کراچی، 28 اپریل 2026: جی ایس کے پاکستان اور ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے ملک میں محفوظ پانی کی فراہمی اور میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے اقدامات کو وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے 2030 تک اہداف حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں اداروں نے 2025 میں پانچ سالہ فریش واٹر ریزیلینس پروگرام شروع کیا جس کے تحت کراچی، لاہور، کینجھر جھیل اور انڈس ڈیلٹا میں صاف پانی، پانی کے دوبارہ استعمال، شہری شجرکاری اور کمیونٹی سطح پر حیاتیاتی تنوع کی نگرانی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
یہ شراکت داری مقامی سطح پر مشترکہ حل تیار کرنے پر مرکوز ہے تاکہ کمیونٹیز، قدرتی مسکن اور حیاتیاتی تنوع کے لیے میٹھے پانی کی پائیداری کو بہتر بنایا جا سکے اور اقوام متحدہ کے 2030 ایجنڈے کے اہداف کے حصول میں پیش رفت تیز ہو۔ یہ پروگرام جی ایس کے کے اس عزم کا حصہ ہے کہ وہ 2030 تک اپنے آپریشنز اور پانی کی کمی والے علاقوں میں سپلائرز کے ساتھ مل کر واٹر نیوٹرل بنے گا، جبکہ استعمال شدہ پانی کو مقامی ماحول اور کمیونٹیز میں بحال کیے جانے والے پانی کے ساتھ متوازن کیا جائے گا۔
پروگرام کے تحت شہری علاقوں میں پانی کے معیار اور دستیابی میں بہتری، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابلے کے لیے آبی وسائل کے انتظام کو مضبوط بنانا، مقامی صلاحیت سازی اور شراکت داری کو فروغ دینا، اور بلدیاتی، صوبائی و قومی سطح پر پالیسی سازی پر اثرانداز ہونا شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور وزارت آبی وسائل کے تحت پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کو بھی شامل کیا گیا، جبکہ ملک بھر میں جاری فریش واٹر اقدامات کی قومی سطح پر میپنگ مکمل کر لی گئی ہے۔
سال 2025 کے دوران کراچی کے شرافی گوٹھ میں شمسی توانائی سے چلنے والا پینے کے پانی کا فلٹریشن پلانٹ نصب کیا گیا جس سے قریبی گورنمنٹ گرلز کالج سمیت تقریباً 1,500 افراد کو مفت صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے اور کمیونٹی کو سالانہ تقریباً 27 لاکھ روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ اسی طرح وضو کے پانی کے دوبارہ استعمال کے چار نظام کراچی اور لاہور میں نصب کیے گئے جن کی مجموعی سالانہ صلاحیت 18,660 مکعب میٹر ہے اور یہ پانی اب شہری سبزہ زاروں کی آبپاشی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
کراچی کے بن قاسم ٹاؤن میں ایک سرکاری اسکول میں 15 بیت الخلا بلاکس اور سیوریج نظام کی بحالی سے 1,144 طلبہ مستفید ہوئے، جبکہ شرافی گوٹھ میں دو مقامات پر شہری سبزہ زار بحال کیے گئے جہاں مقامی آب و ہوا کے مطابق پودے لگا کر ماحول کو بہتر بنایا گیا۔ لاہور کے انجینئرز ٹاؤن میں زیر زمین پانی کی بحالی کے لیے ریچارج کنواں نصب کیا گیا جس کی سالانہ گنجائش 5,500 مکعب میٹر ہے۔
کینجھر جھیل پر کمیونٹی کی سطح پر حیاتیاتی تنوع کی نگرانی کا گروپ بھی قائم کیا گیا ہے جو مقامی انواع، مسکن اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہا ہے، جبکہ مختلف تعلیمی اداروں اور کمیونٹیز میں آگاہی سیشنز کے ذریعے طلبہ اور مقامی افراد کی استعداد کار بھی بڑھائی گئی۔
جی ایس کے پاکستان کی جنرل منیجر اور نائب صدر ارم شاکر رحیم کا کہنا پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو پانی کی شدید کمی کے خطرات سے دوچار ہیں اور اس شراکت داری کے ذریعے آئندہ پانچ برسوں میں عملی اور مقامی حل کو فروغ دے کر محفوظ پانی کی فراہمی اور پالیسی سطح پر تبدیلی لائی جائے گی۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر فریش واٹر پروگرام سہیل علی نقوی نے کہا کہ پانی کے مسائل حکومتوں، صنعتوں اور کمیونٹیز سب کو متاثر کرتے ہیں اور ان کا حل صرف مشترکہ اور مربوط کوششوں سے ہی ممکن ہے، جس میں کارپوریٹ شراکت داری کلیدی کردار ادا کرتی ہے

