اسلام آباد (15 جولائی): وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری دینے والے ادارے کا درجہ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے اصولی منظوری کے لیے سمری وزیراعظم کو ارسال کر دی ہے۔
بدھ کو جاری اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے جبکہ تمام ضروری قانونی اور انتظامی تقاضے بھی پورے کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی اصولی منظوری کے بعد سمری وزارتِ قانون کو بھجوائی جائے گی، جس کے بعد اسے حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری دینے والے ادارے کا درجہ دینا حکومت کے اس جامع وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کے بحری شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور میری ٹائم تعلیم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے بہترین بحری تعلیمی اداروں کے ساتھ ڈوئل ڈگری پروگرام شروع کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بحری تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا، بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا، کیڈٹس کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ڈگریاں فراہم کرنا اور انہیں بہتر پیشہ ورانہ مواقع سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے میری ٹائم تعلیم کا معیار نمایاں طور پر بہتر ہوگا، تعلیمی اور پیشہ ورانہ تربیت مزید مضبوط ہوگی، جبکہ ایسے اعلیٰ تربیت یافتہ سی فاررز اور میری ٹائم ماہرین تیار کیے جا سکیں گے جو قومی اور عالمی بحری صنعت کی بدلتی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس فیصلے سے پاکستانی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ شپنگ، بندرگاہوں اور لاجسٹکس کے شعبوں کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کے ذریعے ملک کی بلیو اکانومی کے طویل المدتی اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔
محمد جنید انوار چوہدری نے اس مجوزہ پیش رفت کو بحری شعبے میں ایک تاریخی اصلاح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان میں میری ٹائم تعلیم کا نظام مزید مضبوط ہوگا اور عالمی معیار کی مسابقتی افرادی قوت تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت انسانی وسائل کی ترقی میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی تاکہ ملک کے بحری شعبے کی پائیدار ترقی یقینی بنائی جا سکے۔

