اتوار, ستمبر 6, 2026
ہومبزنسمکہ مکرمہ کا دفاعی معاہدہ مسلم دنیا کے اتحاد، امن اور معاشی...

مکہ مکرمہ کا دفاعی معاہدہ مسلم دنیا کے اتحاد، امن اور معاشی تعاون کی نئی امیدہے،زبیرطفیل

 مسلم ممالک اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مشترکہ مفادات کے لیے متحد ہو سکتے ہیں، صدر یو بی جی

کراچی(کامرس رپورٹر)یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے صدر اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیرطفیل نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدے کوتینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی اور اسٹرٹیجک تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت  قرار دیاہے۔زبیرطفیل نے کہا کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا مختلف بحرانوں، تبدیلیوں، تجارتی تنازعات اور علاقائی کشمکش کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں مسلم دنیا کے بڑے ممالک کا مشترکہ دفاعی اتحاد نہ صرف مسلم امہ کی سلامتی، خودمختاری اور خوداعتمادی کے لیے ایک تاریخی فیصلہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلمانوں کی تاریخی کمزوری اور اختلافات نے ہمیشہ دشمنوں کو تقویت دی ہے، ہماری سرحدیں مسلسل خطرات کا سامنا کرتی رہی ہیں، ہماری سیاسی اور معاشی طاقت متاثر ہوئی ہے، اگر آج ہم متحد ہو کر مشترکہ دفاعی معاہدے کرتے ہیں تو یہ ایک نئی امید کی کرن ہے کہ مسلم ممالک اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مشترکہ مفادات کے لیے متحد ہو سکتے ہیں، مکہ مکرمہ کا یہ معاہدہ اسی ضرورت کو تسلیم کرنے اور مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد رکھنے کی ایک روشن مثال ہے۔زبیرطفیل نے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کو ایک دوسرے کے سلامتی، خودمختاری، خوشحالی اور علاقائی استحکام کی حفاظت کے لیے باہمی تعاون کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دفاعی معلومات کے تبادلے، مشترکہ عسکری مشقوں، حفاظتی ٹیکنالوجی کی منتقلی، اسلحہ سازی اور سائبر دفاع سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گااور تینوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ  باہمی  تعلقات کو ایک نئی سمت اور مزید مضبوط بنیاد فراہم کرے گا،پاکستان کے لیے یہ معاہدہ خاص اہمیت رکھتا ہے، پاکستان ایک مضبوط دفاعی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے اور سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ اس کے دیرینہ برادرانہ اور اسٹرٹیجک تعلقات ہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے اہم ہوگا بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اگر اپنے باہمی تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرتے ہیں تو تینوں ممالک کے کاروباری افراد، سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے لیے نئی منڈیاں اور مواقع پیدا ہوں گے۔ صنعت، تجارت، انفراسٹرکچر، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، اس کے نتیجے میں پاکستان اور برادر اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی روابط میں اضافہ ہوگا اور معاشی تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔زبیرطفیل نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاہدے کو صرف ایک دفاعی دستاویز تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے وسیع تر معاشی، سیاسی، سفارتی اور سماجی تعاون کی بنیاد بنایا جائے۔ 

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین