ہفتہ, جولائی 11, 2026
ہومبزنسوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ایس ای سی پی کی کارکردگی کا جائزہ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ایس ای سی پی کی کارکردگی کا جائزہ

اسلام آباد، 8 جولائی:  وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریگولیٹری اداروں کو کاروبار اور سرمایہ کاری میں آسانیاں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں شفاف، منصفانہ اور سازگار کاروباری ماحول کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ قوانین کے مؤثر نفاذ کو بھِی یقینی بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری ترقی اور مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے کاروبار دوست ریگولیٹری فریم ورک انتہائی ضروری ہے۔

وزیر خزانہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں کمیشن کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور کیپٹل مارکیٹ کے کو وسعت دینے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے کی جانے والی اصلاحات پر اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

اجلاس میں چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو، کمشنرز امتیاز حیدر، محمد علی فرید خواجہ، مظفر احمد مرزا اور ذیشان رحمان خٹک سمیت سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد اور عمر ایم خان بھی اجلاس میں موجود تھے۔

ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے وزیر خزانہ کو ایس ای سی پی کی کارکردگی پر بریفنگ دی ۔ انہون نے بتایا کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران ریکارڈ 18,057 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی، 149 نئی نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کو مختلف سروسز فراہمی کے لائسنسز جاری کیے گئے، اور سندھ میں تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کے کامیاب نفاذ کے بعد صرف تین ماہ میں تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس میں 1,300 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال جنوری سے جون تک ، صرف چھ ماہ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 10 ابتدائی عوامی پیشکشوں (آئی پی اوز) ہوئے اور اس دوران اسٹاک مارکیٹ میں  127,907 نئے سرمایہ کاروں کا اضافہ ہوا، جس سے سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد 583,052 سے تجاوز کر گئی ہے۔

ایس ای سی پی کی سپرویذن اور انفورسمنٹ کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ اس دوران کمیشن نے 75 انسپکشن رپورٹس اور 13 تحقیقات مکمل کیں، رولز اور ریگولیشنز کی نان کمپلائنس کرنے والی کمپنیوں اور سرکاری ملکیتی اداروں کو 534 شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ۔ مالیاتی فراڈ اور غیر قانونی ڈپازٹ لینے کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 397 فیصلے جاری کیے جن کے نتیجے میں 2 کروڑ روپے سے زائد جرمانے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کروائے گئے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے سرکاری ملکیتی اداروں میں گورننس بہتر بنانے کے لیے ایس ای سی پی کے اقدامات کو سراہا اور ہدایت کی کہ متعلقہ وزارتوں کے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کو عدم تعمیل کے معاملات سے آگاہ رکھا جائے تاکہ بروقت اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔

وزیر خزانہ نے کمپنی رجسٹریشن، لائسنسنگ اور پبلک آفرنگ کے عمل کو مزید آسان بنانے، ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے اور انسانی مداخلت کم کرنے پر زور دیا تاکہ کاروباری سرگرمیوں، نئی لسٹنگز اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

ڈاکٹر کبیر سدھو نے وزیر خزانہ کو سرمایہ کاروں کی کے وائے سی کے لیے آئی بین بیسڈ سسٹم کے نفاذ ، مارکیٹ میں سرمایی کاری کے لیے’آسان کنیکٹ‘ کی ایپ اور بروکر ریفرل پروگرام پر بھی بریفنگ دی۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین