ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
ہومUncategorizedپاکستان پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ میں اقلتیوں کے تحفظ اور حقوق...

پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ میں اقلتیوں کے تحفظ اور حقوق کے لئے اہم قانون سازی کی ہے۔ سکھدیو ہمنانی

اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے قومی دن پر سندھ حکومت کے مشیر سکھدیو ہمنانی کا اہم بیان

سندھ حکومت کے ترجمان سکھدیو ہمنانی نے قومی اقلیتی دن کے موقع پر کہا ہے کہ سندھ حکومت مذہبی اقلیتوں کے حقوق، عزت، تحفظ اور مساوی شہریت کے اصول پر مکمل یقین رکھتی ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی، سیاسی نمائندگی، روزگار، ادارہ جاتی معاونت اور فلاحی اقدامات اسی عزم کا عملی اظہار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے 2009 میں 11 اگست کو قومی اقلیتی دن قرار دینا ایک تاریخی اقدام تھا، جس نے قائداعظم محمد علی جناح کے مساوی شہریت کے وژن کو قومی سطح پر اجاگر کیا۔

سکھ لدیو ہمنانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں اقلیتی برادریوں کے لیے کئی اہم اقدامات کیے، جن میں وزارتِ اقلیتی امور کا قیام، اقلیتوں کے لیے 5 فیصد ملازمتوں کا کوٹہ، پارلیمان میں مخصوص نشستوں میں اضافہ، اور تعلیمی و فلاحی معاونت میں توسیع شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد اقلیتوں کو پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سماجی ترقی میں برابر کا شریک بنانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ حکومت نے بھی اسی عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے اہم قانون سازی اور عملی اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے سندھ پروٹیکشن آف کمیونل پراپرٹیز آف مائنارٹیز ایکٹ 2013 اور سندھ ہندو میرج ایکٹ 2016 کو اقلیتوں کے حقوق، شناخت اور مذہبی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے اہم قانون سازی قرار دیا۔

سکھدیو ہمنانی نے کہا کہ اقلیتوں کو فیصلہ سازی میں برابر کا شریک بنانے کے لیے سندھ میں انہیں اہم حکومتی عہدوں، بشمول صوبائی کابینہ میں بھی نمائندگی دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اقلیتی برادریوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو بھی یقینی بناتی ہے اور مذہبی تہواروں کے موقع پر خصوصی سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ صوبے بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں، جو مختلف مذاہب کے درمیان رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ اقلیتی امور کے ذریعے اقلیتی طلبہ کو وظائف، مستحق خاندانوں کو مالی و طبی معاونت اور شادی کے لیے امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کے بڑے ترقیاتی اور فلاحی پروگراموں میں بھی اقلیتی برادریوں کی شمولیت یقینی بنائی گئی ہے، جن میں سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (SPHF)، پیپلز پاورٹی ریڈکشن پروگرام (PPRP) اور سولر انرجی پروگرام شامل ہیں، تاکہ ترقی اور فلاح کے ثمرات سب شہریوں تک یکساں پہنچیں۔

سکھدیو ہمنانی نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے اس دیرینہ عزم کو آگے بڑھا رہے ہیں کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہو جہاں مذہبی آزادی، مساوی حقوق اور جمہوری اقدار ہر شہری کو حاصل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ قومی اقلیتی دن ہمیں قائداعظم کے وژن کی تجدید اور ایک جامع، جمہوری اور ترقی پسند معاشرے کے قیام کے عزم کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ہمارے عقائد مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن ہماری شہریت برابر ہے، ہمارے حقوق برابر ہیں اور ہمارا مستقبل مشترک ہے۔ سندھ حکومت ایک ایسے معاشرے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی جہاں ہر شہری عزت، تحفظ اور مساوی مواقع کے ساتھ زندگی گزار سکے۔”

اقلیتوں کے حقوق کوئی احسان نہیں، بنیادی حق اور مساوی شہریت کی پہچان ہیں: سکھدیو ہمنانی

سندھ حکومت کے ترجمان سکھدیو ہمنانی نے قومی اقلیتی دن کے موقع پر کہا ہے کہ سندھ حکومت مذہبی اقلیتوں کے حقوق، عزت، تحفظ اور مساوی شہریت کے اصول پر مکمل یقین رکھتی ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی، سیاسی نمائندگی، روزگار، ادارہ جاتی معاونت اور فلاحی اقدامات اسی عزم کا عملی اظہار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے 2009 میں 11 اگست کو قومی اقلیتی دن قرار دینا ایک تاریخی اقدام تھا، جس نے قائداعظم محمد علی جناح کے مساوی شہریت کے وژن کو قومی سطح پر اجاگر کیا۔

سکھ لدیو ہمنانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں اقلیتی برادریوں کے لیے کئی اہم اقدامات کیے، جن میں وزارتِ اقلیتی امور کا قیام، اقلیتوں کے لیے 5 فیصد ملازمتوں کا کوٹہ، پارلیمان میں مخصوص نشستوں میں اضافہ، اور تعلیمی و فلاحی معاونت میں توسیع شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد اقلیتوں کو پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سماجی ترقی میں برابر کا شریک بنانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ حکومت نے بھی اسی عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے اہم قانون سازی اور عملی اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے سندھ پروٹیکشن آف کمیونل پراپرٹیز آف مائنارٹیز ایکٹ 2013 اور سندھ ہندو میرج ایکٹ 2016 کو اقلیتوں کے حقوق، شناخت اور مذہبی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے اہم قانون سازی قرار دیا۔

سکھدیو ہمنانی نے کہا کہ اقلیتوں کو فیصلہ سازی میں برابر کا شریک بنانے کے لیے سندھ میں انہیں اہم حکومتی عہدوں، بشمول صوبائی کابینہ میں بھی نمائندگی دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اقلیتی برادریوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو بھی یقینی بناتی ہے اور مذہبی تہواروں کے موقع پر خصوصی سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ صوبے بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں، جو مختلف مذاہب کے درمیان رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ اقلیتی امور کے ذریعے اقلیتی طلبہ کو وظائف، مستحق خاندانوں کو مالی و طبی معاونت اور شادی کے لیے امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کے بڑے ترقیاتی اور فلاحی پروگراموں میں بھی اقلیتی برادریوں کی شمولیت یقینی بنائی گئی ہے، جن میں سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (SPHF)، پیپلز پاورٹی ریڈکشن پروگرام (PPRP) اور سولر انرجی پروگرام شامل ہیں، تاکہ ترقی اور فلاح کے ثمرات سب شہریوں تک یکساں پہنچیں۔

سکھدیو ہمنانی نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے اس دیرینہ عزم کو آگے بڑھا رہے ہیں کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہو جہاں مذہبی آزادی، مساوی حقوق اور جمہوری اقدار ہر شہری کو حاصل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ قومی اقلیتی دن ہمیں قائداعظم کے وژن کی تجدید اور ایک جامع، جمہوری اور ترقی پسند معاشرے کے قیام کے عزم کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ہمارے عقائد مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن ہماری شہریت برابر ہے، ہمارے حقوق برابر ہیں اور ہمارا مستقبل مشترک ہے۔ سندھ حکومت ایک ایسے معاشرے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی جہاں ہر شہری عزت، تحفظ اور مساوی مواقع کے ساتھ زندگی گزار سکے۔”

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین