پیر, ستمبر 7, 2026
ہومٹیک اینڈ ٹیلی کام  آئی ٹی برآمدات 10 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے سیٹلائٹ...

  آئی ٹی برآمدات 10 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ ضروری ہے۔

کراچی: پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے قواعد جلد مکمل کرکے لائسنسوں کے اجرا کے لیے شفاف طریقہ کار اور واضح مدت مقرر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تیز رفتار اور قابل اعتماد انٹرنیٹ برآمدات، سرمایہ کاری، تعلیم اور صحت کے لیے بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی برآمدات کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ مالی سال 26–2025 میں ٹیلی کمیونی کیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی برآمدات تقریباً 21 فیصد اضافے سے 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال میں 3.8 ارب ڈالر تھیں۔ جولائی 2026 میں ان برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن تقریباً 18 فیصد بڑھ کر 417 ملین ڈالر رہی، جبکہ جولائی 2025 میں یہ 354 ملین ڈالر تھی۔ یہ کامیابیاں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں، فری لانسرز اور پڑھے لکھے نوجوانوں کی زرمبادلہ کمانے اور روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہیں

میاں زاہد حسین نے کہا کہ اس ترقی کو برقرار رکھنے اور نئی سطح تک لے جانے کے لیے قابل اعتماد اور تیز رفتارانٹرنیٹ ناگزیر ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور انٹرنیٹ سپیڈ میں تعطل سے غیر ملکی گاہکوں کے ساتھ آن لائن  میٹنگز، سافٹ ویئر کی سپلائی، ای کامرس، کلاؤڈ سروسز اور آن لائن لین دین متاثر ہوتے ہیں، جس سے پاکستانی کاروباری ادارے مقررہ وقت پر کام مکمل نہیں کر سکتے اور تاخیر کی وجہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے جس کی وجہ سے بیرون ملک کسٹمرز دوسرے ملکوں کو ترجیح دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جولائی 2026 میں سمندر کے اندر بچھائی گئی SEA-ME-WE 5 کیبل دو دن خراب رہی جس نے پاکستان کے انٹرنیٹ نظام کی کمزوری کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2025 میں دس سال اور اس سے زائد عمر کے افراد میں انٹرنیٹ استعمال کی شرح قومی سطح پر 57 فیصد، شہری علاقوں میں 69 فیصد اور دیہی علاقوں میں 49 فیصد تھی، یعنی شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان 20 فیصد پوائنٹس کا فرق موجود ہے۔ قومی سطح پر 70 فیصد گھرانوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل تھی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح صرف 61 فیصد اور شہری علاقوں میں 82 فیصد تھی تاہم یہ استعمال تفریحی مقاصد کے لیے زیادہ ہے جبکہ تجارتی اور پیداواری سرگرمیوں میں کم ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کو زیر سمندر کیبلز، زمینی نیٹ ورکس اور فائبر آپٹک کی توسیع کے ساتھ ساتھ اضافی سہولت کے طور پر فروغ دیا جانا چاہیے۔ مربوط منصوبہ بندی کے تحت سیٹلائٹ انٹرنیٹ خرابی کے دوران خدمات برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں، تاہم انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ بجلی کی ہمہ وقت دستیابی بھی ضروری ہے۔ حکومت اور سروسز فراہم کرنے والے اداروں کو سروس کی بحالی کی پیش رفت سے صارفین کو آگاہ رکھنا اور بین الاقوامی رابطوں کے متبادل راستے بڑھانا چاہئیں۔ سیٹلائٹ براڈبینڈ بالخصوص ان دور دراز آبادیوں کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے جہاں تار یا فائبر آپٹک بچھانا تجارتی اعتبار سے مشکل یا جغرافیائی حالات کے باعث مشکل ہو۔ ائی ٹی اور ای کامرس کے علاوہ صنعتیں، زراعت، کان کنی، سیاحت، تعلیمی اور طبی مراکز تیز رفتار اور قابل اعتماد انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی سروسز کو جدید اور عالمی معیار کے عین مطابق بنا سکتے ہیں۔ نوجوان صرف بہتر انٹرنیٹ کے حصول کے لیے نقل مکانی کیے بغیر فری لانسنگ، آن لائن تعلیم اور ای کامرس میں حصہ لے سکیں گے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں ڈیجیٹل رسائی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت اب بیماریوں کی تشخیص، طبی نگہداشت اور تحقیق میں گراں قدر معاونت کررہی ہے۔ عالمی سطح پر قابل اعتماد انٹرنیٹ سے منسلک طبی مراکز ڈاکٹروں کو اسکین اور طبی تصاویر ماہرین تک پہنچانے، ان کی رائے لینے اور مناسب طور پر آزمودہ ٹیکنالوجی کی مدد سے کینسر سمیت مختلف بیماریوں کی درست تشخیص میں مدد دے رہے ہیں۔ انگلینڈ کے قومی ادارہ صحت، این ایچ ایس، کے مطابق مالی سال 25–2024 کی آخری سہ ماہی میں جلد کے کینسر کے ماہرین کو بھیجے گئے کیسز میں سے 41 فیصد میں ٹیلی ڈرماٹولوجی، یعنی طبی تصاویر کے ذریعے معائنے سے استفادہ کیا گیا۔ پاکستان بھی تیز رفتار اور قابل اعتماد انٹرنیٹ کے ذریعے ماہر ڈاکٹروں کی زیرنگرانی طبی مراکز کو جدید ہسپتالوں سے جوڑ کر عوام کے لیے عالمی معیار کی خدمات متعارف کراسکتا ہے۔ بیرون ملک طبی ماہرین سے آن لائن مشاورت، علاج کی منصوبہ بندی اور بعد از علاج ریموٹ نگرانی سے مریضوں کے لیے سفری اخراجات اور پریشانیاں کم ہو سکتی ہیں۔

میاں زاہد حسین نے سرکاری اجازت ناموں میں ہم آہنگی، سیٹلائٹ انٹرنیٹ آپریٹرز کو شفاف مسابقتی بنیادوں پر مواقع دینے اور آلات پر عائد ڈیوٹیوں اور مسلسل وصول کیے جانے والے چارجز کا جائزہ لینے کی سفارش کی اور کہا کہ سستے سیٹلائٹ ٹرمینلز اور مشترکہ کنکشن چھوٹے کاروباروں کی عالمی اور لوکل رسائی بہتر بنا سکتے ہیں۔ حکومت کم ترقی یافتہ اضلاع، صنعتی مراکز اور شہری و دیہی صحت مراکز میں آزمائشی منصوبے شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکٹر کو قابل اعتماد رسائی، پیداواری مقاصد، روزگار اور بہتر عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین