جمعہ, اکتوبر 23, 2026
ہوممصنوعی ذہانتاے آئی (AI) اکاؤنٹنگ کے شعبے کے لیے ایک اہم ایتھیکل چیلنج...

اے آئی (AI) اکاؤنٹنگ کے شعبے کے لیے ایک اہم ایتھیکل چیلنج بن گئی

کراچی، 22 اکتوبر،2026: ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (ACCA) نے21 اکتوبر کو یوم اخلاقیات (Global Ethics Day) کے موقع پر اپنی تازہ ترین سروے رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کو سب سے بڑا اخلاقی چیلنج قرار دینے والے پروفیشنل اکاؤنٹنٹس کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سروے میں 61 فیصد شرکا نے اس چیلنج کی نشاندہی کی، جبکہ 2024 میں ACCA کے سروے میں یہ شرح 32 فیصد تھی۔

نیویگیٹنگ ایتھکس فار ٹرسٹ کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق ایتھیکل لیڈرشپ (43 فیصد) اورایتھیکل کلچر (39 فیصد) جواب دہندگان کے نزدیک AIتین بڑے ایتھیکل چیلنجز میں شامل ہیں۔2026 کے اس سروے میں 135 ممالک سے تعلق رکھنے والے فنانس اور اکاؤنٹنگ کے شعبوں کے ماہرین کی جانب سے موصول ہونے والے 1178 جوابات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ گول میز مباحثوں کے ذریعے بھی آرا اور تجربات جمع کیے گئے، جن سے تحقیق کے نتائج کو مزید گہرائی اور وسعت ملی۔

رپورٹ کے مطابق اکاؤنٹنگ کا شعبہ آج بھی بنیادی اصولوں پر مضبوطی سے قائم ہے، تاہم پروفیشنلز کوایسے حالات کا سامنا ہے جہاں دباؤ بڑھ رہا ہے، معاملات پیچیدہ ہو رہے ہیں اور عملی طور پر ان سے نمٹنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سروے کے50 فیصد شرکا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ایتھیکل چیلنجز کا حل نکالنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے، جبکہ 53 فیصد نے بتایا کہ انہوں نے اس عرصے میں اَن ایتھیکل رویوں کا مشاہدہ کیا ہے۔

ہیڈ آف ایتھیکس اینڈ ایشورنس ACCA سارہ لین نے کہا، ’’مجموعی طور پر یہ صورتِ حال ایک ایسے شعبے کی عکاسی کرتی ہے جو آج بھی بنیادی اصولوں پر کاربند ہے، اپنے طرز عمل کا شعور رکھتا ہے اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے تیار ہے۔ مالیاتی شعبے کے ماہرین مزید قواعد و ضوابط نہیں چاہتے، کیونکہ بنیادی اصول ہی ان کے لیے درست طرز عمل کی بنیاد ہیں۔ وہ ایسے وسائل، معاونت اور رہنمائی کے طلب گار ہیں جن کی مدد سے تیزی سے پیچیدہ ہوتی دنیا میں ان اصولوں پر مؤثر انداز میں عمل کر سکیں۔‘‘

پاکستان میں ACCA کے سربراہ اسد حمید خان نے کہا، ’’کاروبار اور مالیاتی شعبے میں AIکا استعمال بڑھنے کے ساتھ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہوگیا ہے کہ اس کے استعمال میں انہی بنیادی اصولوں کی پاسداری کی جائے جو اکاؤنٹنگ کے شعبے میں اعتماد کی بنیاد ہیں۔ان اصولوں میں دیانت داری، غیر جانب داری، پروفیشنل مہارت ، رازداری اور پروفیشنل طرز عمل شامل ہیں۔پاکستان میں مالیاتی شعبے سے وابستہ ماہرین کے لیے ضروری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر پیشہ ورانہ فیصلے کریں، AI کے فراہم کردہ نتائج کا تنقیدی جائزہ لیں اور جواب دہی کی ذمہ داری کو واضح اور یقینی بنائیں۔ ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط ایتھیکل لیڈر شپ، معاون ادارہ جاتی ماحول اور مسلسل سیکھنے کا عمل ناگزیر ہے۔‘‘

رپورٹ میں ایک ٹول کٹ شامل ہے، جس میں انٹرنیشنل کوڈ آف ایتھکس فار پروفیشنل اکاؤنٹنٹس (IEBSA کوڈ) کو عملی صورت حال میں لاگو کرنے کے لیے دس مراحل پر مشتمل طریقہ کار پیش کیا گیا ہے۔ سروے کے اعداد و شمار سے سامنے آنے والے دیگر اہم نتائج درج ذیل ہیں:

1۔ 89 فیصد شرکا اس بات سے متفق ہیں کہ اکاؤنٹنگ کے شعبے میں ایتھیکل اصولوں پر عمل کرنے کی صلاحیت اب بھی مستحکم ہے، تاہم اسے برقرار رکھنے کے لیے پروفیشنل تربیت اور ترقی ضروری ہے۔
2۔ اس شعبے پر اعتماد کی بنیاد مضبوط ایتھیکل معیارات (46 فیصد)،( شفافیت (38 فیصد) اور خودمختاری و غیر جانب داری (36 فیصدپر ہے۔
3۔ عملی طور پر ایتھیکل رویوں کو فروغ دینا مشترکہ ذمہ داری ہے، جس میں اخلاقی اقدار پر مبنی ادارہ جاتی ثقافت اور قیادت بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ سروے کے مطابق2024 اور 2026 دونوں میں ایتھیکل لیڈرشپ اور ادارہ جاتی ایتھیکل کلچر کو بڑے ایتھیکل چیلنجز میں شمار کیا گیا۔

سارہ لین نے مزید کہا، ’’ ACCAنے ایتھیکس کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔ ہم آئندہ سال اپنی دوبارہ ڈیزائن کردہ کوالیفکیشن متعارف کروا رہے ہیں جس میں ایتھیکس کو جامع انداز میں شامل کیا جائے گا، تاکہ آنے والی نسلوں کو نئے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین