فری لانسرز نوجوان اپنے بل بوتے پر بغیر کسی سبسڈی اور مراعات کے ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں۔
کراچی: پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پیفلا) نے وفاقی بورڈ آف ریونیو اور وزارتِ خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی فری لانسنگ اور ڈیجیٹل افرادی قوت کی بھرپور حمایت جاری رکھی جائے۔
پیفلا کی جانب سے جاری کردہ بجٹ سفارشات میں کہا ہے کہ ملک میں بیٹھ کر نوجوان قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ اس لئے ایسوسی ایشن مطالبہ کرتی ہے کہ فری لانسرز کے غیر ملکی زرمبادلہ میں حاصل ہونے والی آمدنی پر 0.25 فیصد ٹیکس کوآئندہ دس برس تک برقرار رکھی جائے۔ اس کے علاوہ فری لانسرز کی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے فنڈز مختص کیے جائیں۔ نوجوانوں کو روز گار فراہم کرنے کے لئے مختلف شہروں میں فری لانسنگ حب قائم کیے جائیں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفکیشنز کے حصول کے لیے سبسڈی فراہم کی جائے۔
بجٹ تجاویز کے حوالے سے پیفلا کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ 0.25 فیصد ٹیکس نظام میں توسیع سے فری لانسرز کو اپنی آمدنی مقامی بینکوں کے ذریعے ملک میں لانے کی ترغیب ملے گی جبکہ طلبہ، نوجوان پیشہ ور افراد اور خواتین کو بھی فری لانسنگ کو ایک پائیدار کیریئر کے طور پر اختیار کرنے کا حوصلہ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ میں رجسٹرڈ فری لانسرز اس وقت 0.25 فیصد ٹیکس شرح سے مستفید ہو رہے ہیں اور پیفلا اس بات کی خواہش مند ہے کہ رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ فری لانسرز ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ابراہیم امین کا کہنا تھا کہ ایک مستحکم اور سادہ ٹیکس نظام پوری ڈیجیٹل معیشت، فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز اور آئی ٹی صنعت کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی محنت تنظیم نے پاکستان کو دنیا میں ڈیجیٹل لیبر فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شمار کیا ہے جو پاکستان کے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2025-26 کے جولائی تا اپریل کے دوران فری لانسنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی برآمدی آمدن 959 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہے۔
پیفلا کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے کہا کہ حکومت کو مہارتوں کی تربیت، خبروں اور تجزیوں، تعلیمی مواد اور معلوماتی و تفریحی مواد تیار کرنے والے کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی اضافی ٹیکس عائد کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پیچیدہ ٹیکس درجہ بندی کے نظام ڈیجیٹل ورکرز کو غیر رسمی ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں دستاویزی ترسیلاتِ زر میں کمی اور پاکستان کی زرمبادلہ کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔ اور اس کے منفی اثرات پوری صنعت پر مرتب ہوں گے۔
ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے حکومت پر زور دیا کہ ادائیگیوں کے نظام (پیمنٹ انفراسٹرکچر) کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی جائے، جس میں عالمی سطح پر مربوط قومی ادائیگی گیٹ وے کا قیام بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے پاکستان بھر کے تمام ڈیجیٹل سروس فراہم کنندگان کو فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز نے رواں مالی سال کے دوران تقریباً ایک ارب ڈالر کا زرمبادلہ ملک کے لیے کمایا ہے۔ یہ ملک کے ہر کونے سے تعلق رکھنے والے نوجوان پاکستانی ہیں جو عالمی منڈی میں مقابلہ کر رہے ہیں اورزرمبادلہ ملک میں لا رہے ہیں۔ وسیع تر آئی ٹی صنعت کے ساتھ مل کر یہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا معاشی موقع ہیں۔ ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے کہا کہ حکومت کو اس شعبے کی حوصلہ افزائی جاری رکھنی چاہیے تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت مزید مضبوط اور مستحکم ہو سکے۔

