جمعرات, اکتوبر 22, 2026
ہومبینک اور مالیاتپاکستان اور خطے کی معاشی ترقی میں اسلامی مالیات کے فروغ کے...

پاکستان اور خطے کی معاشی ترقی میں اسلامی مالیات کے فروغ کے نئے مواقع موجود ہیں، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی تحقیقاتی رپورٹ میں مضبوط سرحد پار مالیاتی لین دین کے ذریعے جنوبی ایشیا کی تیز رفتار ترقی کرنے والی مارکیٹوں تک اسلامی سرمایہ پہنچانے کے نمایاں مواقع کی نشاندہی کی گئی ہے۔

کراچی، 06 اگست، 2026:   اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی نئی رپورٹ میں جنوبی ایشیا میں اسلامی مالیات کے روابط کو مزید مضبوط بنانے کے اہم مواقع اجاگر کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وافر مالی وسائل رکھنے والی منڈیوں کو طویل مدتی سرمایہ کاری کے متلاشی ممالک کے ساتھ مؤثر انداز میں جوڑ کر سرحد پار اسلامی مالیات کے کردار کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے، جس سے علاقائی تجارت، بنیادی ڈھانچے اور معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔

”مالیاتی اداروں کے لیے اسلامی بینکاری: اسلامی مالیات کے ربط و اتصال کا نیا دور (Islamic Banking for Financial Institutions: The Islamic Finance Connector Era) “کے عنوان سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق دنیا کے تقریباً 100 ممالک میں اسلامی مالیاتی اثاثوں کا مجموعی حجم تقریباً 6 کھرب امریکی ڈالر (USD 6 Trillion) تک پہنچ چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی تجارتی رجحانات میں تبدیلی اور علاقائی معاشی راہداریوں کے ذریعے سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ اسلامی مالیات سرمایہ، تجارت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو باہم جوڑنے والے ایک اہم اسٹریٹجک ذریعہ بن کر ابھر رہی ہے۔

رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو اُن خطوں میں شامل کیا گیا ہے جہاں مزید اسلامی سرمایہ راغب کرنے کی نمایاں مگر ابھی تک غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے۔ اس میں وافر مالی وسائل رکھنے والی منڈیوں اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے خواہاں ممالک کے درمیان سرحد پار روابط مضبوط بنانے کے اہم مواقع کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ نتائج پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ خلیجی تعاون کونسل (GCC) اور دیگر تیز رفتار ترقی کرنے والی منڈیوں کے ساتھ اسلامی مالیات کی راہداریوں کو وسعت دے کر سرمایہ کاری بڑھائی جا سکتی ہے، تجارت کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور طویل مدتی معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ گروپ  میں اسلامک بینکنگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ،خرم ہلال نے کہا: ”اسلامی مالیات سرحد پار روابط کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری اور سرمائے کے بین الاقوامی بہاؤ میں اس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے، لہٰذا مالیاتی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلامی مالیات کو اپنی اسٹریٹجک ترجیحات میں نمایاں مقام دیں۔“

خرم ہلال نے مزید کہاکہ جیسے جیسے تجارتی راہداریاں ایک دوسرے سے زیادہ مربوط ہوتی جا رہی ہیں، مالیاتی اداروں کو ایسے تسلیم شدہ فنانسنگ ڈھانچوں اور عملی صلاحیتوں کی ضرورت ہے جو شریعت کے مطابق سرمایہ کو سرحدوں کے پار بلا رکاوٹ منتقل کرنے کے قابل ہوں۔“

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ہیڈ آف کوریج، ریحان شیخ نے کہا:”خلیجی تعاون کونسل (GCC)، جنوبی ایشیا اور دیگر تیز رفتار ترقی کرنے والی منڈیوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کا بہاؤ مسلسل ارتقا پذیر ہے، جس سے اسلامی مالیات کے لیے سرمایہ اور تجارت کو باہم مربوط کرنے میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے ان مالیاتی راہداریوں کو مضبوط بنانا ایسے کاروباری اداروں کی معاونت کر سکتا ہے جو علاقائی سطح پر اپنے کاروبار کو وسعت دینا، سرمایہ کاری راغب کرنا اور شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی سہولیات کے وسیع تر ذرائع تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔“

رپورٹ کے مطابق اگرچہ اسلامی مالیات میں دستیاب مالی وسائل (Liquidity) مسلسل بڑھ رہے ہیں، تاہم ان وسائل کا استعمال اب بھی یکساں نہیں ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر جاری کیے جانے والے صکوک کے ذریعے فراہم کیے جانے والے سرمائے کا صرف 6 فیصد جنوبی ایشیا اور افریقہ تک پہنچتا ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وافر مالی وسائل رکھنے والے سرمایہ کاروں کو طویل مدتی ترقیاتی سرمایہ کاری کے خواہاں ممالک سے زیادہ مؤثر انداز میں جوڑنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ خلیجی تعاون کونسل (GCC)، جنوبی ایشیا اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان فروغ پاتی تجارتی راہداریاں اسلامی تجارتی مالیات، سرحد پار سرمایہ کاری اور سرمائے کو متحرک کرنے کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ سرکاری مالیاتی منڈیوں سے آگے بڑھتے ہوئے پرائیویٹ کریڈٹ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ٹوکنائزیشن (Tokenisation) اسلامی سرمایہ تک رسائی کو وسعت دینے اور خطے میں مالیاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

خرم ہلال نے مزید کہا:”آج بہت سی منڈیوں کے لیے اصل چیلنج مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان وسائل کو سرحد پار موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے زیادہ مؤثر انداز میں جوڑنا ہے۔ جو مالیاتی ادارے سرمایہ، منڈیوں اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے درمیان قابلِ اعتماد روابط قائم کریں گے، وہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ میں سب سے مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔“

پاکستان میں اسلامی بینکاری کا لائسنس حاصل کرنے والا پہلا بین الاقوامی بینک ہونے کے ناطے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے ملک میں اسلامی مالیات کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ بینک آج بھی ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ پر محیط اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک کے ذریعے اپنے صارفین کو سرحد پار فنانسنگ، سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع سے جوڑنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

"مالیاتی اداروں کے لیے اسلامی بینکاری: اسلامی مالیات کے ربط و اتصال کا نیا دور” کے عنوان سے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی مکمل رپورٹ  https://www.sc.com/en/corporate-investment-banking/islamic-banking/financial-institutions-report/

پر دستیاب ہے۔


مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین