23 اپریل 2026: سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) نے یومِ ارض کے موقع پر مٹھی، تھرپارکر میں “ہماری طاقت، ہمارا سیارہ” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا، جس میں حکومتی نمائندگان، ریگولیٹرز، سول سوسائٹی تنظیموں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ شرکاء میں علی محمد رند (ڈپٹی ڈائریکٹر، سیپا میرپورخاص)، پروفیسر نواز کمبھار (کلائمٹ اسمارٹ نیٹ ورک)، میر حسن (سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام)، اعجاز بجیر (تھر سٹیزنز فورم) اور فرحان انصاری (تھر فاؤنڈیشن) سمیت دیگر شامل تھے۔
مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے تھر میں پائیدار طرزِ عمل کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ماحولیاتی ذمہ داری کو ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی اور تھر فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے تھر میں معیارِ زندگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فاؤنڈیشن کا جامع اور شمولیتی نقطۂ نظر، جو اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) سے ہم آہنگ ہے، خطے اور اس کے عوام کے لیے طویل المدتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
تھر ملین ٹری پروگرام کے تحت تھر فاؤنڈیشن نے بلاک ٹو میں 12 لاکھ سے زائد درخت لگائے ہیں، جبکہ تھر گرین پروجیکٹ کے تحت مٹھی اور اسلام کوٹ میں تقریباً 32 ہزار پودے لگائے گئے ہیں۔ فاؤنڈیشن نے 2023 میں جامع فلورا و فونا اسٹڈی کے بعد تھر میں پاکستان کا پہلا فلورا اسٹیشن بھی قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ 15 ہزار سے زائد نوجوانوں کو ماحولیاتی آگاہی اور گدھوں کے تحفظ سے متعلق تربیت دی گئی ہے، جس سے ماحولیاتی اور حیاتیاتی تنوع کے حوالے سے کمیونٹی کی شمولیت مضبوط ہوئی ہے۔
ڈاکٹر مہیش نے مزید کہا کہ قدرتی وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تھر کے مقامی افراد جاری ترقیاتی عمل سے مستفید ہوتے رہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی میرپورخاص، علی محمد رند نے بھی ماحولیاتی تحفظ کی جاری کوششوں کو سراہتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ وہ زیادہ درخت لگائیں، پانی کی بچت کریں، پلاسٹک بیگز کے استعمال سے گریز کریں، بجلی کی کھپت کم کریں اور روزمرہ زندگی میں ماحول دوست طرزِ عمل اپنائیں۔
سیمینار کے اختتام پر تمام اسٹیک ہولڈرز نے تھر کے لیے ایک پائیدار مستقبل کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت، صنعت اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان اشتراکِ عمل ناگزیر ہے تاکہ ترقی ذمہ دارانہ، شمولیتی اور ماحول دوست بنیادوں پر جاری رہے اور تھرپارکر کے عوام کی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔

