ہفتہ, جولائی 11, 2026
ہوماسٹاکپیکجز لیمٹڈ نے گزشتہ دو سال کے دوران 4.6 ارب روپے خسارے...

پیکجز لیمٹڈ نے گزشتہ دو سال کے دوران 4.6 ارب روپے خسارے بعد منافع کا اعلان کیا ہے۔  

پیکجز لیمیٹڈ کو سال 2025 میں پیکجز لیمٹڈ کو 1.8 ارب روپے اور 2024 میں 2.8 ارب روپے خسارہ ہوا تھا۔

کراچی: پیکجز لیمیٹڈ نے اسٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کی بریفنگ میں بتایا کہ کمپنی کو مسلسل دوسرے سال خسارے کا سامنہ کرنا پڑا ہے۔ کمپنی نے سال 2025  کے لئے  1.8 ارب روپے کا خسارہ رپورٹ کیا ہے جبکہ سال 2024 میں کمپنی کو 2.8 ارب روپے کا خسارہ ہوا تھا۔ اس طرح دو سال میں کمپنی کا مجموعی فی حصص خسارہ 53 روپے سے زائد رہا ہے۔ مگر کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ ایک سال کے اندر خسارے میں 35 فیصد کی کمی آئی ہے۔

سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی کو 39 کروڑ 10 لاکھ روپے کا منافع ہوا ہے۔ جوکہ فی حصص 7.7 روپے فی حصص منافع بنتا ہے۔ جبکہ گزشتہ سال اسی 30 کروڑ 30 لاکھ روپے کا خسارہ ہوا تھا۔

 کمپنی کی آمدن کا تناسب سے پتہ چلتا ہے کہ اسے  پیکیجنگ  کے کاروبار سے 29 فیصد، صارف مصنوعات سے 9 فیصد، اِنک ڈویژن 5 فیصد، رئیل اسٹیٹ 3 فیصد، پیپر اینڈ بورڈ 19 فیصد، پلاسٹک 13 فیصد، فارماسیوٹیکل 16 فیصد، کارن اسٹارچ 3 فیصد، اور ٹریڈنگ 2 فیصد کا امدن ہوئی ہے۔

پیکجز لمیٹڈ نے سال 2021 میں ذیلی ادارے بلے شاہ پیکجزمیں 28 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔ مگر یہ سرمایہ کاری تاحال منافع بخش ثابت نہیں ہوئی ہے۔ مگر کمپنی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بلے شاہ پیکجز کی کارکردگی بہتر ہورہی ہے۔ اوراس کے خسارے میں 65 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ کمپنی انتظامیہ بلے شاہ پیکجز میں خسارے کا ذمہدار بلند شرح سود کو قرار دیتے ہیں۔

پیکجز لیمیٹڈ میں 69.26 حصہ ٹرائی پیک فلمز کا ہے۔ اوراس کے منافع میں پانچ گنا کا اضافہ ہوا۔اور یہ 30 کروڑ 20لاکھ روپے رہا۔

پیکجز لیمٹڈ کی ذیلی کمپنی اسٹریچ پیک نے جنوری سے مارچ 2026 کے دوران منافع ظاہر کیا ہے۔ اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے منافع کمایا ہے۔ جبکہ سال 2025 میں کمپنی کو اسی عرصے مٰں 53 کروڑ 10 لاکھ روپے کا نقصان ہوا تھا۔ کمپنی حکام مقامی مارکیٹ میں درآمدی کاغذ کی ڈمپنگ کو خسارے کی بڑی وجہ بتاتے ہیں۔

اس حوالے سے حکومت نے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی دسمبر 2025 میں عائد کی تھی۔ مگر مقامی تاجروں نے اس کے خلاف عدالت سے حکم امتناع حاصل کر لیا ہے۔ اورقیمتوں میں 9 فیصد کا اضافہ تو ہوگیا مگر ڈیوٹی عائد کرنے کے مکمل نتائج حاصل نہ ہوسکے۔

 انتظامیہ کے مطابق سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث صارفین اس وقت قیمتوں کے بجائے خام مال کی دستیابی کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ انتظامیہ نے بتایا کہ فریٹ لاگت اور جنگی خطرات کے پریمیم میں اضافے سے مجموعی لاگت بڑھی ہے۔ تاہم چونکہ پیکیجنگ، ایف ایم سی جی مصنوعات کی کل لاگت کا صرف 5 سے 6 فیصد حصہ ہے، اس لیے صارفین بلاتعطل پیداوار برقرار رکھنے کے لیے قیمتوں میں اضافے کو برداشت کرنے پر آمادہ ہیں۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین