تحریر: سید عفنان علی
رش کے اوقات میں کراچی کی کسی بھی مصروف سڑک پر نظر ڈالیں تو منظر خاصا مانوس محسوس ہوتا ہے۔ رینگتی ہوئی گاڑیاں، لوگوں سے بھرے چائے کے کھوکھے، اور فضا میں تحلیل ہوتا سگریٹ کا دھواں ، یہ سب کچھ روزمرہ زندگی کا معمول دکھائی دیتا ہے۔ دھواں موجود تو ہوتا ہے، مگر اس پر شاذ و نادر ہی سوال اٹھایا جاتا ہے، گویا یہ ماحول کا ایک فطری حصہ بن چکا ہو۔
یہی خاموش معمول بن جانا وہ مقام ہے جہاں پاکستان میں اس موضوع پر ہونے والی گفتگو اصل نکتے سے دور ہو جاتی ہے۔
کئی برسوں سے تمباکو نوشی کو زیادہ تر ایک ذاتی انتخاب یا عادت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن عوامی صحت کا مسئلہ صرف انفرادی طرزِ عمل تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب سگریٹ جلتا ہے تو اُس لمحے کیا ہوتا ہے۔ جیسے ہی جلنے کا عمل شروع ہوتا ہے، زہریلے مادّوں پر مشتمل دھواں خارج ہوتا ہے، جو نہ صرف سگریٹ نوش افراد بلکہ اُن کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔
بدقسمتی سے زیادہ تر گفتگو کا محور یہی اصل مسئلہ نہیں بنتا۔
اس مسئلے کی شدت زیادہ واضح اور سنجیدہ گفتگو کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان میں بالغ تمباکو نوش افراد کی تعداد 17 ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں ہونے والی مجموعی اموات میں سے 10 فیصد سے زائد اموات کا تعلق تمباکو کے استعمال سے ہے۔ گلوبل برڈن آف ڈیزیز 2024 کے مطابق تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات کی سالانہ شرح ہر 100,000 افراد میں 91.1 ہے، جو علاقائی اور عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔
یہ اعداد و شمار صرف انفرادی رویّوں کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ ایک وسیع عوامی صحت کے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ دھوئیں کے اثرات صرف سگریٹ نوش افراد تک محدود نہیں رہتے۔ پاکستان میں تمباکو سے متعلق ہونے والی تقریباً ہر پانچ میں سے ایک موت کی وجہ دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نقصان کا ایک بڑا حصہ اُن افراد کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی کا انتخاب نہیں کیا۔
سگریٹ کا دھواں گھروں، دفاتر اور عوامی مقامات پر صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ اردگرد موجود ہر شخص کی صحت کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دھوئیں سے پاک ماحول کو عوامی صحت کے تحفظ کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایسے اقدامات کا مقصد لوگوں کو اچھا یا برا ثابت کرنا نہیں بلکہ اُس اصل خطرے کو کم کرنا ہے جو سگریٹ کے جلنے سے پیدا ہونے والے زہریلے دھوئیں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
حقیقت پسندانہ گفتگو کا آغاز بھی یہیں سے ہونا چاہیے۔ اگرچہ سگریٹ نوشی ترک کرنا خطرات سے بچنے کا سب سے مؤثر حل ہے، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ زیادہ تر افراد فوری طور پر یہ عادت ترک نہیں کر پاتے۔ اکثر لوگ مکمل طور پر سگریٹ نوشی چھوڑنے سے پہلے کئی بار کوشش کرتے ہیں۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرنے والی گفتگو بظاہر مثبت ضرور محسوس ہوتی ہے، مگر عملی طور پر مکمل تصویر پیش نہیں کر پاتی۔
عالمی سطح پر اس بات کا ادراک بڑھ رہا ہے کہ جلنے کے عمل (combustion) سے پیدا ہونے والے دھوئیں کے اثرات کو کم کرنا مجموعی نقصان میں کمی لانے میں کردار ادا کر سکتا ہے، خصوصاً اُن افراد کے لیے جو تمباکو نوشی جاری رکھتے ہیں۔ اسی سوچ نے دھوئیں سے پاک پالیسیوں، رویّوں میں تدریجی تبدیلی، اور اُن حکمتِ عملیوں پر زیادہ سنجیدہ اور حقیقت پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا ہے جو اس حقیقت پر مبنی ہیں کہ نقصان دراصل کیسے پیدا ہوتا ہے۔
تاہم پاکستان میں اس نوعیت کی گفتگو اب بھی محدود ہے۔ اب بھی توجہ عمومی بحث اور روایتی مؤقف تک محدود رہتی ہے، جبکہ بنیادی مسئلہ نسبتاً کم زیرِ بحث آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نقصان کا اصل محرک صرف تمباکو یا نکوٹین کی موجودگی نہیں بلکہ جلنے کا وہ عمل ہے جو زہریلا دھواں پیدا کرتا ہے۔
اس فرق کو بہتر انداز میں سمجھنا عوامی صحت سے متعلق زیادہ مؤثر پالیسیوں اور اقدامات کی تشکیل میں مدد دے سکتا ہے۔ پاکستان کو تمباکو نوشی کے بارے میں کسی نرم رویّے کی نہیں بلکہ زیادہ باخبر اور حقیقت پسندانہ گفتگو کی ضرورت ہے۔ ایسی گفتگو جو یہ تسلیم کرے کہ بڑے خطرات کہاں موجود ہیں، یہ خطرات فرد سے آگے دوسروں تک کیسے منتقل ہوتے ہیں، اور کون سے عملی اقدامات بڑے پیمانے پر لوگوں کو دھوئیں کے اثرات سے بچا سکتے ہیں۔
کیونکہ جب تک گفتگو جلنے کے عمل اور دھوئیں کے اصل خطرات پر مرکوز نہیں ہوگی، تب تک ہم اس مسئلے کی جڑ تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

