بدھ, مئی 13, 2026
ہومجابز اینڈ فری لانسرزنوجوان ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن کر اپنے تعلیمی اخراجات خود پورے...

نوجوان ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن کر اپنے تعلیمی اخراجات خود پورے کرسکتے ہیں، ابراہیم امین

کراچی – 27 اپریل 2026: جامعہ کراچی کے شعبۂ ابلاغِ عامہ میں قائم کریئیٹو اسکوائرکے تحت پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے اشتراک سے فری لانسنگ کا انقلاب ڈگری سے ڈیجیٹل پی ار ڈیلز کے عنوان پر مجلس مذاکرہ منعقد کی گئی جہاں طلبہ و طالبات کو ڈیجیٹل معیشت کے زریعے پیدا ہونے والے نئے اور جدید رجحانات اور فری لانسنگ کے بڑھتے ہوئے کردارسے آگاہ کیا گیا۔
تقریب سے فری لانسنگ ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین ابراہیم امین، شعبہ ابلاغ عامہ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سعدیہ محمود فری لانسر ایم۔ حسن بن لیاقت، سیدہ مہرخ شاہ اور ساگر سامی طلبہ کو فری لانسنگ شروع کرنے اور فری لانسنگ پلیٹ فارمز کے زریعے خدمات کو فروخت کرنے اور کمانے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ جبکہ تقریب کی میزبانی شعبہ ابلاغ عامہ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر رعنا افضل نے سرانجام دیئے۔
اس موقع پرطلبہ و طالبات کو فری لانسنگ کے زریعے روزگار کمانے اور اپنے تعلیمی اخراجات کو خود اٹھانے کے حوالے سے پاکستان فری لانسر ایسوسی ایشن کے چیئرمیں ابراہیم امین نے کلیدی خطاب کیا۔ ابراہیم امین کا کہنا تھا کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ہورہی ہے۔ اور پاکستانی نوجوانوں کو اس ترقی کرتی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن رہے ہیں۔ اس وقت پاکستانی نوجوان فری لانسنگ کی بین القوامی مارکیٹ میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان کا شمار دنیا کی بڑی فری لانس کمیونٹیز میں ہوتا ہے۔ ابراہیم امین کا کہنا تھا کہ فری لانسنگ میں اب بڑی تبدیلی آگئی ہے۔ اور اب فری لانسنگ پلیٹ فارم پر فرد واحد کے بجائے ایک ایجنسی کے طورپر کام کریں۔ ایسے نوجوانوں کا گروپ بنائیں جوکہ مختلف نوعیت کی صلاحیتوں کے حامل ہوں اور سب مل کر بطور ایجنسی کے کام کریں تاکہ کلائنٹس کو ہرقسم کی خدمات فراہم کی جاسکیں۔
ابراہیم امین نے شعبہ ابلاغیات کے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی ڈگری مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اسکل بھی سکھیں جس کی طلب فری لانسنگ کی مارکیٹ میں موجود ہے۔ تاکہ وہ اپنی تعلیم کا اخراجات خود اٹھا سکیں۔ پیفلا اس حوالے سے طلبہ کا ہاتھ پکڑنے انہیں اسکل سیکھانے اور بین القوامی مارکیٹ سےپہلا ڈالر کمانے کا ہنر سکھانے کے لئے تیار ہے۔ اس وقت پیفلا دو لاکھ سے زائد فری لانسرز کے مسائل یومیہ بنیادوں پر حل کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیفلا طلبہ کو عملی مہارتیں سکھانے اور انہیں عالمی مواقع سے جوڑنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 30 لاکھ پاکستانی فری لانسرز ہیں۔ جس میں پچاس فیصد نوجوان لڑکیاں ہیں۔ جن کی بڑی تعداد پاکستان کے دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ اور انہوں نے یہ صلاحیت آن لائیں پلیٹ فارمز پر ویڈیوز دیکھ کر سیکھی ہیں۔ اور یہ فری لانسرز 85 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ کما رہے ہیں۔
جامعمہ کراچی شعبہ ابلاغ عامہ کی چیئرپرسن ڈاکٹرسعدیہ محمود نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے اندر اعتماد پیدا کریں اورمسلسل ترقی کا ذہن بنائیں۔ ڈاکٹر سعدیہ کا مذید کہنا تھا کہ مہارت کے ساتھ ساتھ اعتماد، مثبت ذہنیت اور خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت آج کے مسابقتی دور میں کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
مجلس مذاکرہ کے اختتام پر طلبہ و طالبات فری لانسنگ کے حوالے سے مختلف سوالات کیئے اور اس بات میں دلچسپی کا اظہار کیا کہ کس طرح وہ فری لانسنگ کے زریعے خود روزگار کما سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین