ہفتہ, ستمبر 5, 2026
ہومبزنسبھارت۔ یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ پاکستانی برآمدات کی ٹیرف برتری کے...

بھارت۔ یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ پاکستانی برآمدات کی ٹیرف برتری کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ میاں زاہد حسین

کراچی: پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملک کی اہم ترین تجارتی مراعات میں سے ایک ہے اور 2028  کے بعد بھی اس کا حصول قومی اقتصادی ترجیح ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوری 2014 سے جی ایس پی پلس سٹیٹس سے مستفید ہو رہا ہے، جس کے تحت انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات، موسمیاتی ذمہ داریوں اور گڈ گورننس سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کے بدلے ہزاروں پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈی میں صفر یا ترجیحی ٹیرف کی سہولت حاصل ہے۔ جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے پاکستانی مصنوعات بالخصوص ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ 26-2025 میں پاکستان کی گڈز برآمدات 5.93 فیصد کمی کے بعد 30.139 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ 25-2024 مالی سال میں یہ 32.040 ارب ڈالر تھیں۔ اسی دوران درآمدات 8.14 فیصد اضافے سے 69.761 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کے نتیجے میں 26-2025 میں تجارتی خسارہ بڑھ کر تقریباً 39.62 ارب ڈالر ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں یورپی ممالک کو پاکستان کی برآمدات تقریباً 9.089 ارب ڈالر رہیں، جو 25-2024 مالی سال کے 9.106 ارب ڈالر کے مقابلے میں صرف 0.18 فیصد کم ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی برآمدات میں نمایاں کمی کے باوجود یورپی منڈیاں نسبتاً مستحکم رہیں۔ 26-2025 میں اسپین کو پاکستانی برآمدات 5.18 فیصد اضافے کے ساتھ 1.562 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ جی ایس پی پلس کا اصل فائدہ صرف برآمدات تک محدود نہیں۔ یورپی کمیشن کے مطابق پاکستان جی ایس پی پلس اسکیم کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔ 2024 میں تقریباً 7.5 ارب یورو کی پاکستانی برآمدات جی ایس پی پلس مراعات کی اہل تھیں، جبکہ صرف ایک سال میں پاکستانی برآمدکنندگان کو تقریباً 732 ملین یورو کے ٹیرف سے استثنا حاصل ہوا۔ اس رعایت نے ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں پاکستانی مصنوعات کو زیادہ کمپیٹیٹیو بنایا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے باوجود پاکستان کی برآمدات یورپی یونین کی مجموعی درآمدات کا صرف 0.3 فیصد ہیں جبکہ ٹیکسٹائل جو کہ پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات کا 95 فیصد ہے اس کا حصہ بھی یورپی یونین  کی ٹیکسٹائل درامد کا صرف 0.34 فیصد ہے۔ سی فوڈ برامدات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 2007 میں یورپی یونین کے سخت سینٹری اور   Phytosanitary سٹینڈرڈز، صفائی، ٹریسبلٹی اور ہینڈلنگ وغیرہ پر پورا نہ اترنے کے باعث پاکستانی سی فوڈ کی یورپی منڈی تک رسائی شدید متاثر ہوئی، جبکہ 2013 میں پابندی میں نرمی کے باوجود صرف محدود پراسیسنگ یونٹس کو دوبارہ اجازت مل سکی۔ مالی سال 25-2024 میں پاکستان کی مجموعی سی فوڈ برآمدات تقریباً 489.2 ملین ڈالر رہیں، لیکن یورپی یونین کو پاکستان نے صرف 13 ملین ڈالر کا سی فوڈ برآمد کیا، جو پاکستان کی مجموعی سی فوڈ برآمدات کا صرف 2.7 فیصد بنتا ہے اور یورپی یونین کی سی فوڈ برامد کا 0.04 فیصد بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی فش ہاربر، ماہی گیر کشتیوں، صاف پانی، ہائجین، کولڈ چین، آکشن ہالز اور ٹریسبلٹی کو یورپی معیار کے مطابق بنائے بغیر اس شعبے کی بڑی برآمدی صلاحیت استعمال نہیں کی جاسکتی۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس ٹیرف رکاوٹوں کو کم کرسکتا ہے، لیکن SPS اور دیگر non-tariff barriers دور کیے بغیر پاکستان اس سہولت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ اٹلی مالی سال 2024 میں 1.135 ارب ڈالر کی پاکستانی برآمدات کے ساتھ یورپی یونین میں پاکستان کی چوتھی بڑی برآمدی منڈی رہا، اور EU کو پاکستان کی مجموعی برآمدات میں اس کا حصہ 12.68 فیصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل جرمنی تقریباً 19 فیصد، نیدرلینڈز 17.9 فیصد اور اسپین 16.4 فیصد کے ساتھ پاکستان کی نمایاں منڈیاں رہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی یورپی برآمدات چند ممالک تک محدود اور مرتکز ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو موجودہ بڑی منڈیوں کے ساتھ ساتھ وسطی، مشرقی اور شمالی یورپ میں نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانی چاہیے تاکہ برآمدی خطرات کم ہوں، GSP+ سے زیادہ وسیع فائدہ حاصل ہو سکے اور یورپی یونین میں پاکستان کی برآمدی بنیاد مزید مضبوط اور متنوع بن سکے۔

میاں زاہد حسین نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی یورپی یونین کے ساتھ اعلیٰ سطحی اقتصادی اور سفارتی رابطوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے 2026 کے دوران یورپی قیادت کے ساتھ متعدد ملاقاتوں میں جی ایس پی پلس کی اہمیت کو مسلسل اجاگر کیا اور پاکستان ۔ یورپی یونین تجارتی تعلقات کو وسعت دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان۔یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد، نئی کاروباری شراکت داریوں کا آغاز اور مستقبل کے جی ایس پی پلس نظام میں پاکستان کی شمولیت کے لیے حکومتی رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی حکومت اس اہم سہولت کے تسلسل کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پاکستان کے وسیع تر سفارتی مفادات، علاقائی امن و استحکام اور اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ اعتماد سازی میں کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات صرف تجارتی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی مجموعی سفارتی ساکھ، علاقائی استحکام، سیکیورٹی تعاون اور عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کردار سے بھی تقویت پاتے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی مربوط سفارت کاری ملک کے اقتصادی مفادات کے لیے نہایت اہم ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ 2026 میں یورپی یونین کے جی ایس پی پلس جائزے، جو 2023 سے 2025 پر محیط تھا، میں پاکستان کی 27 بین الاقوامی کنونشنز کے حوالے قانون سازی میں پیش رفت کو تسلیم کیا گیا، تاہم کئی شعبوں میں عملی نفاذ مزید بہتر بنانے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔ پاکستان نے جائزہ رپورٹ میں پاکستان کی پیش رفت کے اعتراف کا خیرمقدم کیا، لیکن اس بات پر مایوسی ظاہر کی کہ رپورٹ میں 2014 سے اب تک کی تمام اصلاحات کی مکمل اور متوازن عکاسی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب زیادہ سخت مرحلے سے گزرنے کی تیاری کرنا ہوگی۔ یورپی یونین کے نئے جی ایس پی ریگولیشنز کے تحت موجودہ جی ایس پی پلس ممالک کو 31 دسمبر 2028 تک موجودہ سہولت حاصل رہے گی۔ پاکستان کو یکم جنوری 2029 سے اس سہولت کے تسلسل کے لیے نئے نظام کے تحت دوبارہ درخواست دینا ہوگی جس میں متعلقہ بین الاقوامی کنونشنز کی تعداد 27 سے بڑھ کر 32 ہوجائے گی۔

میاں زاہد حسین نے خبردار کیا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان جنوری 2026 میں طے پانے والا فری ٹریڈ ایگریمنٹ بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا مسابقتی چیلنج بن چکا ہے۔ اس معاہدے کے نفاذ کے بعد بھارتی ٹیکسٹائل، فٹ ویئر، کیمیکل، فشریز اور فارماسیوٹیکل سمیت متعدد شعبوں کو کم یا صفر ٹیرف تک رسائی مل جائے گی، جس سے پاکستانی برآمدکنندگان کو حاصل موجودہ ٹیرف برتری ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کو مستقل تحفظ سمجھنے کے بجائے معاشی تبدیلی کے ایک موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ اب پاکستان کے لیے توانائی اور لاجسٹکس کے اخراجات کم کرنا، پیداواری صلاحیت بڑھانا، ویلیو ایڈیشن میں اضافہ کرنا، نئی برآمدی مصنوعات متعارف کرانا، مزدور کے حالات اور ماحولیاتی معیارات بہتر بنانا اور عالمی معیار کے پاکستانی برانڈز تیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کو ایک جانب 2028 کے بعد بھی جی ایس پی پلس کا تسلسل یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقتصادی سفارت کاری جاری رکھنی چاہیے اور دوسری وزیراعظم جانب میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت قومی قیادت کی علاقائی امن، استحکام اور عالمی اعتماد سازی کی کوششوں کو پاکستان کے وسیع تر معاشی مفادات کے ساتھ مربوط رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں معیار، پیداواری صلاحیت، پائیداری، جدت، برانڈنگ اور کم پیداواری لاگت ہی پاکستان کی حقیقی معاشی ترقی، اقتصادی پائیداری اور برآمدی طاقت ہوں گی۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین