تحریر اور کتاب کے مصنف: محمد اسامہ شفیق
اسامہ شفیق ان دنوں برطانیہ میں مقیم ہیں۔ وہ شعبہ ابلاغ عامہ کراچی کے پروفیسر ہیں۔ اور ایک اسلامک ٹی وی میں بطور اینکر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ تحریر دراصل محمد اسامہ شفیق کے اپنی کتاب فلسطین طوقان الا اقصی کی تقریب رونمائی میں پیش کردہ خطاب کا متن ہے۔
سب سے پہلے میں تہہ دل سے آپ سب کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالا، میری عزت افزائی فرمائی، اس کتاب کو اہمیت دی اور اس کی تقریبِ رونمائی کے لیے کراچی پریس کلب جیسے معتبر، تاریخی اور صحافتی اعتبار سے اہم ادارے نے از خود اہتمام کیا ۔
میرے لیے یہ محض ایک کتاب کی تقریبِ رونمائی نہیں ہے۔ یہ میرے لیے ایک اعزاز بھی ہے، ایک جذباتی لمحہ بھی، اور اس سے بڑھ کر ایک ذمہ داری بھی ہے۔
کیونکہ کسی کتاب کا شائع ہو جانا اس کا اختتام نہیں ہوتا؛ اصل سفر اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ کتاب اپنے مصنف کے ہاتھ سے نکل کر قارئین کے ہاتھ میں پہنچتی ہے، اور پھر اس کے الفاظ سوالات پیدا کرتے ہیں، مکالمہ شروع کرتے ہیں اور شاید کسی نہ کسی ذہن میں ایک نئی سوچ کو جنم دیتے ہیں۔
اور مجھے خوشی ہے کہ اس کتاب کا پہلا باقاعدہ تعارف ایک ایسے ادارے میں ہو رہا ہے جہاں لفظ، سوال اور سچ کی اپنی ایک تاریخ ہے۔
مقدمہ: یہ کتاب کیوں لکھی گئی؟
محترم حاضرین!
7 اکتوبر 2023 کے بعد دنیا نے فلسطین کے مسئلے کو ایک نئے زاویے سے دیکھا۔ غزہ پر ہونے والی جنگ، اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی انسانی تباہی، اور اس کے ساتھ مغربی حکومتوں کے رویّوں نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا کہ آخر انصاف، انسانی حقوق اور عالمی ضمیر کی وہ زبان کہاں کھڑی ہے جس کا مغرب خود کو سب سے بڑا علم بردار سمجھتا ہے؟
مشرق کے لیے اس سوال کی اہمیت نئی نہیں۔ فلسطین ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے ساتھ مشرق کی کئی نسلوں کی یادداشت، جذبات اور سیاسی شعور وابستہ ہیں۔ اس لیے مشرق میں جب فلسطین کی بات ہوتی ہے تو مغرب کو بھی اکثر ایک ہی اکائی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مغربی حکومتیں جو کرتی ہیں، اسے مغرب کا فیصلہ سمجھا جاتا ہے؛ مغربی ریاستیں جو موقف اختیار کرتی ہیں، اسے مغربی عوام کا موقف تصور کیا جاتا ہے۔
اور اس تصور کی اپنی تاریخی وجوہات بھی ہیں۔
فلسطین کے موجودہ المیے کی تشکیل، اسرائیل کی سرپرستی اور اس مسئلے کے مسلسل تعطل میں مغربی طاقتوں کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔
لیکن 7 اکتوبر 2023 کے بعد مغرب کو صرف اس کی حکومتوں کے ذریعے دیکھنا شاید اس تصویر کو ادھورا دیکھنا ہے۔
مغربی حکومتیں اور مغربی عوام دو الگ حقیقتیں ہیں۔ یہ کتاب اسی فرق کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے کہ
7 اکتوبر 2023 سے 7 اکتوبر 2025 تک تقریباً دو برس کا عرصہ فلسطین کے حوالے سے مغرب کے لیے بھی ایک غیر معمولی دور رہا۔ ایک طرف مغربی حکومتیں اسرائیل کی حمایت میں کھڑی نظر آئیں، دوسری طرف انہی معاشروں کی سڑکوں پر لاکھوں لوگ فلسطینیوں کے حق میں نکلے۔
ایک طرف ریاستی بیانیہ تھا، دوسری طرف یونیورسٹیوں کے کیمپس، شہری مراکز، پارلیمانوں کے باہر کے احتجاج، انسانی حقوق کی تنظیمیں، صحافی، دانشور، فنکار اور عام شہری تھے جو اپنی حکومتوں سے سوال کر رہے تھے۔
یہ سوال صرف فلسطین کا سوال نہیں تھا۔ یہ مغربی معاشروں کے اپنے اخلاقی دعووں کا بھی امتحان تھا۔
کیا انسانی حقوق سب کے لیے یکساں ہیں؟
کیا شہری جانوں کی قدر قوم، مذہب اور جغرافیے کے ساتھ بدل جاتی ہے؟
کیا ایک ریاست کی سلامتی کا حق دوسری قوم کی زندگی، آزادی اور وقار کے حق سے بالاتر ہو سکتا ہے؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر مغربی حکومتیں ایک موقف رکھتی ہیں تو کیا ضروری ہے کہ مغربی عوام بھی وہی موقف رکھتے ہوں؟
گزشتہ دو برس کے واقعات نے ان سوالات کو محض نظری بحث نہیں رہنے دیا۔ انہوں نے انہیں مغربی معاشروں کی سڑکوں، جامعات، پارلیمانوں، میڈیا اداروں اور عوامی مباحث کا حصہ بنا دیا۔
یہ کتاب اسی تبدیلی کو محفوظ کرنے کی ایک کوشش ہے۔
یہ کوئی روایتی تاریخی کتاب نہیں۔ اس کا مقصد 7 اکتوبر 2023 کے بعد کے ہر واقعے کی مکمل زمانی تاریخ لکھنا بھی نہیں۔ بلکہ یہ ان واقعات، آوازوں، احتجاجوں، سیاسی ردِعمل، عوامی جذبات اور فکری تبدیلیوں کا ایک مجموعہ ہے جنہوں نے مغرب کے اندر فلسطین کے مسئلے کو ایک مرتبہ پھر مرکزی اخلاقی اور سیاسی سوال بنا دیا۔
اس اعتبار سے یہ کتاب تاریخی بھی ہے اور تحریکی بھی۔
تاریخی اس معنی میں کہ آج جو کچھ مغربی معاشروں میں ہو رہا ہے، وہ کل تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔ آج کے مظاہرے، آج کی آوازیں، آج کے سوالات اور آج کی مزاحمت آنے والی نسلوں کے لیے یہ سمجھنے کا ذریعہ ہوں گے کہ غزہ کے المیے کے دوران مغربی معاشروں نے کس طرح ردِعمل ظاہر کیا تھا۔
اس کتاب میں انہی لمحوں کو ایک دستاویز کی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ آوازیں خاموش نہ ہو جائیں اور یہ واقعات محض چند اخباری سرخیوں تک محدود نہ رہیں۔
اور یہ کتاب تحریکی اس معنی میں ہے کہ اس میں ان تحریکوں اور ان لوگوں کا بھی تذکرہ ہے جنہوں نے فلسطین کے حق میں اپنی آواز بلند کی۔ ان میں سے بہت سے لوگ کسی سیاسی جماعت کے کارکن نہیں تھے، نہ ہی ان کا فلسطین سے کوئی براہِ راست تعلق تھا۔ وہ صرف اس لیے سڑکوں پر نکلے کہ انہیں ایک انسانی المیہ نظر آیا اور انہیں محسوس ہوا کہ خاموش رہنا ممکن نہیں۔
یہ پہلو خاص طور پر مشرقی قاری کے لیے اہم ہے۔
مشرق میں ہم اکثر مغرب کو ایک ایسے سیاسی و تہذیبی بلاک کے طور پر دیکھتے ہیں جو اسرائیل کی حمایت میں متحد ہے۔ لیکن مغرب کے اندر کی تصویر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
وہاں حکومتیں بھی ہیں اور ان حکومتوں کے خلاف احتجاج کرنے والے عوام بھی؛ ریاستی بیانیہ بھی ہے اور اسے چیلنج کرنے والی آوازیں بھی؛ اسرائیل کی حمایت بھی ہے اور فلسطین کے حق میں ایک وسیع عوامی احساس بھی۔
اس کتاب کا مقصد مغرب کو معصوم ثابت کرنا نہیں، اور نہ ہی اس کے تاریخی جرائم یا سیاسی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر کرنا ہے۔ اس کے برعکس، مغرب کے ریاستی کردار کو سمجھنا آج بھی ضروری ہے۔
لیکن اس کے ساتھ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ریاست اور معاشرہ ہمیشہ ایک نہیں ہوتے۔
شاید یہی وہ نکتہ ہے جو مشرق میں مغرب کو سمجھنے کے ہمارے موجودہ تصور میں سب سے زیادہ غائب ہے۔
ہمیں مغرب کی حکومتوں کو ان کے فیصلوں کے لیے جواب دہ ٹھہرانا چاہیے، لیکن مغرب کے ان عوام کو بھی دیکھنا چاہیے جو انہی حکومتوں کے خلاف کھڑے ہوئے۔
ہمیں ان آوازوں کو سننا چاہیے جو فلسطین کے لیے اٹھیں، ان مظاہروں کو دیکھنا چاہیے جو مغربی شہروں کی سڑکوں پر ہوئے، ان طلبہ کو سمجھنا چاہیے جنہوں نے جامعات میں احتجاج کیا، ان صحافیوں کو پڑھنا چاہیے جنہوں نے اپنے اداروں کے بیانیے سے اختلاف کیا، اور ان عام شہریوں کو بھی جاننا چاہیے جنہوں نے پہلی مرتبہ فلسطین کو اپنے سیاسی اور اخلاقی شعور کا حصہ بنایا۔
کیونکہ تاریخ صرف حکومتیں نہیں بناتیں؛ تاریخ عوام بھی بناتے ہیں۔
اور شاید 7 اکتوبر 2023 کے بعد مغرب میں فلسطین کے حوالے سے سب سے اہم تبدیلی یہی تھی کہ ایک ایسا مسئلہ جسے طویل عرصے تک ریاستی بیانیوں، سفارتی زبان اور محدود سیاسی مباحث میں قید رکھا گیا تھا، وہ مغربی عوام کے ایک بڑے حصے کے لیے ایک کھلا اخلاقی سوال بن گیا۔
یہ کتاب اسی سوال کی کہانی ہے۔
یہ ان دو برسوں کی ایک دستاویز ہے جن میں فلسطین صرف غزہ کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا بلکہ لندن، نیویارک، واشنگٹن، برلن، پیرس اور دنیا کے دوسرے شہروں کی سڑکوں تک پہنچا۔
یہ ان آوازوں کا ریکارڈ ہے جنہوں نے اپنی حکومتوں سے پوچھا کہ اگر انسانی حقوق واقعی آفاقی ہیں تو فلسطینی انسان ان حقوق سے محروم کیوں ہیں؟
یہ ان احتجاجوں کی داستان ہے جنہوں نے یہ دکھایا کہ ریاستی پالیسی اور عوامی ضمیر کے درمیان کبھی کبھی ایک بہت بڑا فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
اسی لیے اس کتاب کو صرف فلسطین کے بارے میں ایک کتاب کے طور پر نہیں پڑھا جانا چاہیے۔
یہ دراصل مغرب کے ضمیر کی ایک جھلک بھی ہے۔
یہ کتاب مشرق کے قارئین کو مغرب کا ایک دوسرا چہرہ دکھانے کی کوشش کرتی ہے—وہ چہرہ جو سرکاری بیانات میں ہمیشہ دکھائی نہیں دیتا۔
شاید اس کتاب کو پڑھتے ہوئے قاری مغرب کے بارے میں اپنے بعض تصورات پر دوبارہ غور کرے، شاید کچھ سوالات نئے سرے سے اٹھائے، اور شاید یہ محسوس کرے کہ کسی معاشرے کو سمجھنے کے لیے صرف اس کی حکومتوں کو دیکھنا کافی نہیں ہوتا۔
آخرکار، فلسطین کا مسئلہ صرف یہ سوال نہیں کہ اسرائیل کیا کر رہا ہے، یا مغربی حکومتیں کیا کر رہی ہیں۔
یہ سوال بھی ہے کہ مغربی عوام کیا سوچ رہے ہیں، کیا محسوس کر رہے ہیں، اور اپنی حکومتوں سے کیا پوچھ رہے ہیں۔
یہ کتاب اسی سوال کا ایک جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے۔
اور شاید آنے والے وقت میں، جب آج کے واقعات تاریخ بن جائیں گے، یہ صفحات اس بات کی گواہی دیں گے کہ غزہ کے انہی تاریک دنوں میں مغرب کے اندر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے خاموش رہنے سے انکار کر دیا تھا۔
کتاب سے صحافت تک — ایک فطری تعلق
محترم حاضرین!
یہاں میں اپنی گفتگو کو کتاب کے ایک اور اہم پہلو کی طرف لے جانا چاہتا ہوں، اور وہ ہے صحافت۔
آج اس کتاب کی تقریبِ رونمائی کراچی پریس کلب میں ہو رہی ہے۔ میرے لیے یہ محض اتفاق نہیں ہے۔
کیونکہ اس کتاب کے بنیادی موضوعات میں سے ایک آوازوں کو محفوظ کرنا ہے، اور صحافت کا بنیادی فریضہ بھی یہی ہے کہ وہ اپنے عہد کی آوازوں، واقعات اور حقائق کو محفوظ کرے۔
اور اگر 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں رونما ہونے والے المیے کو ہم اس زاویے سے دیکھیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ وہاں صرف ایک جنگ نہیں لڑی گئی۔
وہاں صحافت کی تاریخ کا بھی ایک نیا باب لکھا گیا۔
غزہ کے صحافی — سچ کے گواہ
غزہ کے صحافیوں نے دنیا کو صرف خبریں نہیں دیں۔
انہوں نے دنیا کو گواہی دی۔
انہوں نے دنیا کو دکھایا کہ جنگ کے دوران صحافت کیا ہوتی ہے، اور سچ بولنے کی قیمت کیا ہوتی ہے۔
وہاں ایسے صحافی موجود تھے جنہوں نے اپنی جانیں صرف اس لیے قربان کر دیں کہ وہ ظالم اور مظلوم کے درمیان فرق دنیا کو بتانا چاہتے تھے۔
ان کا جرم یہ تھا کہ وہ موجود تھے۔
ان کا جرم یہ تھا کہ وہ دیکھ رہے تھے۔
ان کا جرم یہ تھا کہ وہ دکھا رہے تھے۔
اور شاید سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ وہ سچ بول رہے تھے۔
غزہ کے صحافیوں نے اپنے کیمرے کو صرف ایک پیشہ ورانہ آلہ نہیں سمجھا۔ انہوں نے اسے گواہی کا ذریعہ بنا دیا۔
انہوں نے اپنے قلم، اپنے کیمرے اور اپنی آواز کو اس دور کی تاریخ کا حصہ بنا دیا۔
وہاں مرد بھی شہید ہوئے، خواتین بھی، نوجوان بھی، اور ایسے نامور صحافی بھی جنہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام ہی میں جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔
اگر میں غزہ کے تمام شہید صحافیوں کے نام لینا شروع کر دوں تو شاید یہ مجلس طویل ہو جائے۔
لیکن چند نام بھی ہمارے لیے پوری ایک تاریخ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انس الشریف سے لے کر مریم ابو دقہ تک، اور ان تمام صحافیوں تک جنہوں نے اپنے فرض کی ادائیگی میں اپنی جان کی پرواہ نہیں کی، یہ سب میرے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
یہ لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صحافت محض ایک پیشہ نہیں۔
صحافت محض خبر لکھنے کا نام نہیں۔
صحافت صرف کیمرہ اٹھانے یا مائیک پکڑنے کا نام نہیں۔
صحافت دراصل گواہی ہے۔
اور جب ظلم اپنی پوری قوت کے ساتھ سامنے ہو تو صحافت کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ظلم کو ظلم اور مظلوم کو مظلوم کہنے کا حوصلہ رکھے۔
جب نظریاتی صحافت کمزور پڑ جائے
ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں دنیا کے بہت سے حصوں میں نظریاتی صحافت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
صحافت پر تجارتی مفادات کا دباؤ ہے۔
ریاستی بیانیوں کا دباؤ ہے۔
میڈیا ہاؤسز کے اپنے مفادات ہیں۔
اور کبھی کبھی سچ صرف اس لیے پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے کہ وہ طاقتور لوگوں کے لیے ناگوار ہوتا ہے۔
لیکن غزہ کے صحافیوں نے اس تصور کو چیلنج کیا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ جہاں دنیا کے بہت سے حصوں میں نظریاتی صحافت دم توڑتی جا رہی ہے، وہاں غزہ کے صحافیوں نے ایک نئی نظریاتی صحافت کی بنیاد رکھی ہے۔
ایک ایسی صحافت جو جانتی ہے کہ سچ بولنے کی قیمت کیا ہو سکتی ہے۔
ایک ایسی صحافت جو جانتی ہے کہ کیمرہ اٹھانے کا مطلب کبھی کبھی اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا بھی ہو سکتا ہے۔
ایک ایسی صحافت جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اگر سچ بولنے کی قیمت جان ہے، تب بھی سچ بولا جائے گا۔
اور اسی لیے غزہ کے صحافی آج صرف صحافی نہیں رہے۔
وہ اپنے عہد کے گواہ بھی ہیں، مورخ بھی ہیں، اور تاریخ کے کردار بھی۔
صحافت اور اس کتاب کا رشتہ
میری اس کتاب کا تعلق بھی اسی تصور سے ہے۔
میں نے گزشتہ دو برس کے واقعات کو صرف اس لیے جمع نہیں کیا کہ ایک واقعاتی فہرست تیار ہو جائے۔
میری کوشش یہ ہے کہ آنے والے وقت میں جب کوئی یہ سوال کرے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد مغرب میں فلسطین کے بارے میں کیا سوچا جا رہا تھا، مغربی عوام نے کیا ردِعمل دیا، مغربی حکومتوں کے دوہرے معیارات کے خلاف کون کھڑا ہوا، فلسطین کے حق میں کون سی تحریکیں چلیں، اور ان معاشروں کے اندر کس قسم کی فکری اور اخلاقی تبدیلی پیدا ہوئی، تو ہمارے پاس ایک دستاویز موجود ہو۔
یہ کتاب اسی دستاویز کی ایک کوشش ہے۔
جس طرح غزہ کے صحافیوں نے اپنے عہد کی گواہی دی، اسی طرح یہ کتاب بھی اپنے عہد کی ایک گواہی بننے کی کوشش ہے۔
آخری بات — تاریخ کی گواہی
محترم حاضرین!
آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ تاریخ صرف وہ نہیں ہوتی جو حکومتیں لکھتی ہیں۔
تاریخ وہ بھی ہوتی ہے جو عوام سڑکوں پر لکھتے ہیں۔
تاریخ وہ بھی ہوتی ہے جو صحافی اپنے کیمروں میں محفوظ کرتے ہیں۔
تاریخ وہ بھی ہوتی ہے جو قلم خاموش رہنے سے انکار کرکے لکھتا ہے۔
اور تاریخ وہ بھی ہوتی ہے جو شہداء اپنے خون سے رقم کرتے ہیں۔
غزہ کے صحافیوں نے اپنے خون سے ایک ایسی تاریخ لکھی ہے جسے دنیا کے لیے بھولنا آسان نہیں ہوگا۔
اور مغرب کے ان عوام نے، جو فلسطین کے حق میں اپنی حکومتوں کے سامنے کھڑے ہوئے، اس تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ کیا ہے۔
میری کوشش صرف یہ ہے کہ ان دونوں حقیقتوں کو ایک جگہ جمع کر دوں، انہیں اردو زبان کے قارئین تک پہنچا دوں، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی دستاویز چھوڑ جاؤں جس سے وہ سمجھ سکیں کہ 7 اکتوبر 2023 سے 7 اکتوبر 2025 کے درمیان دنیا میں کیا ہو رہا تھا، مغرب کے اندر کیا بدل رہا تھا، اور فلسطین نے دنیا کے اجتماعی ضمیر کے سامنے کون سے سوال کھڑے کر دیے تھے۔
میں ایک مرتبہ پھر تمام معزز مہمانانِ گرامی، اساتذۂ کرام، دانشوروں، صحافی برادری، کراچی پریس کلب کی انتظامیہ، صدر محترم جناب فاضل جمیلی صاحب، سیکریٹری محترم جناب اسلم خان صاحب، اور بالخصوص آپ سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری اس کاوش کو اپنی موجودگی سے عزت بخشی۔
میرے لیے یہ ایک اعزاز ہے کہ اس کتاب کی آواز آج پریس کلب سے بلند ہو رہی ہے۔
اور میری دعا ہے کہ یہ آواز صرف آج کی اس مجلس تک محدود نہ رہے بلکہ کتاب کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔

