پاکستان کی جانب سے یورو بانڈ اور ابوظہبی فنڈ کا قرض ادا کرنے کے باوجود اپنے زرمبادلہ ذخائر میں سوا ارب ڈالر کا اضافہ کیا ہے۔
تجزیہ: ریاض اینڈی
پاکستان نے اپنی معیاد پوری کرنے والے یورو بانڈ اور ابوظہبی ڈیولپمنٹ فنڈ کے ڈپازٹس میچورٹی پر ادا کردیئے ہیں۔ زرمبادلہ ذخائر رواں مالی سال سوا ارب ڈالر سے زیادہ بڑھے ہیں۔ ملکی مالیاتی شعبے کی اس صلاحیت نے بھی دنیا کو پاکستان کا گرویدہ کیا ہے۔ لیکن ملک کا اندرونی نظام کے انتظام میں مشکلات ہیں۔ قرض پر چل رہے نظام سے دنیا کے باقی ملکوں میں بھی یہ مسئلہ ہے۔ پاکستان کے آئین میں سال اٹھائیس تک سودی نظام سے کسی اور پر منتقلی کی بات ہے۔ لیکن اس کا ذکر تاحال بینکاری سہولیات تک محدود ہے۔ اسلامی فنانس تو پیسہ کی وصولی ادائیگی سے کہیں بڑھ کر ہے۔
پاکستان کی افرادی قوت کی سیاسی بصیرت، عسکری صلاحیت اور مالیاتی اہلیت کے جلوے دنیا دیکھ رہی ہے۔ ہمارے پاس اپنی دفاع کی عسکری صلاحیت ہے، عالمی امن قیام میں مثبت کردار ادا کرنے والے لوگ ہیں۔ اور مالی انتظام سنبھالنے والے قابل لوگ بھی ہیں۔ پاکستان نے اپنی تمام عالمی ادائیگیاں وقت پر کیں ہیں۔ لوگوں کو ادائیگیوں کا نظآم دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کا قابل شعبہ انکی زندگی سہل بنا رہا ہے۔ لیکن سب ادھار پر ہورہا ہے۔ ادھار ملتا رہے تو ڈیفالٹ نہیں ہونگے، ورنہ نیولبرلز کے ادھار لے کر خرچ کرو ماڈل کو جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔
قرض صرف ہمارا نہیں دنیا کا مسئلہ ہے۔ سال پچیس میں عالمی قرض 29 ہزار ارب ڈالر بڑھ کر تین لاکھ اڑتالیس ہزار ارب ڈالر ہوگیا ہے۔ امریکہ چین اور یورپیوں اس اضافے میں پچھہتر فیصد کے حصے دار ہیں۔
دنیا کی ایک سال کی جی ڈی پی کا تین سو آٹھ فیصد ہوگیا ہے۔ ایک لاکھ چھ ہزار ارب حکومتوں کا قرض ہے۔ نان فنانشل کارپوریٹ کا قرض ایک لاکھ ارب ڈالر ہے۔ مالیاتی شعبے کا قرض چھہتر ہزار ارب ڈالر ہے۔ اور گھرانے چونسٹھ ہزار ارب ڈالر کے مقروض ہیں۔
انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ آف فنانس کے ڈیٹ مانیٹر کے مطابق سال انتیس تک ریاستوں کا قرض انکی قومی پیداوار کے سو فیصد ہوجائے گا۔ ہم بھِی قرض لے کر قرض کی ادائیگیاں کررہے ہیں۔ پیسے بہت لیکن سب کے لئے نہیں۔ دنیا کے بارہ افراد کا دھن ۔۔۔ دنیا کی چار ارب آبادی کے برابر ہے۔ ابھرتی معیشوں کو سال چھبیس میں 9 ہزار ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔ وہ ادا ہوگا تو نیا قرض ملے کا مصنوعی اپنایا ہوا لائف اسٹائل جاری رہے گا۔
پاکستان کے آئین میں دو ہزار اٹھائیس تک اسے سودی نظام سے منتقلی کی بات ہے۔ قرض نہیں لیں گے تو ملک چلے گا کیسے، دنیا میں اسی لئے ریونیو بیسڈ فنانس زور پکڑ رہی ہے۔ پیسہ لگانے والے کام کے نفع نقصان کے حصہ دار بن رہے ہیں۔ مالی نظام کا نیا ڈی این اے ہماری ضرورت بھی ہے۔ ہماری قابلیت ہے کہ یہ کام کرسکیں۔ اب تک وہ سودی نظام کا حصہ بنے رہنے میں استعمال ہورہی ہے۔ سینکڑوں قوانین درست کرنے سے تو بہتر ہے کہ ملکی یہ تختی نئی لکھے۔۔۔ اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر۔۔۔ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ۔۔۔۔ ریاض اینڈی جیونیوز کراچی۔

