کراچی : ایف پی سی سی آئی کے دو سابق صدور نے وفاقی وزیرِ خزانہ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینکر یا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو وزیرِ خزانہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس عہدے پر ماہرِ معاشیات تعینات کیا جانا چاہیے جو ملکی معیشت کی سمت کا درست تعین کر سکے۔ انہوں نے ایف بی آر کو آؤٹ سورس کرنے اور ٹیکس نظام کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خود آئی ایم ایف سے نجات حاصل کرنے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔
کراچی میں بزنس مین پینل کے زیرِ اہتمام پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر اور بی ایم پی کے سینئر نائب صدر ناصر حیات مگوں نے کہا کہ ایف بی آر کو آؤٹ سورس کیا جانا چاہیے۔ پوسٹ بجٹ بریفنگ میں امجد رفیع، حنیف لاکھانی، انجینئر ایم ایم جبار ، حاجی غنی عثمان، رفیق سلیمان، جاوید جیلانی، شوکت سلیمان، شارق وہرہ،عمران ٹیسوری، سلیمان چائولہ بھی موجود تھے۔میاں ناصر حیات مگوں کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹیکس وصولی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا ڈیٹا اے آئی کے حوالے کرنے کے بجائے ٹیکس نظام کو اے آئی سے منسلک کیا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈالر کے کنٹرول کا اختیار نجی بینکوں کو دے دیا گیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر ذکریا عثمان نے کہا کہ بینکر یا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو وزیرِ خزانہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس منصب پر ایک ماہرِ معاشیات ہونا چاہیے جو معیشت کی سمت کا تعین کر سکے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بزنس کمیونٹی کو پانچ سالہ صنعتی پالیسی، مؤثر سیکیورٹی اور درآمدی متبادل صنعتوں کے فروغ کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بجٹ محصولات (ریونیو) بڑھانے پر مرکوز ہے، جبکہ اسے پیداواری معیشت کے فروغ پر مبنی ہونا چاہیے۔
تقریب کے اختتام پر بزنس کمیونٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغان سرحد کی بندش کے باعث کاروباری برادری کا بڑی مقدار میں کارگو پھنس گیا ہے، جس کے فوری حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چین اور تائیوان تجارت کر سکتے ہیں تو پاکستان اور بھارت کو بھی باہمی تجارت کا آغاز کرنا چاہیے۔

