ایف پی سی سی آئی کے حکمران گروپ میں گروہ بندی شروع
تجزیہ : کاشف منیر
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کے انتخابات تو ابھی دسمبر کی سردیوں میں ہونے ہیں، مگر لگتا ہے یونائیٹڈ بزنس گروپ نے ابھی سے گرمی بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ آٹھ مہینے پہلے ہی ٹی ٹوئنٹی اسٹائل پریکٹس شروع—کوئی نیٹ سیشن میں ہے، کوئی پریس ریلیز میں چھکے مار رہا ہے۔
ویسے بھی ملک میں پاکستان سپر لیگ کا بخار عروج پر ہے، تو کرکٹرز کے بعد بزنس کے “کھلاڑی” بھی بیٹنگ، بولنگ اور کبھی کبھار سلیجنگ میں مصروف ہیں۔
کہانی میں ٹوئسٹ تب آیا جب احمد چنائے صاحب نے خود کو صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کیا۔ جواب میں یو بی جی کے ایک سینئر کھلاڑی نے ایسا “کاؤنٹر شاٹ” کھیلا کہ میڈیا بھی تماشائی بن گیا۔ فرمایا “اگر احمد چنائے صاحب واقعی یو بی جی کراچی کے چیئرمین ہیں تو کوئی نہ کوئی کاغذ تو ہوگا… وہی کاغذ میڈیا کو دکھا دیں یعنی سیدھا باؤنسر ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یو بی جی کے اندر بھی اس اعلان پر سرگوشیاں شروع ہوچکی ہیں۔ کچھ کہتے ہیں ابھی تو میچ شروع ہی نہیں ہوا، اصل کھیل تو تب ہوگا جب کاغذاتِ نامزدگی جمع ہوں گے—تب پتہ چلے گا کون واقعی پچ پر کھڑا ہے اور کون صرف وارم اپ کر رہا تھا۔
ایک اور “اندر کی خبر” دینے والے عہدیدار نے پرانی کہانی بھی کلئیر کردی“پچھلی بار کسی نے کسی کو زبردستی آؤٹ نہیں کیا تھا… بس ٹیم کی اکثریت نے ہی ڈریسنگ روم کا فیصلہ سنایا تھا!”
ادھر بیک چینل میں بزنس مین پینل (بی ایم پی) کے ساتھ بات چیت بھی جاری ہے۔ مقصد بڑا “قومی” بتایا جا رہا ہے—کہ بزنس کمیونٹی ایک پیج پر آئے۔ البتہ سیاسی انداز دیکھ کر لگتا ہے یہ بھی ایک “الائنس سیریز” بننے جا رہی ہے۔
آخر میں سینئر کھلاڑی نے واضح کردیا کہ “دسمبر کے الیکشن میں یو بی جی اور بی ایم پی ایک ہی ٹیم ہوں گے… اور کپتان وہی ہوگا جس پر سب کا اتفاق ہوگا۔”
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ میچ واقعی اتفاق سے جیتا جاتا ہے یا پھر آخری اوور میں کوئی نیا “سرپرائز پلیئر” میدان میں آتا ہے۔

