اتوار, ستمبر 6, 2026
ہوماسٹاککمیٹشن کمیشن نے نشاط گروپ کی رفحان میظ پروڈکس میں سرمایہ کاری...

کمیٹشن کمیشن نے نشاط گروپ کی رفحان میظ پروڈکس میں سرمایہ کاری کی منظوری دیدی

اسلام آباد، 4 مئی 2026 :کمپٹیشن کمیشن پاکستان (سی سی پی) نے رفحان میظ پروڈکٹس کمپنی لمیٹڈ کے حصص کے مجوزہ حصول کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری نشاط گروپ کی مختلف کمپنیوں اور متعلقہ افراد پر مشتمل کنسورشیم کو کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت ابتدائی جائزے کے بعد دی گئی۔

اس معاہدے کے تحت رفحان میظ پروڈکٹس کے حصص ایک غیر ملکی کمپنی اور دیگر انفرادی شیئر ہولڈرز سے حاصل کیے جائیں گے۔ سرمایہ کاری کرنے والوں میں نشاط ہوٹلز اینڈ پراپرٹیز لمیٹڈ، ڈی جی خان سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ، نشاط ملز لمیٹڈ، لعل پیر پاور لمیٹڈ، پیکجن پاور لمیٹڈ، نشاط پاور لمیٹڈ، نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ اور دیگر متعلقہ افراد شامل ہیں۔

سی سی پی نے اس لین دین کے کمپٹیشن پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ رفحان میظ پروڈکٹس مکئی سے تیار ہونے والی مصنوعات جیسے اسٹارچ، لیکوئڈ گلوکوز، ڈیکسٹروز، ڈیکسٹرن اور گلوٹن میلز کی پیداوار کے شعبے میں کام کرتی ہے، جبکہ نشاط ملز لمیٹڈ ٹیکسٹائل کی تیاری میں مصروف ہے جہاں اسٹارچ بطور خام مال استعمال ہوتا ہے۔

جائزے کے دوران بالائی اور زیریں سطح کی مارکیٹس کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ تاہم کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ اس معاہدے سے کمپٹیشن میں کسی نمایاں کمی کا خدشہ نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق رفحان کی بالائی مارکیٹ میں نمایاں پوزیشن ہے، لیکن متبادل مقامی سپلائرز کی موجودگی اور درآمدات کی دستیابی کسی بھی ممکنہ غیر کمپٹیشن طرزِ عمل کو محدود رکھے گی۔ مزید برآں، ٹیکسٹائل صنعت میں اسٹارچ کی لاگت مجموعی پیداواری لاگت کا نسبتاً کم حصہ ہے، جس سے کسی ممکنہ اثرات کے امکانات مزید کم ہو جاتے ہیں۔

کمیشن نے یہ بھی قرار دیا کہ رفحان کے پاس نہ تو ایسی صلاحیت ہے اور نہ ہی ترغیب کہ وہ سپلائی محدود کر کے مارکیٹ پر اثر انداز ہو، کیونکہ مارکیٹ میں اضافی پیداواری صلاحیت اور دیگر سپلائرز کی موجودگی کمپٹیشن کو برقرار رکھتی ہے۔ اسی طرح زیریں سطح پر بھی خریدار اداروں کے پاس اتنی مارکیٹ طاقت موجود نہیں کہ وہ کمپٹیشن کو متاثر کر سکیں۔

ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیشن نے فیصلہ دیا کہ یہ معاہدہ مارکیٹ میں کسی غالب حیثیت کے قیام یا استحکام کا باعث نہیں بنے گا اور نہ ہی کمپٹیشن کے حوالے سے کوئی خدشہ پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا اس لین دین کی منظوری دے دی گئی ہے۔

یہ منظوری سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنے کے عزم کی عکاس ہے، جبکہ ساتھ ہی منڈی میں صحت مند مسابقت کو یقینی بنانا بھی ترجیح ہے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین