کراچی، 31 اگست 2026: انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ (IMC) نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے مالیاتی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے یونٹ سیلز، آمدنی اور منافع میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ یہ کارکردگی پاکستان میں معاشی استحکام اور بحالی کے عمل کے تسلسل کے مرہون منت رہی ہے۔
مالی سال 2025-26 کے دوران انڈس موٹر کمپنی نے 45,035 گاڑیاں فروخت کیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ مارکیٹ میں طلب کی بحالی اور کمپنی کے برانڈز پر صارفین کے اعتماد کا عکاس ہے۔
کمپنی کی خالص فروخت کی آمدنی 258.75 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو مالی سال 2024-25 میں 215.14 ارب روپے تھی۔ ٹیکس اور لیوی سے قبل منافع 42.82 ارب روپے رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 37.67 ارب روپے تھا۔ منافع میں اضافے میں اخراجات کے محتاط انتظام، مقامی پیداوار میں اضافے اور شرحِ مبادلہ میں سازگار تبدیلیوں نے اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کی فی حصص آمدنی (EPS) 324.50 روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال 292.74 روپے تھی، جبکہ ٹیکس کے بعد خالص منافع 25.51 ارب روپے رہا، جو گزشتہ مالی سال میں 23.01 ارب روپے تھا۔
مالیاتی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے چیئرمین محمد علی آر۔ حبیب نے کہاکہ”مالی سال 2025-26 پاکستان کے لیے معاشی استحکام اور بتدریج بحالی کے حوالے سے ایک اہم سال رہا۔ اس پس منظر میں آئی ایم سی نے اپنی کاروباری سرگرمیوں کی مضبوطی اور اپنی ٹیم، برانڈز اور اسٹیک ہولڈرز کے مضبوط تعلقات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ آٹو موٹیو انڈسٹری پالیسی میں منتقلی کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، ایسے میں مقامی پیداوار، جدت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مستحکم اور قابلِ پیش گوئی پالیسی ماحول ناگزیر ہوگا۔”
چیف ایگزیکٹو آفیسر انڈس موٹر کمپنی علی اصغر جمالی نے کہا کہ "گاڑیوں کی فروخت میں 33 فیصد اضافہ اور مالیاتی کارکردگی میں بہتری مارکیٹ میں طلب کی بحالی اور ہمارے برانڈز کی مسلسل مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے۔ ہم آپریشنل بہترین کارکردگی، جدت، مقامی پیداوار میں اضافے اور سرمائے کے محتاط استعمال پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں تاکہ اپنی مسابقتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور صارفین اور شیئر ہولڈرز کے لیے طویل مدتی پائیدار قدر پیدا کی جا سکے۔”
پاکستان کی آٹو موٹیو انڈسٹری نے بھی مالی سال کے دوران مضبوط بحالی ریکارڈ کی۔ پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے مطابق مسافر گاڑیوں اور لائٹ کمرشل وہیکلز کی فروخت 39 فیصد اضافے سے 206,000 یونٹس سے تجاوز کر گئی۔ صارفین کے اعتماد میں بہتری، فنانسنگ کی صورتحال میں آسانی، نئی مصنوعات اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کو معقول بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات نے مارکیٹ کی بحالی میں معاونت کی۔
تاہم استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات اب بھی PAMA کی رپورٹ کردہ مارکیٹ کا تقریباً 19 فیصد ہیں، جو مقامی مینوفیکچرنگ اور لوکلائزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے مستقل اور مربوط پالیسیوں کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔
آئی ایم سی نے پائیداری کے شعبے میں بھی اہم پیش رفت کی اور پاکستان کی پہلی آٹو موٹیو کمپنی بن گئی جس نے ملک بھر میں 10 لاکھ درخت لگانے کا ہدف مکمل کیا۔ اس کے علاوہ سندھ کے ساحلی علاقے میں 16,000 مینگرووز بھی لگائے گئے۔ کمپنی کے 85 فیصد ڈیلرشپس اب شمسی توانائی پر کام کر رہے ہیں، جبکہ مقامی سپلائرز میں سے 13 فیصد سے زائد نے شمسی توانائی اختیار کر لی ہے۔ مینوفیکچرنگ پلانٹ میں کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے مختلف منصوبوں کے ذریعے کمپنی نے سال کے دوران اپنے کاربن فٹ پرنٹ میں بھی کمی کی ہے۔
اپنے کنسرن بیونڈ کارز کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) پروگرام کے تحت آئی ایم سی نے کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے مختلف اقدامات پر 377 ملین روپے خرچ کیے، جن سے 255,761 افراد مستفید ہوئے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہے

