ایف پی سی سی آئی پنجاب کے رینجنل چیئرمین زکی اعجاز کا استعفی اور اس کی ڈرامائی واپسی
تحریر : کاشف منیر
ایف پی سی سی آئی میں تاریخ بنتے بنتے رہ گئی… یا یوں کہیے کہ تاریخ بنی بھی اور چند گھنٹوں بعد خود ہی تاریخ کا حصہ بھی بن گئی۔
کہتے ہیں ایک تصویر ہزار لفظوں کے برابر ہوتی ہے، مگر ایف پی سی سی آئی کی حالیہ تصویر تو جیسے چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ اندر کی ہانڈی میں کیا کچھ پک رہا ہے۔
ایف پی سی سی آئی پنجاب کے ریجنل چیئرمین زکی اعجاز کے ڈرامائی استعفے نے کاروباری حلقوں کو حیران کر دیا۔ پھر اچانک وہ پرانا سیاسی منظر یاد آگیا جب الطاف بھائی استعفے کا اعلان کرتے تھے اور چاروں طرف سے آوازیں آتی تھیں، "نہیں بھائی… نہیں بھائی!” یہاں فرق صرف اتنا تھا کہ زکی صاحب کو روکنے کے لیے کوئی "نہیں بھائی” موجود نہ تھا، اس لیے آخرکار انہیں خود ہی اسلام آباد جا کر اپنا استعفیٰ واپس لینا پڑا۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ اپنے ہی گروپ کی ایک خاتون نائب صدر سے اختلاف کے بعد زکی اعجاز نے استعفیٰ صدر ایف پی سی سی آئی کو بھجوا دیا۔ دلچسپ امر یہ رہا کہ صدر شاید پہلے ہی اس لمحے کے منتظر تھے۔ استعفیٰ موصول ہوا، فوراً منظور بھی ہوگیا اور رات گئے واٹس ایپ گروپس میں یہ پیغام گردش کرنے لگا کہ "زکی صاحب، ہُن تسی گھر جاؤ!”

لیکن کہانی کا اصل موڑ ابھی باقی تھا۔
چند گھنٹوں بعد زکی اعجاز نے استعفیٰ واپس لینے کا فیصلہ کیا، جلدی سے اسلام آباد کی ٹکٹ کٹوائی اور صبح سویرے صدر ایف پی سی سی آئی کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ جس تیزی سے استعفیٰ دیا تھا، اس سے بھی زیادہ تیزی سے اسے واپس لینے کی درخواست کر دی۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعفیٰ واپس تو لے لیا، مگر ساتھ ہی ایک سیاسی پیغام بھی دے دیا۔ استعفیٰ واپس لینے کے بعد ایک تصویر جاری کی گئی، جس میں استعفیٰ واپس لینے والے زکی اعجاز مسکراتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ صدر ایف پی سی سی آئی سنجیدہ انداز میں نظر آتے ہیں۔ کاروباری حلقوں میں اس تصویر کو بھی مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ریجنل چیئرمین کو استعفیٰ دینا پڑا؟ اور اگر تعلقات اتنے ہی خوشگوار تھے تو صدر نے پلک جھپکتے ہی استعفیٰ کیوں منظور کر لیا؟
ذرائع کے مطابق تنازع کی جڑ لاہور میں خواتین کے ایک پروگرام سے جڑی ہے۔ زکی اعجاز چاہتے تھے کہ پروگرام کی نگرانی ان کے ذریعے ہو، جبکہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی نائب صدر قرت العین کو اس پروگرام کی نگرانی کرنا تھی ۔ یہی معاملہ اختلاف سے تنازع اور پھر استعفے تک جا پہنچا۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ زکی اعجاز اور نائب صدر قرت العین کے درمیان اختلافات نئے نہیں بلکہ کافی عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ پنجاب کی ریجنل چیئرمین شپ بتائی جاتی ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ قرت العین کو تیسرے سال یہ عہدہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم بعد میں یہ وعدہ پورا نہ ہو سکا۔ یوں خواتین کا یہ پروگرام جلتی پر تیل کا کام کر گیا۔
جب نائب صدر قرت العین سے اس معاملے پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے صرف اتنا تسلیم کیا کہ پروگرام ملتوی ہوا ہے، تاہم دیگر سوالات پر، حتیٰ کہ آف دی ریکارڈ بھی، گفتگو سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کسی سے کوئی تنازع نہیں، زکی اعجاز نے استعفیٰ کیوں دیا، اس بارے میں وہ کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں۔ ان کے بقول، اس سوال کا بہتر جواب صدر ایف پی سی سی آئی ہی دے سکتے ہیں۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام نے بتایا کہ زکی اعجاز نے خود استعفیٰ بھیجا تھا اور اس کی منظوری کی درخواست بھی کی تھی، جس پر استعفیٰ منظور کر لیا گیا۔ تاہم آج صبح وہ ان کی رہائش گاہ آئے، استعفیٰ واپس لینے کی درخواست کی، جسے قبول کر لیا گیا۔ انہوں نے خواتین کے پروگرام پر اختلافات کی بھی تصدیق کی۔
دوسری جانب زکی اعجاز سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، مگر انہوں نے نہ استعفیٰ دینے کی وجہ پر بات کی اور نہ ہی اسے واپس لینے کے فیصلے پر کوئی مؤقف دیا۔
فی الحال تو یہ معاملہ وقتی طور پر نمٹتا دکھائی دیتا ہے، مگر ایف پی سی سی آئی کے اندرونی معاملات سے واقف حلقوں کا کہنا ہے کہ اس استعفے اور اس کی واپسی کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

