جمعہ, مئی 15, 2026
ہومبینک اور مالیاتپاکستان کے لئے اچھی خبر سمندر پارکستانیوں کی ترسیلات 41 ارب ڈالر...

پاکستان کے لئے اچھی خبر سمندر پارکستانیوں کی ترسیلات 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع

کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہاکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر کی خطرناک حد تک کم ہونے کے بعد اب17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ ترسیلاتِ زر رواں مالی سال میں تاریخی 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے جا رہی ہیں جبکہ عالمی بے یقینی اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باوجود پاکستان کا بیرونی کھاتہ دوبارہ استحکام کی جانب گامزن ہو چکا ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے جمعہ کو دورے کے موقع پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ آج کی معاشی صورتحال 2023 کے بحرا ن زدہ حالات سے بالکل مختلف ہے جب درآمدات شدید دباؤ کا شکار تھیں اور کاروباری طبقہ لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے کیلئے مشکلات سے دوچار تھا۔ ا نہوں نے کہا کہ آج ماہانہ درآمدات 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں جبکہ تین سال قبل یہ تقریباً 3 ارب ڈالر تھیں اور ایل سیز کی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی اصلاحات اور حوالہ ہنڈی کے خلاف سخت اقدامات نے معیشت کو مستحکم کر نے اور زرمبادلہ ذخائر کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ا نہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال ترسیلاتِ زر 38 ارب ڈالر رہیں جبکہ رواں مالی سال یہ ریکارڈ 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔
ا نہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2026کے پہلے 9 ماہ کے دوران پاکستان کا کر نٹ اکاؤ نٹ سرپلس میں رہا جبکہ مجموعی خسارہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ پاکستان کا بیرونی کھاتہ اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم پوزیشن میں ہے۔
معاشی نمو پر بات کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ادارہ شماریات نے رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کیلئے جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 3.7 فیصد لگایا جبکہ اسٹیٹ بینک نے سالانہ معاشی نمو 3.75 فیصد سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ ا نہوں نے اعتراف کیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور خام تیل کی قیمتیں مالی سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں معاشی نمو کو متاثر کر سکتی ہیں۔
افراطِ زر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ مالی سال2026 کی آخری سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے تاہم اسٹیٹ بینک 5 سے 7 فیصد کے درمیا نی ہدف کو برقرار رکھنے کیلئے پُرعزم ہے۔ انہوں نےامید ظاہر کی کہ آئندہ مہنگائی میں بتدریج کمی آئے گی۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایس ایم ایز پر خصوصی توجہ کا ذکر کرتے ہوئے ا نہوں نے کہا کہ قواعد و ضوابط کو آسان بنایا گیا ہے، طریقہ کار کی پیچیدگیاں کم کی گئی ہیں اور بینکوں کو ایس ایم ای ترقیاتی منصوبے بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اںہوں نے بتایا کہ جون 2024 میں ایس ایم ای فنا نسنگ 491 ارب روپے تھی جو دسمبر 2025 تک بڑھ کر 882 ارب روپے ہوگئی جبکہ جون 2028 تک اسے 1500 ارب روپے تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مستقبل کی جی ڈی پی گروتھ براہِ راست ایس ایم ایز کی ترقی سے منسلک ہے۔ اسٹیٹ بینک نے ایس ایم ایز کیلئے ایک صفحے پر مشتمل آسان قرض درخواست فارم بھی متعارف کروایا ہے۔برآمدات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ عالمی معاشی حالات اور بین الاقوامی اجناس کی قیمتوں میں کمی نے برآمدات کو متاثر کیا ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 3.5 ارب ڈالر کی چاول کی برآمدات نے برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا تاہم عالمی مارکیٹ میں قیمتیں گرنے سے چاول کی برآمدی آمدنی میں تقریباً 1 ارب ڈالر کی کمی آئی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال برآمدات 32 ارب ڈالر تھیں جبکہ رواں سال یہ تقریباً 30 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے تاہم حکومت برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور آئندہ دو ماہ میں مثبت نتائج متوقع ہیں۔
ایک اور اہم ا کشاف کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن حتمی شکل دے کر وفاقی کابینہ کو منظوری کیلئے بھجوا دیئے گئے ہیں۔ ا نہوں نے واضح کیا کہ ایکسچینج کمپنیوں کے ریٹس مکمل طور پر مارکیٹ فورسز طے کرتی ہیں اور اسٹیٹ بینک کا شرح مبادلہ مقرر کرنے میں کوئی براہِ راست کردارنہیں۔انہوں نے مزید تصدیق کی کہ پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی لائسنسنگ اور ریگولیشن کے فریم ورک پر بھی پیشرفت جاری ہے۔



مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین