اعلی انتظامیہ کی جانب سے اسٹاک مارکیٹ میں کام کرنے والے بروکریج ہاوسز کے معاشی تجزیہ کاروں کو بریفنگ میں بتائی گئی۔ کمپنی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے جلد میڈیا میں بیان جاری کریں گے۔ بریفنگ میں یہ سوال پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مبینہ سفارتی کشیدگی اور اس حوالے سے افواہوں کے بعد کیا گیا تھا۔
اے کے ڈی گروپ کی جانب سے پی ٹی سی ایل کی اینالسٹ بریفنگ کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کے منافع میں جنوری سے مارچ 2026 کے دوران 58 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اور کمپنی کی آمدن تین ماہ کے دوران 98 ارب 80 کروڑ روپے رہی جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں آمدن 61 ارب 90 کروڑ روپے تھی۔
پی ٹی سی ایل حکام نے بتایا کہ کمپنی میں ٹیلی ناز کے انضمام کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ اس کے باوجود وائرلیس سیگمنٹ میں 2 گنا سے زائد کی بہتری آئی ہے۔ اس وقت یو فون اور ٹیلی نار الگ الگ کمپنیوں کے طور پر کام کررہی ہیں۔ انضمام معاملہ اس وقت عدالت میں زیر غور ہے۔ اور توقع ہے کہ عدالت اس سال جون تک انضمام کے حوالے سے اپنا فیصلہ دیگی۔ یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام کے حقیقی اثرات جس میں ٹاورشیئرنگ ہے کے اثرات سال 2027 میں ظاہر ہونے کی توقع ہے۔ کمپنی حکام کا کہنا تھا کہ ٹیلی نار اور یوفون کے انضمام سے کمپنی کی خدمات کا نیٹ ورک شہری اور دیہی مارکیٹوں میں مضبوط ہوگا۔ ٹیلی نارملک کے دیہی جبکہ یوفون ملک کے شہری علاقوں کی مارکیٹ پر گرفت رکھتا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا تھاکہ اس وقت ملک میں سب سے زیادہ اسپیکٹرم رکھنے والی موبائل فون کمپنی ہے۔ اس وقت یوفون کے پاس 180 میگاہرڈز کا اسپیکٹرم ہے ٹیلی نار کے انضمام سے یہ کمپنی کا مجموعی اسپیکٹرم 292 میگاہرڈز ہوجائے گا۔ کمپنی کے پاس مختلف بینڈز میں اسپیکٹرم موجود ہے۔
پی ٹی سی ایل کے اپنے کاروبار کی بات کی جائے تو اس کا منافع 3 ارب 10 کروڑ روپے رہا۔ جس کی اہم وجوہات ٹیلی نار کا انضمام اور بینکاری شعبے میں آنے والی بہتری ہے۔

