جمعرات, مئی 28, 2026
ہومانرجیخلیج فارس میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان میں ایندھن کا  بحران...

خلیج فارس میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان میں ایندھن کا  بحران جاری

ایندھن کے مہنگا ہونے کی وجہ سے آن لائین ٹیکسی اور رائیڈر خدمات فراہم کرنے والے شدید متاثر

ینگو پاکستان کا کہنا ہے کہ ایندھن کی مہنگا ہونے سے گاڑی چلانے کی فی کلومیٹر تقریبا 50 فیصد بڑھ گئی ہے۔

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور ابنائے ہرمز کی بندش نے دنیا کو ایک نئے خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ فروری سے لے کر اپریل کے اخر تک دنیا کو ایندھن کی 30 فیصد فراہمی تقریبا بند رہی اور اب بھی امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ایندھن کی فراہمی مکمل طور پر بحال نہ ہوسکی ہے۔ جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور اس وقت بھی ایندھن کی قیمت عالمی منڈی میں بلند سطح پرموجود ہیں۔ جنگ تو مشرق وسطی میں جاری تھی مگراس کے اثرات سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے۔ اور پاکستان بھی اس سے محفوظ نہیں رہا ہے۔ خطے کے دیگر ملکوں کی طرح پاکستان بھی ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے انہی خلیجی ملکوں پر انحصار کرتا ہے جن کی سپلائی بند ہے۔  

پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے توپتہ چلتا ہے کہ فروری میں ایک لیٹر پیٹرول 253 روپے تھا جو کہ مئی تک پہنچتے پہنچتے اتار چڑھاو کے بعد تقریبا 415 روپے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس طرح فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 162 روپے تک کا اضافہ ہوا۔ پیٹرول کی قیمت میں اس اضافے گاڑیاں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کے اخراجات میں 50 سے 65 فیصد تک کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان میں خلیجی جنگ کی وجہ سے معاشی سست روی سے بھی حکومت کی مشکلات بڑھی ہیں۔ اورحکومت کے ریونیو میں کمی کے خدشات پر ایندھن کی کے زریعے جمع کی جانے والی پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور کلائمنٹ فنڈ میں بھی فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان میانمار کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ کرنے والا ملک بن گیا ہے۔  

ایندھن کے مہنگا ہونے سے نہ صرف عام عوام پریشان ہوئی ہے بلکہ عوام کو سفری سہولت فراہم کر کے روز گار حاصل کرنے والے آن لائین کیپ ڈرائیور اور موٹر سائیکل رائڈز بھی بہت پریشان ہوئے ہیں۔ ایندھن کے یکدم مہنگا ہونے والے ان کی آپریٹنگ لاگت اچانک بڑھ گئی جبکہ مجموعی مہنگائی کے بڑھنے سے بھی ان کو یومیہ اجرات اور گاڑی کی دیکھ بھال کے لئے اضافی سرمائے کی ضرورت تھی۔ 

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کیا ہوئے اس کا اندازہ اس بات سے لگانے کے لئے 70 سی سی موٹر سائیکل اور 600 سی سی گاڑی کی فی کلو میٹر لاگت میں اضافے کا جائزہ لیتے ہیں۔

پاکستان میں ملنے والے 70سی سی موٹر سائیکل ایک لیٹر پیٹرول میں 55 سے 65 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ ایندھن کے استعمال میں فرق سڑکوں کی حالت، ٹریفک کی صورتحال اور دیگر عوامل پر ہوسکتا ہے۔ اس طرح ایک لیٹر پیٹرول میں 70 سی سی موٹر سائیکل چلانے والا جوکہ فروری 2026 میں 253 روپے فی لیٹرپیٹرول خرید رہا تھا۔ فی کلومیٹر بائیک چلانے کی لاگت 3 روپے 90 پیسے سے لے کر 4 روپے 60 پیسے کے درمیان بنتی ہے۔ مگر مئی ایندھن کی قیمت بڑھنے سے یہی لاگت 6 روپے 40 پیسے سے لے کر 7 روپے 50 پیسے تک ہوگئی ہے۔ اس طرح 70 سی سی موٹر سائکل کی فی کلومیٹر لاگت میں 2 روپے 50 پیسے سے 3 روپے تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جو کہ 60 فیصد اضافے کوظاہر کرتا ہے۔ اور محض چار ماہ سے کم عرصے میں یہ اضافہ ہوش ربا ہے۔ اگر کوئی نوجوان بائیک پرڈیلیوری سروس یا رائڈنگ سروس فراہم کرتا ہے تو وہ تقریبا ایک دن میں 50 کلو میٹر کا سفر طے کرتا  ہے۔ اس طرح اس کے صرف ایندھن کے خرچ میں ماہانہ بنیادوں پر 3500 سے 4500 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کا متوسط طبقہ زیادہ تر چھوٹی گاڑی جیسا کہ 660 سی سی کی گاڑیاں استعمال کرتاہے۔ اس گاڑی کی فی لیٹر اوسط 14 سے 18 کلو میٹر کا سفر طے کرتی ہے۔ اس طرح فروری میں خلیجی ملکوں کا بحران پیدا ہونے سے قبل 14 سے 18 روپے فی کلو میٹر لاگت آرہی تھی۔ جو کہ ایندھن کی قیمتوں کے بڑھنے کی وجہ سے فی کلو میٹرایندھن کے اخراجات 23 سے 30 کلو میٹر ہوگئی ہے۔ اس طرح فی کلو میٹر ایندھن کی کھپت 9 سے 12 روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے یعنی 55 سے 65 فیصد ایندھن کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ اگر ایک 660 سی سی کی گاڑی ماہانہ 1500 کلو میٹر کا سفر طے کرتی ہے تو اس کے ماہانہ اخراجات میں 13 سے 18 ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

آن لائین ٹیکسی اور بائیک خدمات کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی ینگو پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے رائیڈ ہیلنگ سروسز کا کاروبار بھی متاثر ہوا۔ ایندھن مہنگا ہونے سے رائیڈ ہیلنگ سے براہ راست وابستہ ڈرائیور اور رائڈرز کے ساتھ ساتھ ان خدمات کو استعمال کرنے والے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ملک کے چار شہر کراچی لاہوراور جڑواں شہر راولپنڈی اور اسلام آباد میں سفری اخراجات کے جائزے میں بتایا ہے کہ کراچی اور لاہور میں مجموعی کرایوں میں اضافہ 19 سے 20 فیصد اضافہ ہوا۔  جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں کرایوں میں 35 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان جڑواں شہروں میں طویل اوسط سفری فاصلوں کی وجہ سے فی سواری ایندھن کا ذیادہ خرچ ہوتا ہے۔

ینگو کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فی کلو میٹر کرایوں کا تعین اس طرح کرنا تھا کہ اس سے نہ تو ہیلنگ خدمات فراہم کرنے والے متاثر ہوں اور نہ ہی صارفین پر بہت زیادہ مالی بوجھ بڑھے۔

 ترجمان ینگو کا مذید کہنا تھا کہ قیمتوں کے تعین کے نظام سے ہٹ کر پارٹنر ڈرائیورز کی معاونت بھی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ینگو کی ٹیم ایسے شراکتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن کا مقصد پارٹنر ڈرائیورز کے روزمرہ اخراجات میں کمی لانا اور ان کے ڈرائیونگ کے مجموعی تجربے کو بہتر بنانا ہے۔

پارٹنرڈرائیورز کی مالی مشکلات کو کم کرنے کے لئے مختلف کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت کی جاتی ہے۔ جس میں ڈرائیورز کو فیول واؤچرز، آئل اور لبریکنٹس پر ڈسکاؤنٹس، ادویات اور روزمرہ اشیائے ضروریہ سمیت دیگر ضروریات پر بچت کی سہولیات فراہم کرنے جیسی کاوشیں کی جارہی ہیں۔

ینگو اپنے پارٹنر ڈرائیورز کی مجموعی سماجی دیکھ بھال پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ جس میں بچوں کی تعلیم، والدین کی صحت کی دیکھ بھال، بیٹیوں کی شادی کے اخراجات وغیرہ شامل ہیں۔ اس پروگرام کے تحت نمایاں کارکردگی دکھانے والے پارٹنر ڈرائیورز کو عمرہ ٹرپس، گاڑیاں اور موٹر سائیکلز جیسے انعامات بھی  دیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین