کراچی 15 جولائی 2026 : نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن نے ڈیٹا والٹ پاکستان کے ساتھ حکومتِ پاکستان کے لیے خود مختار اے آئی (Sovereign AI) خدمات کی فراہمی کا معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کی مدت تین سال ہے جس کے تحت حکومت پاکستان کو مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے لئے محفوظ، خود مختار اور ملک کے اندر ڈیٹا محفوظ رکھنے کی سہولت دستیاب ہوگی۔
اس معاہدے کے تحت، ڈیٹا والٹ پاکستان اینٹرپرائز گریڈ کا جدید جی پی یو انفراسٹرکچرتعمیرکرے گا۔ اس اقدام کی بدولت این ٹی سی اپنے انتہائی محفوظ اور سرکاری نگرانی میں کام کرنے والے ڈیٹا سینٹرز سے مخلتف طرح کی جی پی یو خدمات اور اینٹرپرائز اے آئی کی سہولیات فراہم کرسکے گا۔ جس سے سرکاری اداروں کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کو تیز کرنے میں مدد ملے گی اورحکومت کا حساس ڈیٹا پاکستان کے اندر اور ملکی دائرہ اختیار میں ہی محفوظ رہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے این ٹی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر، میجر جنرل (ر) علی فرحان، ہلالِ امتیاز (ملٹری) نے مقامی سطح پر اے آئی انفراسٹرکچر کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹنگ پاور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اعلیٰ کارکردگی والےڈیٹا سینٹر کو حاصل کر کے اور مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کے مقامی ہوسٹنگ دستیاب ہوگی۔
ڈیٹا والٹ پاکستان کی بانی اور سی ای او مہوش سلمان علی کا اس موقع پر کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت قومی طاقت، معاشی ترقی اور عوامی خدمات کے اگلے دور کا تعین کرے گی۔ این ٹی سی کے ساتھ اس شراکت داری کے ذریعے پاکستان ایک محفوظ، خود مختار اور اے آئی پر مبنی مستقبل کی تعمیرممکن ہوگی۔
ڈیٹا والٹ پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر سید ذیشان علی کا کہنا تھا کہ یہ شراکت داری پاکستان مصنوعی ذہانت کی بنیاد فراہم کرے گی۔ پاکستان مصنوعی ذہانت کا محض ایک صارف ہی نہ رہے بلکہ اس کا کی ڈویلپمنٹ بھی کرے گا۔
نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن نے ڈیٹا والٹ کے ساتھ خود مختار اے آئی خدمات فراہمی کا معاہدہ کرلیا۔
مزید پڑھیں

