جمعرات, جولائی 23, 2026
ہومبزنسانٹرنیشنل انشورنس کانفرنس: حکومتِ سندھ نجی شعبے کے تعاون سے متعدد انشورنس...

انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس: حکومتِ سندھ نجی شعبے کے تعاون سے متعدد انشورنس سکیمیں متعارف کروائے گی، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت شہریوں کو سیفٹی نیٹ فراہم کرنے کے لئے مختلف انشورنس اسکیمز متعارف کروا رہی یے۔

منگل کے روز یہاں منعقدہ پہلی آئی اے پی اور پی ایس او اے انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس 2026 میں بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ حکومتِ سندھ معاون پالیسیوں کے ذریعے انشورنس کے شعبے کی ترقی میں سہولت فراہم کر رہی ہے جن میں ٹیکسوں میں نمایاں کمی اور انشورنس پریمیئم کے لیے معقول فنڈز کی فراہمی شامل ہے۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ پہلا صوبہ ہے جس نے ٹریفک حادثات کے متاثرین کو مالی معاونت کے اقدامات کیئے ہیں۔ تھرڈ پارٹی موٹر وہیکل انشورنس اسکیم کے تحت کی صورت میں 7 لاکھ روپے، جبکہ مستقل معذوری کی صورت میں 5 لاکھ روپے کا کی مالی معاونت کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت 18 سال اور اس سے زائد عمر کے ہر مقامی شہری کی حادثاتی موت کی صورت میں لواحقین کو انشورنس کے زریعے مالی معاونت فراہم کرے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ کے عوام کو مالی تحفظ اور فلاح و بہبود فراہم کرنے کے لیے صحت اور زراعت کے شعبوں میں مزید انشورنس اقدامات شروع کرنے کی بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسن افضل خان نے کہا کہ حکومت ملک کے زرعی شعبے کو مضبوط اور محفوظ بنانے کے لئے زرعی مالیاتی انشورنس کو مزید بہتر بنانے پر کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مائیکرو ڈیجیٹل انشورنس حل کے ذریعے پاکستان میں موبائل فون صارفین کی بڑی تعداد سے فائدہ اٹھا کر انشورنس انڈسٹری کے دائرہ کار کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے۔

وزارتِ خزانہ و محصولات کے مشیر عدنان پاشا نے کہا کہ اگر انشورنس سیکٹر کی رسائی دگنی ہو کر جی ڈی پی (جی ڈی پی) کے 2 فیصد تک پہنچ جائے تو اس سے اربوں روپے کی اضافی معاشی سرگرمیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور ملک کے مالیاتی نظام کو نمایاں استحکام مل سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے زراعت، ہاؤسنگ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور الیکٹرک گاڑیوں سمیت اہم شعبوں میں کئی اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں انشورنس کی کم رسائی کی بڑی وجہ عوامی آگاہی کی کمی اور ناکافی تقسیم کاری کے ذرائع ہیں، جنہیں انڈسٹری کے باہمی تعاون اور حکومت کی سازگار پالیسی کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین شعیب جاوید حسین نے کہا کہ پاکستان میں انشورنس کی رسائی علاقائی اور عالمی اوسط سے کافی کم ہے، جو اس انڈسٹری میں ترقی کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتی ہے۔
انہوں نے ذکر کیا کہ پاکستان کا انشورنس سے جی ڈی پی کا تناسب 0.9 فیصد ہے، جبکہ علاقائی معیشتوں میں یہ اوسطاً 4 فیصد اور ترقی یافتہ ممالک میں تقریباً 6 فیصد ہے۔ ا

شعیب جاوید حسین نے کہا کہ انشورنس کی کم رسائی کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھنے کے بجائے انشورنس کمپنیوں کے لیے ایک بلامعاوضہ اور وسیع موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے تاکہ کوریج کو وسعت دی جا سکے، خاص طور پر پاکستان کی نوجوان اور بڑھتی ہوئی آبادی کے درمیان۔ انہوں نے انڈسٹری کے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ جدت طرازی، بہتر تعاون اور ریگولیٹر کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے ذریعے اس شعبے کی ترقی کو تیز کریں۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین