جمعہ, جون 5, 2026
ہومآٹوموبلٹویوٹا کی پاکستان میں مینوفیکچرنگ میں شاندار کارکردگی اور صنعتی قیادت کے...

ٹویوٹا کی پاکستان میں مینوفیکچرنگ میں شاندار کارکردگی اور صنعتی قیادت کے 35 سال مکمل

کراچی: 18 مئی 2026: انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے 15 مئی 2026 کو پاکستان میں ٹویوٹا موٹر کارپوریشن کی موجودگی کے 35 سال مکمل ہونے کا جشن منایا گیا۔ اس موقع پر مینوفیکچرنگ میں شاندار کارکردگی، لوکلائزیشن، اور ملک کی آٹو موبائل صنعت میں مسلسل کردار کو اجاگر کیا گیا۔ کمپنی نے اپنے قیام سے اب تک ملک بھر میں 12 لاکھ سے زائد گاڑیاں فروخت کی ہیں۔ آج آئی ایم سی کا وسیع ڈیلر اور سپلائر نیٹ ورک اپنی ویلیو چین میں 55 ہزار سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے، جبکہ گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں کے دوران قومی خزانے میں تقریباً 6.3 ارب امریکی ڈالر ٹیکس کی مد میں جمع کروا چکا ہے، جو سالانہ حکومتی ٹیکس وصولیوں کا تقریباً ایک فیصد بنتا ہے۔

اس اہم سنگِ میل کی تقریب ٹویوٹا کے مینوفیکچرنگ پلانٹ، پورٹ قاسم کراچی میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستان میں جاپان کے سفیر شوئیچی آکاماتسو، ہیروشی نامبو، پریزیڈنٹ بزنس پلاننگ اینڈ آپریشن، ٹویوٹا موٹر کارپوریشن؛ ماساہیکو مائیدا، سی ای او ٹویوٹا موٹر ایشیا؛ شیگیرو ہاراڈا، سی ای او موبیلٹی ڈویژن اینڈ گروتھ مارکیٹ ریجن، ٹویوٹا سوشو کارپوریشن؛ ہیروشی یونیناگا، سی ای او ایشیا پیسیفک ریجن و پریزیڈنٹ، ٹویوٹا سوشو کارپوریشن؛ محمد علی رفیق حبیب، چیئرمین انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ؛ اور علی اصغر جمالی، چیف ایگزیکٹو آفیسر انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ سمیت آئی ایم سی کے 3 ہزار ملازمین نے شرکت کی۔

پاکستان میں تقریباً ساڑھے تین دہائی قبل پہلی ٹویوٹا کرولا تیار کی گئی تھی، جو آج بھی آئی ایم سی کے ہیڈکوارٹر میں موجود ہے۔ ابتدائی طور پر سالانہ 5 ہزار گاڑیوں کی پیداواری صلاحیت سے آغاز کرنے والی کمپنی آج سالانہ 76 ہزار گاڑیاں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 1989 میں قیام کے بعد سے آئی ایم سی نے پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کی بنیاد رکھنے اور مضبوط مقامی انجینئرنگ بیس کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ لوکلائزیشن کے عمل میں بھی نمایاں قیادت کی۔

آئی ایم سی کی خدمات اس کی مربوط ویلیو چین میں نمایاں ہیں، جہاں مقامی پارٹس مینوفیکچررز یومیہ 21 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے پرزہ جات فراہم کرتے ہیں تاکہ پاکستان کے لیے بہترین معیار کی ٹویوٹا گاڑیوں کی تیاری ممکن بنائی جا سکے۔ یہ گاڑیاں ملک بھر میں قائم 58 مجاز ڈیلرشپس کے نیٹ ورک کے ذریعے صارفین تک پہنچائی جاتی ہیں۔

آئی ایم سی نے گزشتہ 35 برس کے دوران آٹو موبائل صنعت کی ترقی میں حکومتِ پاکستان کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سازگار پالیسی ماحول، لوکلائزیشن، اور صنعتی ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاپان کے سفیر شوئیچی آکاماتسو نے ٹویوٹا کو پاکستان اور جاپان کے دیرینہ تعلقات کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی مسلسل سرمایہ کاری مضبوط دوطرفہ تعلقات اور مشترکہ اقتصادی ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔

اس موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے ہیروشی نامبو نے کہا کہ پاکستان میں ٹویوٹا کے 35 سالہ سفر کی بنیاد صارفین کے اعتماد، مضبوط شراکت داری، اور معیار، پائیداری اور حفاظت کے غیر متزلزل عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے آئی ایم سی کے تمام ملازمین کی محنت اور اعلیٰ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہی کوششوں کے باعث کمپنی نے مسلسل دو برس زیرو ڈیفیکٹ اسٹیٹس حاصل کیا، جو عالمی معیار کی مینوفیکچرنگ اور“بیسٹ اِن ٹاؤن”بننے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی عزم صارفین کے لیے دیرپا قدر پیدا کرنے اور پاکستان کی طویل المدتی صنعتی ترقی میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔

شیگیرو ہاراڈا نے آئی ایم سی کی لوکلائزیشن اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے شعبوں میں مضبوط پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان میں ٹویوٹا سوشوکارپوریشن کی دیرینہ شراکت داری کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی وسیع اور گہری لوکلائزیشن کی حمایت جاری رکھے گی، جس کے نتیجے میں پاکستان تقریباً 6.5 ارب امریکی ڈالر زرمبادلہ کی بچت کرنے میں کامیاب ہوا ہے، جبکہ ملکی آٹو موبائل ایکو سسٹم بھی مستحکم ہوا ہے۔

چیئرمین آئی ایم سی محمد علی رفیق حبیب نے 35 سالہ سفر کو ایک طویل المدتی وژن کی تعبیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ٹویوٹا کی سرمایہ کاری نے عالمی معیار کے بہترین طریقہ کار کی منتقلی اور مقامی صلاحیتوں کی ترقی کو ممکن بنایا۔

انڈس موٹرز کمپنی کے سی ای او علی اصغر جمالی نے کہا کہ کمپنی نے گزشتہ 35 برس میں 736 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں مزید 300 ملین امریکی ڈالر سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کا ایکو سسٹم اپنے مضبوط ڈیلرز اور سپلائرز نیٹ ورک کے ذریعے مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے، جبکہ“کنسرن بیونڈ کارز”کے تحت سماجی اقدامات سے سالانہ 2 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ“ہمارے لوگ ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں اور میں ان کی لگن اور محنت پر شکر گزار ہوں۔ ہمیں بہترین لوگ، ڈیلرز، سپلائرز، ایک مضبوط برانڈ اور سب سے بڑھ کر وفادار صارفین میسر ہیں، جن کا میں خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جیسا کہ ٹویوٹا میں کہا جاتا ہے، ہم زندگی بھر کے لیے کسٹمر نہیں بلکہ نسلوں کے لیے صارفین بناتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ آٹو موبائل صنعت کی طویل المدتی ترقی، اہم خام مال کی لوکلائزیشن، درآمدات پر انحصار میں کمی، اور پاکستان کی صنعتی مسابقت بڑھانے کے لیے ایک مستحکم اور مستقبل دوست آٹو پالیسی فریم ورک ناگزیر ہے۔

تقریب کے دوران معزز مہمانوں نے کمپنی کے“گرین پاکستان”اقدام کے تحت دس لاکھواں درخت لگا کر ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ آئی ایم سی پاکستان کی پہلی آٹو موبائل کمپنی بن گئی ہے جس نے صرف پانچ برسوں میں یہ ہدف حاصل کیا۔ یہ کامیابی ماحولیاتی بحالی اور ماحول دوست مستقبل کے لیے ٹویوٹا کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

انڈس موٹر کمپنی کو 1989 میں ہاؤس آف حبیب، ٹویوٹاسوشو کارپوریشن اور ٹویوٹا موٹر کارپوریشن کے درمیان ایک مشترکہ منصوبے (جوائنٹ وینچر) کے طور پر قائم کیا گیا تھا، اور یہ پاکستان میں ٹویوٹا گاڑیوں، ان کے پرزوں (پارٹس) اور لوازمات (ایکسیسریز) کی باقاعدہ مجاز مینوفیکچرر اور اسمبلر ہے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین