اس آزمائشی پروازکی کامیابی سے امریکی نیوی کے طیارہ بردار بحری جہازوں کے پر استعمال کرنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
سینٹ لوئس، 27 اپریل 2026: دنیا میں تیزی سے بغیر پائلٹ کے لڑاکا طیاروں کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ امریکی پائلٹ کے ایران میں پھنس جانے اور اس آپریشن میں امریکی فضائیہ کے متعدد ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کی تباہی کے بعد امریکی نیوی نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔
امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے امریکی نیوی کے اشتراک سے بغیرپائلٹ کے طیارے ایم کیو 25 اے کی پہلی آزمائشی پروازمکمل کی ہے۔ اور یہ کہا جارہا ہے۔ اس آزمائشی پرواز کے بعد بغیر پائلٹ کے ان طیاروں کو امریکی نیوی کے طیارہ برادار بحری جہازوں پر تعنیات کرنے میں ایک سنگ میل عبور کر لیا ہے
امریکی شہر لوزینا کے ایئرپورٹ سے پرواز کرنے والے ایم کیو 25 اے اسٹنگری نے دو گھنٹے تک پرواز کی۔ اس طیارے نے پہلے سے دی گئی ہدایات کے مطابق خودکارٹیکسی کی، پرواز بھری، مطلوبہ بلندی حاصل اور زمین پر موجود کنٹرول اسٹیشن سے دی جانے والی ہدایات پر عمل کیا جس کے بعد اپنے مصنوعی ذہانت کے پروگرام کے زریعے لینڈنگ بھی کی۔
اس طیارے کو اڑانے کے لئے امریکی نیوی اور بوٹنگ نے ایئر وہیکل پائلٹس مشن کے دوران زمینی کنٹرول اسٹیشن سے طیارے کو ہدایات جاری دیں۔ اور اس بات کا جائزہ لیا کہ وہ ان ہدایات پر کس قدر عمل کرتا ہے۔
بوئنگ ایئر ڈومیننس کے نائب صدر اور جنرل منیجر ڈین گیلن نے کہا کہ آج کی کامیاب بغیر پائلٹ کی پرواز پروٹوٹائپ سے حاصل شدہ برسوں کے تجربے کا تسلسل ہے اور یہ پروگرام کی پختگی کا بڑا مظہر ہے۔ ان کے مطابق بغیر پائلٹ کے اس طیارے کو سمندر میں موجود طیارہ بردار بحری جہاز کے لیے تیار کیا گیا اب تک کا سب سے پیچیدہ خودکار نظام ہے، اور یہ کامیابی اسٹنگری کو کیریئرایئرونگ میں محفوظ انداز سے شامل کرنے کے مزید قریب لے آئی ہے۔
بحریہ کے پروگرام ایگزیکٹو آفس برائے بغیر پائلٹ ہوا بازی اور اسٹرائیک ویپنز کے سربراہ ٹونی روسی نے کہا کہ ایم کیو25 اے کی پہلی پرواز بحریہ اور بوئنگ ٹیم کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ہے اوربغیرپائلٹ لڑاکا فضائی طیاروں کے مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام فضائی ایندھن بھرنے کی ایسی صلاحیت فراہم کرے گا جو امریکی بیڑے کی رسائی اور جنگی طاقت میں نمایاں اضافہ کرے گی۔
ایم کیو 25 اے میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ وہ دوران پرواز ایندھن بھی بھرسکتا ہے۔ اور کسی حملےمیں انسان بردار اور بغیر پائلٹ طیارے مشترکہ کارروائی کر سکیں گے۔ یہ طیارہ چار انجینئرنگ ڈیولپمنٹ ماڈل طیاروں میں پہلا ہے۔ ان طیاروں کی تحیقیق کے لئے بوئنگ کمپنی نے امریکی بحریہ کے ساتھ 80 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالرمالیت معاہدہ کیا ہے۔ بغیر پائلٹ کے اس طیارے پر ابھی مذید آزمائش کی جائے گی۔ بوئنگ نے تاحال ان طیاروں کے اپریشنل ہونے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔

