جمعہ, مئی 15, 2026
ہومٹیک اینڈ ٹیلی کامشہری اپنی قومی شناختی دستاویزات خصوصا قومی شناختی کارڈ کو میعاد ختم...

شہری اپنی قومی شناختی دستاویزات خصوصا قومی شناختی کارڈ کو میعاد ختم ہونے سے قبل تجدید کرائیں بصورت دیگر ان کے موبائل فون سمز اور بینک اکاونٹ بند ہوسکتے ہیں۔ نادار

نادرا نے قومی شناختی کارڈ کی تجدید پرفی الحال جرمانہ وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی  نے پاکستانیوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے شہری شناخت کے دستاویزات کی تجدید میں تاخیر نہ کریں۔ کیونکہ دستاویزات کی مدت ختم ہونے پر انہیں مشکلات کا سامنہ ہوسکتا ہے۔ نادرا نے اس حوالے سے جاری ایک اعلامیئے میں کہا ہے کہ ملکی قوانین کے مطابق  شناختی دستاویزات ایک معین مدت کے لیے جاری کرتی ہے۔ اور مقررہ مدت ختم ہونے پر ان کی تجدید لازمی ہے۔  ہر بالغ شہری کو اپنی شناختی دستاویزات، بالخصوص قومی شناختی کارڈ کو میعاد ختم ہونے سے قبل تجدید کو یقینی بنائے۔ بصورتِ دیگر ان دستاویزات سے منسلک بنیادی خدمات مثلاً بینک اکاؤنٹس، موبائل فون سمز اور دیگر تصدیقی سہولیات متاثر یا معطل ہو سکتی ہیں۔

ایسے شہری جن کے شناختی کارڈ کی مدت ختم ہو چکی ہو، وہ مختلف سرکاری و فلاحی پروگراموں، مثلاً بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، حکومتی سبسڈی سکیموں مثلاً حالیہ اعلان کردہ فیول سبسڈی سکیم، نیز جائیداد اور گاڑیوں کی منتقلی جیسی سہولیات سے بھی مستفید نہیں ہوسکیں گے۔ اورانہیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اگرچہ قانون کے تحت تاخیر سے تجدید پر نادرا کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اضافی فیس یا جرمانہ عائد کرے۔ عوامی سہولت کے پیشِ نظر اس پر فی الحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

نادرا کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دو کروڑ چوہتر لاکھ پچھتر ہزار قومی شناختی کارڈز، تئیس لاکھ نو ہزار اوورسیز کارڈز، ایک کروڑ سولہ لاکھ پچاس ہزار بچوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس اور دو لاکھ انتیس ہزار جووینائل کارڈز کی میعاد ختم ہو چکی ہے اور شہریوں نے ان کی تجدید نہیں کروائی۔ اس ضمن میں شہریوں کو بذریعہ ایس ایم ایس نادرا کی طرف سے یاد دہانی بھی کروائی جا چکی ہے، جن میں بالخصوص ایسے والدین بھی شامل ہیں جن کے بچے اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں مگر انہوں نے تاحال اپنا پہلا شناختی کارڈ حاصل نہیں کیا۔

مزید برآں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی 8  اپریل کو جاری کردہ ہدایات کے مطابق موبائل خدمات کے تسلسل کے لیے صارفین کے شناختی کارڈ کا فعال ہونا ضروری ہے۔ ایسی موبائل سمیں جو ان شناختی کارڈز پر رجسٹرڈ ہوں جن کی میعاد ختم ہو چکی ہو یا کسی متوفی کے نام پر ہوں، کسی بھی وقت بلاک کی جا سکتی ہیں۔ اس وقت تقریباً اکیاسی لاکھ سے زائد موبائل سمز ان پینتالیس لاکھ شناختی کارڈز پر فعال ہیں جن کی تجدید ضروری ہے۔ ان میں سے دو لاکھ تیئس ہزار سے زائد شناختی کارڈز کو اپنی مدت پوری کیے ہوئے بھی دس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ان کی تجدید نہیں کروائی گئی۔ لہٰذا صارفین کو چاہیے کہ وہ موبائل فون سروسز کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بروقت شناختی کارڈز کی تجدید کروائیں اور تقریباً پندرہ لاکھ وہ موبائل سمز جو اب بھی شہریوں کے متوفی رشتہ داروں کے نام پر چل رہی ہیں، انہیں اپنے نام پر منتقل کروائیں۔

تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایکسپائر شدہ شناختی دستاویزات کی فوری تجدید کروائیں اور ایسے افراد جن کی عمر اٹھارہ سال سے زائد ہو چکی ہے، ان کے شناختی کارڈ کے اجرا کو یقینی بنائیں۔ اس مقصد کے لیے قریبی رجسٹریشن مراکز، پاک آئی ڈی موبائل ایپلیکیشن یا نادرا ای سہولت فرنچائز پر دستیاب سہولیات سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر دستاویزات کی تجدید کے اعداد و شمار اور رجحان میں تبدیلی نہ آئی تو جون کے بعد اگلے مالی سال میں ان شہریوں کو تاخیر سے شناختی دستاویزات حاصل کرنے یا تجدید کروانے کی صورت میں اضافی فیس اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین