جمعرات, مئی 28, 2026
ہومبزنسمتحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ویزا بندش کے اصل حقائق

متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ویزا بندش کے اصل حقائق

تحریر: عدنان پراچہ

سابق نائب چیئرمین پاکستان اوورسیزایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن

آج کل متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کے ویزا سختی پر ہر کوئی بات کررہا ہے۔ مگر حقیقت کیا ہے اور بات یہاں تک کیسے پہنچی اس کا ایک مکمل پس منظر ہے جو گزشتہ کئی سال پر محیط ہے۔ یہاں میں افرادی قوت کے ویزا بندش پس منظر بیان کررہا ہوں

متحدہ عرب امارات میں پاکستانی ورکرز کے ویزے بند ہونے کا تعلق آج کی جغرافیائی سیاسی صورتحال سے بھی کسی قدر ہوسکتا ہے۔ مگر یہ معاملہ سال 2022 میں کورونا لاگ ڈاون کے خاتمے کے بعد سے جڑا ہوا ہے۔ جب ایک دم دنیا میں لاگ ڈاون ختم ہونے کے بعد معاشی سرگرمیاں شروع ہوئیں اور دیگر ملکوں کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی افرادی قوت کی طلب میں اضافہ ہوا۔

سال 2022 کی دوسری سہ ماہی سے پاکستانی محنت کش نوجوانوں نے ملازمت کی غرض سے یو اے کا کی طرف رخ کیا۔ ایجنٹس نے ویزہ نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ورک ویزہ کے بجائے انہیں وزٹ ویزا پر بھجوانا شروع کردیا۔ اور ان بدعنوان ایجنٹ مافیا نے سیدھے سادے معصوم لوگوں کو نوکری کا جھانسا دے کر اپنے ذاتی مفاد کے لیے وزٹ ویزا پر یو اے ای بھیجا۔

اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ یو اے ای کی حکومت نے دسمبر 2022 میں اس صورتحال کا نوٹس لیا اور پہلے مرحلے پر پاکستان کے بعض شہروں کے پتے رکھنے والے پاسپورٹ پر ویزا دینے میں کمی کرنا شروع کی۔ یہ کمی پاکستان کے چار شہروں سے شروع ہوئی۔ مگر اس پر پاکستان میں کسی نے توجہ نہ دی اور بڑھتے بڑھتے یہ پابندی 26 26 شہروں تک پہنچ گئی۔ اس مسئلے کے لیے میں نے بارہا حکام بالا اور میڈیا چینل کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن ان ذمہ دار عناصر کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی گئی بلکہ بیرون ملک نوکری کے خواہشمند نوجوانوں پر بے جا پابندیاں لگائی گئی اس معاملے کو اجاگر کرنے کے لئے اپنی ذاتی اور تنظیمی حیثیت میں حکومت پاکستان کے ذمہداروں کو براہ راست مکتوب کے زریعے اور زرائع ابلاغ پر بھی بعض شہروں کو یو اے ای کا ویزا نہ ملنے کا معاملہ اٹھایا۔ مگر کچھ شنوائی نہیں ہوئی۔

یو اے ای میں پاکستانیوں کی جانب سے ویزا کے غلط استعمال کا عمل جاری رہا اور وہاں کی حکومت نے نومبر 2023 میں وزٹ ٹو ایمپلائمنٹ ویزا کے ٹرانسفر کا اجراء مکمل طورپر بند کردیا۔ اور یہاں سے ایک ایسے عمل کا آغاز ہوا جس نے پاکستانیوں کے متحدہ عرب امارات میں پابندی کو مذید سخت کرنے پر مجبور کیا۔ وزٹ ٹو ایپلائمنٹ کا ٹرانسفر بند ہونے کے بعد کئی ہزار پاکستانی اپنے ملک واپس ائے مگر بیشتر پاکستانی جنہیں ان کے متعلقہ ایجنٹ نوکری نہ دلوا سکے اور واپس نہیں آسکے جب ان کے پاس پیسے ختم ہوگئے اور ملازمت بھی نہ ملی تو وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہوگئے۔ جس پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے لئے ورک ویزا پرغیر اعلانیہ پابندی لگا دی۔

مگر یہاں بھی پاکستانی حکومت کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کے اور پھر معاملے کی جڑ کو ختم کرنے کے بجائے نوجوانوں کے بیرون ملک سفر پر سختی شروع کردی اور ایف آئی اے کی جانب سے درست ویزہ رکھنے والوں کو بھی ڈی پورٹ کرنے کا عمل جاری رہا جس سے پاکستان کی سالانہ افرادی قوت کی یو اے ای منتقلی کا عمل کم ہوتا گیا۔ ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق سال 2022 میں مجموعی طورپر 1 لاکھ 28 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ملازمت ویزا ملا جو کہ تبدریج کم ہوتے ہوئے سال 2025 تک 52 ہزار رہ گیا۔

افرادی قوت کی طلب کوپورا کرنے کے لئے پاکستانیوں نے یو اے ای میں کمپنی بنانا شروع کر دی اور اپنے کاروبار کو پاکستان سے یو اے ای منتقل کرنے کی غرض سے ایمپلائمنٹ ویزا لگوانا شروع کیا۔ اس حوالے سے یو اے ای چیمبر اف کامرس کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ 2022 سے 2025 کے دوران ہزاروں کمپنیاں رجسٹر کرائی ہوئیں۔ مگر اس پر بھی یو اے ای کی جانب سے سختی کردی گئی ہے۔

حکومت پاکستان مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے بجائے ایسے اقدامات کرتی رہی جس سے معاملہ سلھجنے کے بجائے الجھتا رہا۔ حکومت کی جانب سے مختلف اضافی دستاویزات اور ٹیسٹ متعارف کرائے گئے جس کی فیس اور اس سے بڑھ کر رشوت ستانی نے ملازمت کے لئے جانے والے نوجوانوں کی مشکلات کو بڑھا دیا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ یو اے ای کے لئے ویزا مکمل طور پر بند ہوگیا ہے۔ مگر اس کی جانچ پڑتال بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اب ویزا عمل مکمل ہونے میں دوماہ کا عرصہ درکار ہے۔ حکومت کی جانب سے اضافی دستاویزات اور ٹیسٹ کی شمولیت نے بیرون ملک ملازمت کے اخراجات میں 25 سے 30 فیصد کا اضافہ دیا ہے۔ ملازمت کے لئے جانے والے نوجوان کو ایک کیش کاو سمھجا جاتا ہے اور قدم قدم پر اس سے رشوت طلب کی جاتی ہے۔ اس رشوت کی گنگا میں سرکاری  اداروں اور نجی کمپنیوں دونوں کے افراد شامل ہیں۔  

میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ میرے کاروبار سے منسلک اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز میں شامل چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے نوجوانوں پر متحدہ عرب امارات میں ملازمت کے دروازے نہ صرف بند ہوگئے ہیں بلکہ اس سے ملک و قوم کے وقار کو دھچکہ لگنے کے علاوہ زرمبادلہ کمانے والوں کی تعداد میں کمی ہورہی ہے۔ اور جو اس نقصان کا سبب بنے ہیں ان کی پکڑ ابھی تک ممکن نہیں ہوسکی ہے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین