تحریر: محمد عدنان پراچہ
پاکستان میں زرمبادلہ کی کمی کی وجہ سے بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اگر پاکستان کی زرمبادلہ کمائی کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سمندر پارپاکستانی ملک کے لئے سب سے بڑا زرمبادلہ کمانے کا زریعہ ہیں۔ ملکی ترسیلات زر کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں رہنے والے محنت کش ملک کو سب سے زیادہ ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر زرمبادلہ کما کر وطن بھیج رہے ہیں۔ جبکہ مغربی ملکوں میں رہنے والے سمندر پار پاکستانی مقامی معاشرے میں سیٹل ہوچکے اور ان کی جانب سے بینکاری نظام کے زریعے ترسیلات کا حجم خلیجی ملکوں کے مقابلے میں کم ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعدادشمار کے مطابق مجموعی طور پر جولائی تا اپریل مالی سال 26ء کی مدت میں کارکنوں کی ترسیلات زر میں 33.9 ارب ڈالر کی آمد ہوئی، جو اس میں 8.5 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ گذشتہ برس کی اسی مدت میں 31.2 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے۔
اپریل کے مہینے میں سمندرپار کارکنوں کی ترسیلات زر کی مد میں 3.5 ارب امریکی ڈالر کی آمد ہوئی۔ جوکہ سالانہ بنیادوں پر 11.4 فیصد اضافہ اور ماہ بہ ماہ بنیادوں پر 7.6 فیصد کمی ہوئی۔
پاکستان کو اگر ترقی دینا اور ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ اپنی افرادی قوت کے بل بوتے پر کمانا ہے تو ہمیں خلیجی ملکوں سے متعلق سوچ میں تبدیل پیدا کرنا ہوگی۔ ہمارے پالیسی ساز اور نوجوان اس وقت خلیجی ملکوں کو ستر کی دھائی والی معشیت تصور کررہے ہیں۔ جہاں پر نیم اور غیر ہنر مند محنت کشوں اور ڈرائیورز کی طلب ہے۔
میرا یہ دعوی محض ایک دعوی نہیں ہے بلکہ خود حکومتی اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان سے تعلیم یافتہ اور اعلی ڈگری رکھنے والے نوجوانوں کو بیرون ملک خصوصا خلیجی ملکوں میں ملازمت کے لئے بھجوانا پالیسی سازوں کی ترجیح میں شامل نہیں ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ تقریبا پانچ سال سے خلیجی ممالک کی لیبر مارکیٹ میں پاکستانیوں کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ ہم ملک کے اندر اور بیرونِ ملک، دونوں جگہ اپنے پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے بہترین پلیٹ فارمز کھو رہے ہیں۔ ہمارے پاس سمندر پار پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اسے محفوظ بنانے کا کوئی مثبت لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔
پاکستان سے سال 2023 سے بیرون ملک ملازمت کے لئے جانے والوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جاتے تو پتہ چلتا ہے کہ سال 2023 میں 8 لاکھ 62 ہزار افراد بیرون ملک ملازمت کے لئے گئے ہیں۔ جس میں 5 لاکھ 82 ہزار غیر ہنرمند محنت کش(Unskilled) اور ڈرائیورز تھے۔ اسی طرح سال 2024میں 7 لاکھ 27 ہزار افراد بیرون ملک ملازمت کے لئے گئے ان میں 5 لاکھ 50 ہزار ڈرائیورز اور محنت کش(Unskilled) شامل تھے۔ اسی طرح سال 2025 میں 7 لاکھ 63 ہزار افراد نے بیرون ملک ملازمت اختیار کی ان میں سے 6 لاکھ 29 ہزارلیبر(Unskilled) اور ڈرائیورز شامل تھے۔ جبکہ باقی ماندہ 37 کیٹگریز میں پروفیشنل کی بیرون ملک ملازمت کی تعداد بہت کم ہے۔
یہ بات بھی انتہائی لمحہ فکریہ ہے کہ غیر تعاون پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے ہماری 70 سے 80 فیصد افرادی قوت بیرونِ ملک جانے کے لیے پاکستان میں موجود ایجنسیز سے صرف ‘ویزاجمع کرانے کا عمل کررہی ہیں۔
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ رائج پالیسیاں افرادی قوت کی برآمدی شعبے کے مفادات کے خلاف ہیں۔ جو مستقبل قریب میں بیرونِ ملک ملازمتوں کے لیے پاکستانی افرادی قوت کی مانگ کو ختم کر دیں گی۔ ہم محض مزدور اور ڈرائیورفراہم کرنے والا ملک بنتے جا رہے ہیں اور ایسی صورت میں ٹریننگ اور ٹیسٹنگ کے نام پر سالانہ اربوں روپے کا ضیاع سراسر سوالیہ نشان ہے۔
اس باب کو محفوظ بنانے اور موجودہ نازک صورتحال میں ایک مثبت تشخص قائم کرنے کے لیے بہترین اور مناسب ترین راستے اور حکمتِ عملیاں موجود ہیں، لیکن ان سب کا انحصار ایک دیانت دار اور بااختیار ٹیم پر ہے۔
میں قابلِ احترام فیلڈ مارشل سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا کے لیے اس صورتحال کو بچائیں، کیونکہ چند افراد کی کرپشن کی وجہ سے پاکستان کے 50 فیصد فعال و ہنرمند نوجوانوں کا مستقبل براہِ راست متاثر ہو رہا ہے، اور یہ صورتحال ہمارے محترم فیلڈ مارشل کے نوجوانوں سے متعلق روشن وژن کے سراسر منافی ہے۔

