اتوار, ستمبر 6, 2026
ہومٹیک اینڈ ٹیلی کامآن لائن بائیک سروس یا جرائم کا نیا طریقہ؟ کراچی کے شہریوں...

آن لائن بائیک سروس یا جرائم کا نیا طریقہ؟ کراچی کے شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

رپورٹ: ریاض اینڈی

کراچی جو پہلے ہی سٹریٹ کرائم کی زد میں تھا، اب ایک نئی اور خوفناک مشکل کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جہاں آن لائن بائیک سروس فراہم کرنے والے شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔ ایک واقعے میں بائیک سوار نے پٹرول بھروانے کے لئے سواری سے پیسے لیے اور اس کا قیمتی سامان لے کر فرار ہو گیا۔
بات صرف انفرادی وارداتوں تک محدود نہیں رہی۔ سمن آباد کے دکانداروں کے مطابق، اب باقاعدہ منظم گینگ متحرک ہو چکے ہیں جو بائیک سروس کے ہیلمٹ پہن کر مسلح ڈکیتیاں کر رہے ہیں۔ 25 اپریل کی شام کو دکانداروں کو لوٹا گیا۔ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بے روزگاری یقیناً ایک وجہ ہو سکتی ہے، لیکن ہتھیار بند جتھوں کی صورت میں لوٹ مار ایک گہری سازش ہوسکتی ہے۔
آن لائن بائیک کمپنیوں کا ڈھانچہ ایسا ہے کہ کوئی بھی باآسانی اس نیٹ ورک کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہ لوگ بس اسٹاپس اور گلیوں میں ہر جگہ موجود ہیں، جس کی وجہ سے جاسوسی اور ریکی کرنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حکومت ایک مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم دینے میں ناکام رہی ہے۔ سندھ حکومت ڈبل ڈیکر بسوں جیسے نمائشی منصوبے تو لاتی ہے، لیکن کراچی سرکلر ریلوے جیسے پائیدار حل آج بھی خواب بنے ہوئے ہیں۔
عالمی سطح پر بڑی بڑی کامیابیوں کے دعوے کرنے والے کیا اپنے ہی معاشی حب میں پھیلتی اس آگ کو دیکھ رہے ہیں؟ کراچی کو ایک بار پھر بدامنی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، اور یہ صورتحال ‘چراغ تلے اندھیرے’ کی عملی تصویر ہے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین