جمعہ, جون 5, 2026
ہومسفر اور سیاحتامریکیوں کی جانب سے کینڈا کی شہریت حاصل کرنے میں دلچسپی کیوں...

امریکیوں کی جانب سے کینڈا کی شہریت حاصل کرنے میں دلچسپی کیوں بڑھ رہی ہے

امریکی معاشرے میں عدم برداشت غیر یقینی معاشی صورتحال اور ریاستی سطح پر کمزور سماجی تحفظ سے شہری پریشان ہیں

تجزیہ دی نیوز آئیز

امریکا دنیا میں سب سے بڑی معاشی اور اقتصادی ملک کے ساتھ ساتھ ایک بڑی عسکری قوت بھی ہے۔ اور اس کا مظاہرہ اس وقت ایران پر حملے میں جاری بھی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے ترقی پذیر ملکوں کے شہری یہ خواب رکھتے ہیں کہ انہیں کسی طرح امریکی شہریت حاصل ہوجائے جس کی بدولت وہ دنیا کے سب سے مضبوط اور ترقی یافتہ معیشت میں اپنا مستقبل سنوار سکیں۔ مگر امریکی معاشرے میں سفید فارم اکثریت کی جانب سے بڑھتے ہوئے پرتشدد رجحانات اور سیاسی عدم برداشت نے امریکیوں کو شہریت کے حوالے سے دیگر ملکوں کی جانب دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے وابستہ ویوین سانگ نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکیوں کی بڑی تعداد ملک میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال، سماجی عدم برداشت کی وجہ سے اب امریکی شہریوں میں کینڈا کی شہریت حاصل کرنے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔

امریکا میں دستیاب ڈیٹا کے مطابق مجموعی آبادی کا ساٹھ فیصد سفید فارم امریکیوں پر مشتمل ہے ان کے بعد 19فیصد ہسپانوی نژاد امریکی، 12 فیصد سیاح فارم امریکی، 6 فیصد ایشیائی اور باقی 3 فیصد دیگر قومیتوں کے افراد رہتے ہیں۔

سفید فارم افراد کی اکثریت ہونے کے باوجود امریکا میں آبادی میں تیزی سے تبدیلی واقع ہورہی ہے۔ سیفدفارم اکثریت میں 2020 کی مردم شماری کے مطابق 8.6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ سیفد فارم اکثریت میں بوڑھے اور عمر رسیدہ افراد کی تعداد زیادہ ہے جس کی وجہ سے ان کی شرح پیدائش کے مقابلے میں شرح اموات بڑھ رہی ہے۔ اس وجہ سے جنریشن زی تک سفید فارم اکثریت تھی مگر جنریشن الفا میں یہ اکثریت اقلیت میں تبدیل ہوگئی ہے۔ بعض امریکی ریاستوں جہاں ترقی کی شرح کم ہے وہاں سفید فارم آبادی کم ہورہی ہے۔ بچوں کی پیدائش کی موجودہ شرح کو دیکھا جائے تو اس صدی کے نصف تک امریکا میں لاطینی اور ہسپینک افراد سیفد فارم اکثریت سے زیادہ ہوجائیں گے۔ آبادی کے کم ہونے کی وجہ سے امریکا میں جہاں سفید فارم افراد ملازمت کی ترجیح تھے اب وہاں دیگر قومتیتوں کے افراد نظر آتے ہیں۔ جس کی وجہ سے سفید فارم اکثریت میں غصہ بڑھ رہا ہے۔ اور امریکی معاشرے میں عدم برداشت کی نشاندہی کرتا ہے۔ سفید فارم اکثریت کی جانب سے بڑھتا ہوا غصہ اور عدم برداشت لوگوں کو کینڈا یا دیگر ملکوں کی شہریت حاصل کرنے کی جانب سوچنے پر مجبور کررہی ہے۔

سی این این کی اس رپورٹ کے مطابق موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد امریکا میں عدم برداشت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عدم برداشت کے اس ماحول سے صدر ٹرمپ کے مخالف پارٹی کے سیاستدان بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ نیویارک ریاست کی رکن پارلیمٹ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی علاقاٹی سربراہ ایلن روبیلارڈ بھی کینڈین شہریت کے حصول کے لئے سرگرم ہیں۔ کیونکہ انہیں سیاسی مخالفت کی وجہ سے تشدد،  سماجی رابطے کے پلیٹ پر دھمکیوں اور مخالفین کی جانب سے پیچھا کیئے جانے جیسے واقعات کا سامنہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہی ذہنی دباو، ڈپریشن، بے خوابی جیسے مسائل کا شکار ہوگئی ہیں۔ وہ امریکا میں اپنی زندگی سے مایوس ہوچکی ہیں۔ اور وہ چاہتی ہیں کہ اپنے بیٹے کے ساتھ کینڈا منتقل ہوجائیں۔  

امریکی شہریوں کی جانب سے کینڈا کی شہریت کے حصول کی کوششوں کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اب امریکا کو اپنی آخری منزل تصور نہیں کرتے ہیں اور کینڈا جیسے ملک میں جہاں ٹیکسوں کی شرح امریکا سے زیادہ ہے۔ مگر وہاں پر ریاستی تحفظ، ایک ہمہ جہت معاشرہ بھی ہے۔ امریکی شہری زندگی کی مسابقت اور ہر وقت کی جدوجہد سے تنگ ہیں اور وہ زندگی میں سکون اور آرام کے متلاشی ہیں۔ اور وہ اپنی زندگی کے اخری ایام ایسے معاشرے میں گزارنے کے خواہش مند ہیں جہاں انہیں سماجی تحفظ حاصل ہو۔

امریکا اور کینڈا دو ہمسائے ملک ہیں۔ مگر دونوں ملکوں کے معاشی اور سماجی نظام میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ امریکی ماڈل انفرادی ذمہ داری اور نجی شعبے کی بالادستی پر مبنی ہے۔ جہاں مارکیٹ اکانومی کی بنیاد پر ایک ایسا نظام وضع کیا گیا ہے جس میں مسابقت ہی سب کچھ ہے۔ مسابقت کی رسی اسقدر تنی ہوئی ہے کہ ایک جھٹکہ لگا اور وہ دھڑام سے زمین پر آگیا۔ جبکہ کینڈا میں ایسا نہیں ہے۔ کینیڈا کا نظام ریاستی سرپرستی اور عوامی فلاح کو ترجیح دیتا ہے۔ وہاں پر ریاست کی جانب سے بہت سی ایسی سہولتیں مفت فراہم کی جاتی ہیں جو کہ امریکا میں مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہیں۔ اس کے علاوہ کینیڈا میں مضبوط سماجی تحفظ کا نظام ہے، جس میں بے روزگاری الاؤنس، فیملی بینیفٹس اور پنشن شامل ہیں، جو آمدنی میں عدم مساوات کو کم کرتے ہیں اور معاشی جھٹکوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔  اس لئے امریکی اپنے سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بھی کینڈا کی شہریت کے لئے سرگراں ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جس کی وجہ سے امریکی صحت، روزگار اور مالی تحفظ کی وجہ سے کینڈا کو اپنا دوسرا ملک تصور کررہے ہیں۔

امریکا اور کینڈا کے نظام صحت میں فرق نمایاں ہے۔ امریکہ میں طبی سہولیات زیادہ تر ملازمت یا نجی انشورنس سے وابستہ ہوتی ہیں، جبکہ محدود سرکاری پروگرام بہت محدود ہوتے ہیں۔ اگرچہ علاج کا معیاربہت اچھا ہے۔ مگر اس کو حاصل کرنے کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ جو کہ ایک عام امریکی کی برداشت سے باہر ہیں۔ اس لئے یہ شہریوں کے لیے مالی خطرہ ہیں۔ بیمار پڑے تو ملازمت جانے کے خطرے کے ساتھ ساتھ مہنگے علاج بھی امریکیوں کے لئے ایک درد سر ہے۔ دوسری جانب کینڈا میں  یونیورسل ہیلتھ کیئر نظام موجود ہے جو ٹیکس کے ذریعے چلتا ہے۔ اور بنیادی طبی سہولیات تمام شہریوں کو بلا معاوضہ فراہم کرتا ہے۔

مگر کینڈا میں فراہم کیئے جانے والے اس سماجی تحفظ کی ایک قیمت بھی ہے۔ بطور کینڈین شہری ٹیکس کی زیادہ شرح سے ادائیگی کرہوتی ہے۔ مگر ماہرین کے مطابق یہ ایک واضح توازن ہے۔ امریکا میں اگرچہ ٹیکس کی شرح کم ہے مگرذاتی مالیاتی اور سماجی خطرات زیادہ ہیں۔ دوسری جانب کینڈا میں ٹیکس کی  شرح زیادہ ہے مگر وہاں پر معاشرتی اور سماجی تحفظ کے علاوہ مالیاتی غیر یقینی امریکا سے کم ہے۔

امریکیوں میں کینڈا کی شہریت کے حصول کا رجحان کی دیگر وجوہات میں نئے امیگریشن قوانین بھی ہیں۔ کینڈا میں ان لوگوں کے لئے شہریت کا حصول آسان ہوگیا ہے۔ جو یہ تصدیق کرسکیں کہ ان کے اجداد کا تعلق کینڈا سے تھا۔ اس لئے بہت سے امریکی فوری کینڈا منتقلی کے خواہاں تو نہیں مگر وہ کینڈین شہریت کو اپنے پلان بی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین