پاک افغان سرحدی بندش سے طبی سیاحت پر منفی اثرات پڑے ہیں۔
پاک افغان سرحدی تجارت بند ہونے سے ادویات سازی کی صنعت بھی متاثر ہوئی ہے۔ سرحدی بندش سے طبی سیاحت میں کمی ہوئی ہے اور ادویات ساز کمپنی کی فروخت بھی کم ہوئی ہے۔ یہ بات کثیر ملکی ادویات ساز کمپنی گیلیکسو اسمتھ لائین (جی ایس کے) نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں سرمایہ کاری کے تجزیہ کاروں کو بریفنگ میں بتائی۔
جی ایس کے کا پاکستانی مارکیٹ میں حصہ 9 فیصد ہے۔ جو کہ حجم کے لحاظ سے اسے پاکستان کی سب سے بڑی ادویات ساز کمپنی بناتا ہے۔ کمپنی کی تیار کردہ ادویات میں سے تقریباً 45 تا 50 فیصد لازمی جان بچانے والی جبکہ 50 تا 55 فیصد نان ایسینشل مصنوعات شامل ہیں۔
جی ایس کے کی انتظامیہ کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا کمپنی کی مجموعی آمدنی میں تقریباً 20 فیصد حصہ ہے۔میڈیکل ٹورازم میں کمی اور افغان سرحد کی بندش کی وجہ سے ان علاقوں میں فروخت دباو کا شکار ہے۔
مارکیٹ کی مجموعی صورتحال پربریفنگ دیتے ہوئے جی ایس کے کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ملک ادویات کی مارکیٹ میں اضافہ زیادہ تیزی سے ہورہا ہے۔ مارکیٹ میں تقریباً 700 کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں سے ٹاپ 20 کمپنیوں کا مارکیٹ شیئر 69 فیصد ہے۔ ملکی ادویات کی مارکیٹ کا حجم 1.1 کھرب روپے تک تجاوزکرچکاہے۔ اورسالانہ 16 فیصد کے حساب سے ادویات کے استعمال میں اضافہ ہورہا ہے۔ جبکہ گزشتہ چار سال کا مرکب سالانہ شرح نمو 18 فیصد رہی۔ جبکہ ملکی آبادی میں اضافہ تین فیصد کی شرح سے بھی ہورہا ہے۔ اس طرح آبادی میں اضافے کے مقابلے 6 گنا زائد ہے۔
جی ایس کے کی اتنظامیہ کا کہنا تھا کہ سال 2025 کے دوران کمپنی کی خالص آمدنی 65.9 ارب روپے رہی جو سال 2024 کے مقابلے میں 7.7 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کا بعد از ٹیکس منافع 53.4 فیصد اضافے کے ساتھ 10 ارب روپے رہا۔ اس طرح بعد از ٹیکس مارجن گزشتہ سال کے 10.7 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 15.2 فیصد ہوگیا۔
یہ تفصیلات جی ایس کے کی انتظامیہ نے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا مشورہ دینے والے تجزیہ کاروں کو بریفنگ میں بتائی سال 2025 کے اختتام پر کمپنی کے مجموعی مارجن میں 37 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بہتری نان آپریشنل پورٹ فولیو کی ڈی ریگولیشن اور منافع برقرار رکھنے کے اقدامات کے باعث ممکن ہوئی۔
کمپنی کی دیگر زرائع سے آمدن 1.4 ارب روپے رہی۔ سال 2024 یہ 2.8 ارب روپے تھی۔ اس کی بنیادی وجہ پروموشنل الاونس میں نمایاں کمی تھی۔ پروموشنل الاونس 2.1 ارب روپے سے کم ہو کر 61 کروڑ 50لاکھ روپے رہ گئی ہے۔

