ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
ہومUncategorizedکے ایم سی کا ٹینڈرنگ ’’سسٹم‘‘ ختم کیا جائے، ٹھیکیداروں کا مطالبہ

کے ایم سی کا ٹینڈرنگ ’’سسٹم‘‘ ختم کیا جائے، ٹھیکیداروں کا مطالبہ

من پسند کمپنیوں کو مبینہ نوازنے، اہلیت کی شرائط اور ٹینڈرنگ طریقہ کار پر سوالات، پاکستان کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس

کراچی (خصوصی رپورٹر) پاکستان کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ٹینڈرنگ نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پروکیورمنٹ کمیٹی کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ہر کیٹیگری کے ٹھیکیدار کو مساوی مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس صدر میر زمان مندوخیل کی زیر صدارت ہوا، جس میں جنرل سیکریٹری محمد سخی بابر سمیت دیگر عہدیداران اور ٹھیکیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں کے ایم سی کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز، اہلیت کی شرائط اور چھوٹے و درمیانے درجے کے ٹھیکیداروں کو درپیش مشکلات پر غور کیا گیا۔میر زمان مندوخیل نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے بعض ٹھیکیداروں کو مبینہ طور پر فائدہ پہنچانے کے باعث چھوٹی کیٹیگری کے ٹھیکیداروں کے لیے کام حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق بعض این آئی ٹیز میں ایک ہی کمپنی یا ٹھیکیدار کی جانب سے متعدد کاموں میں حصہ لینے سے C-4، C-5 اور C-6 کیٹیگری کے ٹھیکیدار مقابلے سے باہر ہوجاتے ہیں۔انہوں نے دو کروڑ روپے تک کے کاموں کے لیے مقرر اہلیت کی بعض شرائط پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئی اور C-6 کیٹیگری کی کمپنیوں کے لیے متعدد سابقہ ورک آرڈرز کی شرط پوری کرنا مشکل ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اہلیت کا معیار منصوبے کی حقیقی ضرورت کے مطابق مقرر کیا جائے تاکہ کسی مخصوص کمپنی کو فائدہ نہ پہنچے۔جنرل سیکریٹری محمد سخی بابر نے ٹینڈر ڈراپنگ کے وقت پروکیورمنٹ کمیٹی کی موجودگی یقینی بنانے اور ٹینڈر اوپننگ کے بعد حصہ لینے والی کمپنیوں اور ان کے کوٹ کردہ ریٹس کی تفصیلات فوری طور پر ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی روز بعد فہرستیں جاری ہونے سے شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ایسوسی ایشن رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کی مختلف کیٹیگریز کا مقصد ہر ٹھیکیدار کو اس کی مالی و فنی استعداد کے مطابق کام کا موقع دینا ہے، لہٰذا ٹینڈرنگ کے عمل میں میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع یقینی بنائے جائیں۔انہوں نے کے ایم سی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ٹینڈرنگ نظام کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر مبینہ اجارہ داری کا خاتمہ کیا جائے، اہلیت کی شرائط شفاف بنائی جائیں اور ہر کیٹیگری کے ٹھیکیدار کو اس کے حق کے مطابق ترقیاتی کاموں میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا جائے۔
تمام دوست احباب اس نیوز کو دیکھ لیں نوازش ہوگی

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین