بدھ, مئی 13, 2026
ہوماسٹاکپاکستان کا بڑھتا ہوا عالمی سفارتی اثر رسوخ غیر ملکی سرمایہ کاروں...

پاکستان کا بڑھتا ہوا عالمی سفارتی اثر رسوخ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کررہا ہے۔ اے کے ڈی

کراچی: معروف اسٹاک مارکیٹ بروکریج ہاوس اے کے ڈی سکیورٹیز نے امید ظاہر کی ہے کہ علاقائی سیاسی جغرافیائی حالات میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر رسوخ کا معیشت اورسرمایہ کاری کو فائدہ ہوسکتا  ہے۔

دنیا بھر میں سرمایہ کاری کے لئے معاون سمجھے جانے والے مورگن اسٹینلے کیپٹل انڈیکس (ایم ایس سی آئی) کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے اے کے ڈی سکیورٹیز کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں جاری جنگ کا ماحول ختم ہو ار کشیدگی میں کمی ہو تو پاکستان کی جانب سرمایہ کاروں کی توجہ بڑھ سکتی ہے۔ کیونکہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات میں ثالتی سے خطے میں اس کے سفارتی اثر رسوخ کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے چار سال کے بعد قرض کی عالمی مارکیٹ میں کامیابی سے واپسی کی ہے۔ جس سے سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے کامیابی سے آئی ایم ایف اصلاحات کو نافذ العمل کرتے ہوئے قرض پروگرام کو جاری رکھا ہے۔ جس سے معاشی استحکام میں نمایاں بہتری، سپلائی چین اور قیمتوں کے دباؤ میں کمی، مالیاتی خسارے میں ریکارڈ کمی اور سخت مانیٹری پالیسی جیسے اقدامات سے پاکستانی معیشت مستحکم ہوئی ہے۔ اور یہ تمام عوامل بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھاتے ہیں۔

اے کے ڈی سکیورٹیز کا کہنا ہے کہ آئندہ سال پاکستان کی تین کمپنیاں ایم ایس سی آئی  ایمرجنگ مارکیٹس انڈیکس کے معیار پر پوری اتر سکتی ہیں۔ جس کے بعد پاکستان دوبارہ انڈیکس کا حصہ بن سکتا ہے۔

 انڈیکس میں پاکستان کا وزن محدود ہونے کے باوجود پاکستانی مارکیٹ کے بہتر ہوتے منظرنامے سے معیاری غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد متوجہ ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ ایم ایس سی آئی میں نے مئی 2026 کے سہ ماہی جائزے کے بعد ایکویٹی انڈیکسز میں تبدیلیوں کا اعلان کردیا ہے۔ تمام تبدیلیاں 29 مئی 2026 کی مارکیٹ بندش کے بعد نافذ العمل ہوں گی۔

اس جائزے کے نتیجے میں ایم ایس سی آئی فرنٹیئر مارکیٹس انڈیکس میں 5 نئی شمولیتیں اور 8 اخراج ہوئے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے انڈیکس میں ایک کمپنی کا اخراج جبکہ ایک کی شمولیت ہوئی ہے۔ اس طرح انڈیکس میں پاکستانی کمپنیوں کی مجموعی تعداد 29 پر برقرار رہی ہے۔ دوسری جانب چھوٹی کمپنیوں کے انڈیکس ایم ایس سی آئی فرنٹیئر مارکیٹس اسمال کیپ انڈیکس میں 25 نئی شمولیتیں ہوئیں جن میں پاکستان کی 3 کمپنیاں شامل ہیں جبکہ دنیا بھر سے 19 کمپنیوں کو خارج کیا گیا جن میں ایک پاکستانی کمپنی بھی شامل ہے۔

ایم ایس سی آئی نے حبیب میٹرو بینک کو انڈیکس میں شامل کیا جبکہ دی سرل کمپنی کو تنزلی کے بعد انڈیکس سے باہرکر دیا گیا۔ اس طرح انڈیکس میں پاکستانی کمپنیوں کی تعداد 29 برقرار رہی۔

اس کے نتیجے میں پاکستان کا وزن 7.5 فیصد برقرار رہا جو اکتوبر 2025 میں 7.7 فیصد تھا۔ اگرچہ حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث کے ایس ای-100 انڈیکس دباؤ کا شکار رہا۔

ایم ایس سی آئی نے اپنے جائزے کے تحت پاکستان کی تین کمپنیوں کو اسمال کیپ انڈیکس میں شامل کیا ہے۔  جن میں ایک کمپنی تنزلی کے باعث شامل ہوئی ہے جبکہ ایک کمپنی کو خارج کردیا گیا۔

اس کے بعد ایم ایس سی آئی اسمال کیپ انڈیکس میں پاکستانی کمپنیوں کی تعداد بڑھ کر 78 ہوگئی جبکہ وزن تقریباً 10.2 فیصد رہا ہوگیا جو اکتوبر 2025 میں تقریباً 11.3 فیصد تھا۔

کریسنٹ ٹیکسٹائل ملز، ہائی نون لیبارٹریزاور سرل کمپنی کو انڈیکس میں شامل کیا گیا جبکہ مری بریوری کو انڈیکس سے خارج کردیا گیا۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین