پیر, جون 1, 2026
ہومبزنسحکومت ٹیکس وصولی اہداف حاصل کرنے کے لئے غیر معمولی اقدامات پر...

حکومت ٹیکس وصولی اہداف حاصل کرنے کے لئے غیر معمولی اقدامات پر غور نہیں کررہی ہے، خرم شہزاد

کراچی : وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس وصولی بڑھانے کے لئے کوئی غیر معمولی اقدام اٹھانے نہیں جارہی ہے۔ اس حوالے سے زرائع ابلاغ میں شائع خبریں درست نہیں ہیں۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے خرم شہزاد نے ٹیکس وصولی میں کمی کے حوالے سے زرائع ابلاغ کی خبروں کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

مشیر وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ بیان کردہ حقائق کی روشنی میں غیر معمولی اقدامات کی کوئی ضرورت نہیں محسوس کی جارہی ہے۔ کاروباری برادری، سرمایہ کار، صنعتیں اور ٹیکس دہندگان اس بات پر مطمئن رہیں کہ بڑے ریونیو خسارے سے متعلق سنسنی خیز دعوے حقیقی مالیاتی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔ مبینہ شارٹ فال کی بنیاد پر اضافی یا غیر معمولی ٹیکس وصولیوں یا نفاذی اقدامات کے بارے میں تشویش کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ اسی طرح مالی سال کے آخری مہینے میں غیر معمولی ریونیو یا نفاذی اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں کا بھی کوئی جواز نہیں۔

خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ بعض نشریاتی اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے آغاز میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے 14,130 ارب روپے کے ہدف میں 864 ارب روپے کے ٹیکس وصولی میں کمی کی خبریں شائع کی جارہی ہیں۔

 ٹیکس وصولی کی صورتحال کی وضاحت  کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ وفاقی ادارہ محصولات (ایف بی آر) نے مئی میں 994 ارب روپے جمع کیے ہیں جو کہ ماہانہ ہدف کا 97 فیصد ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران ٹیکس وصولیاں 11,257 ارب روپے رہی۔ گیارہ ماہ کے ہدف کے مقابلے میں ایف بی آر نے 99.8 فیصد (عملاً 100 فیصد) ہدف حاصل کیا اور 11,257 ارب روپے جمع کیے۔

اس حوالے سے اپنی وضاحت پیش کرتے ہوئے خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ ٹیکس اہداف مالی سال کے آغاز سے قبل متعدد معاشی مفروضوں کی بنیاد پر مقرر کیے جاتے ہیں۔ جن میں مقامی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں اضافہ۔ افراطِ زر، متوقع درآمدات، صنعتی پیداوار، روپے شرح مبادلہ اور اسٹیٹ بینک کا مقرر کردہ بنیادی شرح سود  شامل ہوتے ہیں۔ مگر مالی سال میں حالات ایک جیسے نہیں رہتے ہیں اور جس طرح کی منصوبہ بندی کی گئی ہوتی ہے وہ معاشی تغیر کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے۔ حکومت وقت کے ساتھ ساتھ ان مفروضوں  اور معاشی تغیرات کا جائزہ لے کر مالیاتی تخمینوں میں ردوبدل کرتی رہتی ہے۔

اسی تناظر میں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مشاورت کے بعد اصل ریونیو ہدف کو کم کرکے تقریباً 13,000 ارب روپے مقرر کیا گیا تاکہ بدلتی ہوئی معاشی حقیقتوں کی عکاسی کی جا سکے۔ ان عوامل میں افراطِ زر میں اتار چڑھاؤ، مضبوط شرح مبادلہ یعنی  280 روپے فی ڈالر سے کم جبکہ بجٹ میں 296 روپے فی ڈالر فرض کیا گیا تھا)، شرح نمو کی بدلتی صورتحال، اندرونی چیلنجز (سیلاب اور موسمی تغیر) اور بین الاقوامی جغرافیائی و سیاسی پیش رفت جیسا کہ امریکا۔ایران تنازع اور اس کے نتیجے میں توانائی و اجناس کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔

اس نوعیت کی نظرثانیاں مالیاتی نظم و نسق کا معمول کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ آمدنی اور اخراجات کے تخمینے موجودہ معاشی حالات کے مطابق رہیں۔

خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ یہ حقائق کسی بھی طرح ریونیو کے وصولی میں کمی، مالی بحران یا بڑے پیمانے کے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی تائید نہیں کرتے۔ جون 2026 کا ریونیو ہدف نظرثانی شدہ مالیاتی فریم ورک کی بنیاد پر مقرر کیا گیا ہے۔ نہ کہ ان پرانے اعداد و شمار کی بنیاد پر جن کا اب بھی میڈیا کے بعض حلقوں میں حوالہ دیا جا رہا ہے۔ ایف بی آر نے جون 2025 میں 1,502 ارب روپے جمع کیے تھے۔ جون 2026 کا ہدف 1,727 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ سال سے 15 فیصد زائد ہے۔ اور یہ نظرثانی شدہ سالانہ ہدف کے حصول کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین