جمعرات, مئی 28, 2026
ہومبزنسسرپرست اعلیٰ یو بی جی ایس ایم تنویر نے انڈی کیٹو سسٹم...

سرپرست اعلیٰ یو بی جی ایس ایم تنویر نے انڈی کیٹو سسٹم پلان مسترد کردیا

40ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اورطلب کم ہو کر 28ہزار میگاواٹ رہ گئی ہے

کراچی(25مئی2026) یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سرپرستِ اعلیٰ اور سابق نگران صوبائی وزیر ایس ایم تنویر نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) پر زور دیا ہے کہ وہ انڈی کیٹو سسٹم پلان (آئی ایس پی) 2025-35 کو مسترد کرتے ہوئے اس خامیوں سے بھرپور توانائی منصوبے کو ازسرِنو ترتیب دے۔اپنے ایک بیان میں ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی 40,000 میگاواٹ نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جبکہ ملک میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب کم ہو کر 28,000 میگاواٹ رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل تین برسوں سے گرڈ کی طلب میں کمی آرہی ہے اور صارفین 45 گیگاواٹ سے زائد نجی سولر پینلز نصب کرچکے ہیں، اس کے باوجود مزید 26,043 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی تجویز ناقابلِ فہم ہے۔ایس ایم تنویر نے خبردار کیا کہ "57 ارب ڈالر کی نئی بجلی پیداوار اور ترسیلی انفراسٹرکچر ایک پہلے سے بوجھ تلے دبی ہوئی گرڈ پر مزید بوجھ ڈالے گا، یہ بحران کا حل نہیں بلکہ اسے مزید سنگین بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بجلی کے ہر بل کا 52.6 فیصد صرف کپیسٹی چارجز کی مد میں وصول کیا جارہا ہے۔ تنویر کے مطابق انڈیپنڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کی دستاویز کے سیکشن 6.2.4 میں خود اعتراف کیا گیا ہے کہ یہ نیا منصوبہ بجلی کے نرخوں کو تاریخ کی بلند ترین اور ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچا دے گا۔مزید برآں، ترسیلی نظام کی کمزوریوں کے باعث پیدا ہونے والی بجلی کا 18 سے 20 فیصد ضائع ہوجاتا ہے۔ تنویر نے کہا کہ اگر ان نقصانات کو عالمی معیار یعنی 10 فیصد تک کم کردیا جائے تو سالانہ 19,000 گیگاواٹ آور بجلی بچائی جاسکتی ہے، جس سے بغیر کسی اضافی سرمایہ کاری کے 570 ارب روپے سے زائد کی بچت ممکن ہوگی۔سپرست اعلیٰ یو بی جی نے پلاننگ ماڈل "PLEXOS” پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشا اور داسو جیسے بڑے منصوبوں کو "مسٹ رن” قرار دے کر پہلے ہی شامل کردیا گیا ہے، جس سے حقیقی لاگت کے مطابق منصوبہ بندی کا عمل متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے واپڈا کے منصوبوں میں تاریخی لاگت میں اضافے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیلم جہلم منصوبے کی لاگت میں 3,300 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت بڑھ کر تقریباً 2,400 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔اگرچہ انہوں نے ڈیموں اور جوہری توانائی کو طویل المدتی خودمختاری کے لیے اہم قرار دیا، تاہم مطالبہ کیا کہ ان منصوبوں کی بجلی لاگت پر سخت حد مقرر کی جائے۔ایس ایم تنویر نے زور دیا کہ کسی بھی اضافی لاگت کا بوجھ عوام کے بجلی بلوں پر ڈالنے کے بجائے حکومت اپنے پی ایس ڈی پی کے ذریعے برداشت کرے۔انکا کہنا تھا کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور یو بی جی کا مو ¿قف ہے کہ بجلی کے نرخ موجودہ 33.38 روپے (12 سینٹ) فی یونٹ سے کم ہوکر عالمی سطح کے مطابق 9 سینٹ تک لائے جائیں، جبکہ 2035 تک اسے 6 سینٹ فی یونٹ تک محدود کیا جائے۔ایس ایم تنویر نے وزیراعظم اور نیپرا سے مطالبہ کیا کہ آئی ایس پی 2025 (آئی جی سی ای پی + ٹی ایس ای پی) کو واپس بھیجا جائے اور اس میں درست طلب کے اعدادوشمار، فی یونٹ لاگت کی شفاف تفصیلات، اور واپڈا منصوبوں کی لاگت میں اضافے پر لازمی حد مقرر کی جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری صنعت تباہی کے دہانے پر ہے اور برآمد کنندگان عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہے، پاکستان ایسا منصوبہ برداشت نہیں کرسکتا جو خود اس کی مالی تباہی کا سبب بنے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین